کرینہ کے مطابق پولیس نے خاندان کو بتایا تھا کہ ملزم اپنی ماں کے آپریشن کے لئے ایک کروڑ چاہتا تھا؛ سیف معافی پر آمادہ تھے، مگر کرینہ اب بھی انصاف اور شوہر کے درد کے سوال سے الجھی ہوئی ہیں۔
EPAPER
Updated: September 20, 2026, 10:13 PM IST | Mumbai
کرینہ کے مطابق پولیس نے خاندان کو بتایا تھا کہ ملزم اپنی ماں کے آپریشن کے لئے ایک کروڑ چاہتا تھا؛ سیف معافی پر آمادہ تھے، مگر کرینہ اب بھی انصاف اور شوہر کے درد کے سوال سے الجھی ہوئی ہیں۔
کرینہ کپور نے جنوری ۲۰۲۵ء میں سیف علی خان پر ان کے باندرہ واقع گھر میں ہونے والے چاقو حملے کے بعد خاندان کے جذبات اور ردعمل کے بارے میں پہلی بار تفصیل سے بات کی ہے۔ برکھا دت کے یوٹیوب پروگرام ’موجو اسٹوری‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کرینہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے تیمور نے سیف سے حملہ آور کو معاف کرنے کے لئے کہا تھا۔ ان کے مطابق سیف بھی ملزم کو معاف کرنے کے حق میں تھے۔ کرینہ نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ کسی نے سوچا ہوگا کہ ایسا کچھ ہوسکتا ہے۔ انصاف ہر شخص کے لئے مختلف ہوتا ہے۔ میرے بیٹے ٹم اور سیف دونوں کا ماننا تھا کہ اسے معاف کردینا چاہیے۔ دراصل ٹم نے ہی سیف سے کہا تھا، ’ابا، اسے معاف کردو۔‘‘‘
یہ بھی پڑھئے:حیدرآباد: عمر خالد پر دستاویزی فلم کی نمائش منسوخ، سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر اعتراض
کرینہ کے مطابق خاندان کو بعد میں پولیس اہلکار کے ذریعے مبینہ طور پر حملہ آور کے مقصد کے بارے میں بتایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بتایا کہ ملزم پیسوں کی تلاش میں تھا اور اس نے گھر کی آیا کو بھی کہا تھا کہ اسے ایک کروڑ درکار ہیں۔ کرینہ نے کہا کہ ملزم کے مطابق وہ یہ رقم اپنی ماں کے آپریشن کے لئے بھیجنا چاہتا تھا۔ کرینہ نے بتایا، ’’ایک پولیس اہلکار گھر آیا اور ہمیں بتایا کہ وہ پیسوں کی تلاش میں تھا۔ اس نے گھر کی آیا سے بھی یہی کہا تھا کہ اسے ایک کروڑ چاہیے۔ اس نے کہا تھا کہ وہ یہ رقم اپنی ماں کو بھیجنا چاہتا ہے، کیونکہ اس کی ماں کو آپریشن کی ضرورت تھی۔‘‘ کرینہ کے مطابق یہی پس منظر جاننے کے بعد تیمور نے اپنے والد سے کہا، ’’اسے معاف کردو۔‘‘
تاہم کرینہ کے لئے معاملہ اتنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیف کو حملے میں شدید جسمانی تکلیف برداشت کرنا پڑی اور اس واقعے کے بعد انصاف کے سوال نے انہیں مسلسل الجھن میں رکھا۔ کرینہ نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ سیف نے تکلیف برداشت کی، تو پھر میں اس کے لئے انصاف کیسے حاصل کروں؟ وہ درد جو میں نے اتنے عرصے تک محسوس کیا، اس کا کیا؟ اس لئے یہ سب بہت پیچیدہ ہے۔‘‘ یاد رہے کہ سیف پر حملہ ۱۶؍ جنوری ۲۰۲۵ء کی علی الصباح ہوا تھا، جب ایک شخص مبینہ طور پر باندرہ میں واقع ان کے گھر میں داخل ہوا۔ حملے میں سیف کو متعدد چاقو کے زخم آئے، جن میں ریڑھ کی ہڈی کے قریب ایک سنگین زخم بھی شامل تھا۔ انہیں فوری طور پر لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی سرجری ہوئی اور چند روز بعد انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:مجھے انہوں نے نہیں بلایا تھا: داؤد ابراہیم کے ساتھ تصویر پر مند اکنی کی وضاحت
اس واقعے کے قانونی معاملے میں بھی حالیہ دنوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ممبئی کی ایک سیشن عدالت نے ملزم محمد شریف الاسلام کی جانب سے جرم قبول کرنے کی درخواست مسترد کردی اور مقدمے کی سماعت آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے شواہد ریکارڈ کرنے کے لئے ۲۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ملزم نے ۱۴؍ اگست کو الزامات عائد کیے جانے کے وقت جرم سے انکار کیا تھا، جبکہ بعد میں اس نے جرم قبول کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ پولیس کے مطابق محمد شریف الاسلام پر مسلح ڈکیتی کی کوشش، شدید چوٹ پہنچانے اور گھر میں غیر قانونی داخلے سمیت مختلف الزامات عائد ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی شہریوں سے متعلق قوانین کے تحت بھی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ملزم کے وکیل نے پہلے الزامات کی تردید کی تھی، جبکہ بعد میں ملزم کی جانب سے جرم قبول کرنے کی خواہش سامنے آئی۔
حملے کے ایک سال سے زیادہ عرصے بعد بھی سیف نے حال ہی میں بتایا تھا کہ وہ اس واقعے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ چاقو دیکھنے پر آج بھی ان کے اندر فوری ردعمل پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح کرینہ کی تازہ گفتگو میں سامنے آنے والی معافی، انصاف اور تکلیف کی کشمکش اس واقعے کے خاندانی اور قانونی دونوں پہلوؤں کو دوبارہ زیر بحث لے آئی ہے۔