سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے غیر مصدقہ فلم کی عوامی نمائش کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا؛ ادارے نے کہا کہ نمائش کی اجازت نہیں لی گئی تھی، طلبہ نے پروگرام منسوخ کردیا۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 5:08 PM IST | Hyderabad
سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے غیر مصدقہ فلم کی عوامی نمائش کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا؛ ادارے نے کہا کہ نمائش کی اجازت نہیں لی گئی تھی، طلبہ نے پروگرام منسوخ کردیا۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، حیدرآباد میں زیرحراست کارکن عمر خالد پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’پریزنر نمبر 626710 اِز پریزنٹ‘ کی مجوزہ نمائش منسوخ کردی گئی۔ یہ پیش رفت سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے اعتراض کے بعد ہوئی۔ بورڈ نے کہا کہ ایسے کسی بھی دستاویزی فلم کی عوامی نمائش، جسے ابھی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا، سنیماٹوگراف ایکٹ کے تحت خلاف ورزی ہے، جب تک قانون کے تحت خصوصی استثنا حاصل نہ کیا گیا ہو۔ فلم کی نمائش ۱۸؍ ستمبر کو رات ۸؍ بجے ادارے کے کے آر بی آڈیٹوریم میں ایک طلبہ گروپ کی جانب سے کیے جانے کی تجویز تھی۔ فلم کے ہدایت کار للت واچانی ہیں۔ پروگرام کو سیاسی قیدیوں کے دن اور عمر خالد کی گرفتاری کے ۶؍ سال مکمل ہونے کے تناظر میں منعقد کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ دعوت نامے میں انقلابی رہنما جتندر ناتھ داس کی برسی کا بھی حوالہ دیا گیا تھا، جو ۱۹۲۹ء میں لاہور جیل میں طویل بھوک ہڑتال کے بعد انتقال کر گئے تھے۔
سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے ۱۷؍ ستمبر کو سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ غیر مصدقہ دستاویزی فلم کی عوامی نمائش قانون کی خلاف ورزی ہے اور ادارے کے حکام ’’ضروری کارروائی‘‘ پر توجہ دیں۔ بورڈ نے اپنی پوسٹ میں فلم کے کسی مخصوص منظر، مکالمے یا مواد کو اعتراض کی وجہ قرار نہیں دیا؛ اس کا بیان بنیادی طور پر فلم کے سرٹیفکیٹ نہ ہونے اور عوامی نمائش سے متعلق قانونی تقاضے پر مرکوز تھا۔ اس کے بعد ادارے کے ڈائریکٹر سندیپ کمار شکلا نے طلبہ کو ای میل بھیجی کہ نمائش اور آڈیٹوریم کی بکنگ منسوخ کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی کسی بھی جگہ، بشمول لیبارٹری، کلاس روم یا دفتر میں، غیر مصدقہ فلم کی عوامی یا نجی نمائش کی اجازت نہیں ہوگی۔ ڈائریکٹر کے مطابق فلم کی نمائش کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت نہیں لی گئی تھی، اس لیے کیمپس یا بیرونی لوگوں میں اس پروگرام کا اعلان ’’معتبر‘‘ نہیں تھا۔
تاہم ادارے نے بعد میں اس معاملے سے اپنے رسمی انتظامی کردار کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ نہ ادارے نے اور نہ ہی اس کے کسی تسلیم شدہ طلبہ کلب، سیل یا تنظیم نے غیر مصدقہ فلم کی نمائش کا اہتمام کیا تھا۔ ادارے نے کہا کہ طلبہ اور اساتذہ اپنی انفرادی حیثیت میں مختلف لوگوں سے ملاقات یا رابطہ کرسکتے ہیں، لیکن ایسی ذاتی سرگرمیوں کو ادارے کی جانب سے منعقدہ پروگرام یا ادارے کے موقف کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ واقعہ اسی دستاویزی فلم کی بنگلورو میں واقع نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی میں مجوزہ نمائش کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ وہاں ۱۴؍ ستمبر کو ہونے والی نمائش کو طلبہ کی تنظیم نے ’’انتظامی اور سیکوریٹی وجوہات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ملتوی کردیا تھا۔ یہ پروگرام یونیورسٹی کی طلبہ تنظیم لا اینڈ سوسائٹی کمیٹی نے منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، جبکہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے نمائش کی مخالفت کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ کیمپس کو سیاسی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ طلبہ کمیٹی نے کہا تھا کہ پروگرام کو بعد میں منعقد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانوی گلوکارہ پالوما فیتھ نے ایڈ شیران کی ’سیاسی غیر جانبداری‘ پر سوال اٹھایا
’پریزنر نمبر 626710 اِز پریزنٹ‘ عمر خالد کی گرفتاری اور ان کے خلاف جاری مقدمے کے پس منظر کو موضوع بناتی ہے۔ عمر خالد، جو جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طلبہ رہنما اور محقق رہے ہیں، کو ستمبر ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں فروری ۲۰۲۰ء کے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون سمیت دیگر دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت اب تک شروع نہیں ہوئی۔ خالد ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ فروری ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے تشدد میں ۵۳؍ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ یہ تشدد شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کی آڑ میں ایک بڑی سازش کا حصہ تھا۔ دوسری جانب خالد اور دیگر ملزمان کے معاملے میں طویل زیرحراست رہنے اور مقدمے کی سماعت شروع نہ ہونے پر مختلف حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان متنازع دعوؤں اور قانونی نکات کو عدالت میں زیرِسماعت معاملے کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔