سینماکے مایہ ناز فلمساز تارا چند بڑجاتیاکا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نےخاندانی اور صاف ستھری فلمیں بنا کر تقریباً ۴؍دہائیوں تک شائقینِ سینما کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 12:43 PM IST | Mumbai
سینماکے مایہ ناز فلمساز تارا چند بڑجاتیاکا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نےخاندانی اور صاف ستھری فلمیں بنا کر تقریباً ۴؍دہائیوں تک شائقینِ سینما کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔
سینماکے مایہ ناز فلمساز تارا چند بڑجاتیاکا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نےخاندانی اور صاف ستھری فلمیں بنا کر تقریباً ۴؍دہائیوں تک شائقینِ سینما کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔
فلمی دنیا میں ’سیٹھ جی‘کےنام سے مشہور عظیم پروڈیوسر تارا چندبڑجاتیا کی پیدائش ۱۰؍مئی ۱۹۱۴ءکو راجستھان کے ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔ انہوں نےاپنی گریجویشن کولکتہ کےودیا ساگر کالج سے مکمل کی۔ ان کے والدانہیں بیرسٹر بنانا چاہتے تھے، لیکن گھریلومالی حالات کی وجہ سے انہیں تعلیم بیچ میں ہی چھوڑنی پڑی۔
۱۹۳۳ءمیں وہ ملازمت کی تلاش میں ممبئی پہنچے اور ایک فلم ڈسٹری بیوشن کمپنی ’موتی محل تھیٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ‘ سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں ان کی تنخواہ محض۸۵؍ روپےتھی۔ ۱۹۳۹ءمیں ان کی محنت سے خوش ہو کر کمپنی نےانہیں جنرل منیجر بناکر مدراس (چنئی) بھیج دیا۔ وہاں انہوں نےکئی پروڈیوسرز سے ملاقاتیں کیں اور اپنی کمپنی کے لیے فلموں کی تقسیم کے حقوق حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھئے: انوشکا شرما کی ’’چکدا ایکسپریس‘‘ بن کر تیار ہے، پھر ریلیز کیوں نہیں ہو رہی؟
موتی محل تھیٹرزکے مالک نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتےہوئے انہیں خود کی ڈسٹری بیوشن کمپنی شروع کرنےکامشورہ دیا اور مالی مدد کا وعدہ بھی کیا۔ چنانچہ ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کو، ہندستان کی آزادی کے دن، انہوں نے’راج شری‘ کے نام سے اپنی تقسیم کار کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ان کی خریدی گئی پہلی فلم جیمنی اسٹوڈیو کی’چندر لیکھا‘ تھی، جو سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ فلم سازی کے میدان میں انہوں نے ۱۹۶۲ء میں فلم ’آرتی‘ سےقدم رکھا۔ اس فلم کی کامیابی نے انہیں بطورپروڈیوسرانڈسٹری میں مستحکم کر دیا۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہےکہ اس فلم کے لیے اداکار سنجیو کمار نے اسکرین ٹیسٹ دیا تھا، لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ تارا چند بڑجاتیا ہمیشہ محسوس کرتے تھے کہ نئے فنکاروں کو فلم انڈسٹری میں مواقع نہیں ملتے۔ انہوں نےعہد کیا کہ وہ اپنی فلموں کے ذریعے نئے ٹیلنٹ کو متعارف کروائیں گے۔
۱۹۶۴ءمیں فلم ’دوستی‘بنائی جس نے نہ صرف کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے بلکہ اداکار سنجے خان کےکریئر کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس فلم کا گیت ’چاہوں گا تجھے میں سانجھ سویرے‘ آج بھی مقبول ہے۔ انہوں نے کئی بڑے ستاروں کو بریک دیا، جن میں سچن اور ساریکا (گیت گاتا چل)، امول پالیکر اور زرینہ وہاب (چت چور)، رنجیتا (انکھیوں کے جھروکوں سے)، راکھی (جیون مرتیو)، ارون گوول (ساون کو آنے دو) اور سلمان خان و بھاگیہ شری (میں نے پیار کیا) شامل ہیں۔
تارا چند بڑجاتیا کو ان کی بہترین فلموں کے لیے دو بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ تقریباً ۴؍دہائیوں تک ناظرین کو معیاری تفریح فراہم کرنے والا یہ عظیم فلمساز ۲۱؍ستمبر ۱۹۹۲ءکو اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔