مقامی کارپوریٹر کامیونسپل کمشنر اور تحصیلدار سے تالاب کو تجاوزات سے پاک کرنے کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 12:11 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
مقامی کارپوریٹر کامیونسپل کمشنر اور تحصیلدار سے تالاب کو تجاوزات سے پاک کرنے کا مطالبہ۔
کھاڑی کے قریب موجود بھٹالے تالاب پر لینڈ مافیا نے قبضہ کر کے اسے ختم کر دیا ہے۔ اس معاملے میں ۲۰۱۷ء میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کو ٹی ایل آر (تعلقہ لینڈ رپورٹ) پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس حکم پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ مقامی کارپوریٹر امیت دھاکرس نےمیونسپل کمشنر اور کلیان تحصیلدار سے مطالبہ کیا ہے کہ ان احکامات پر فوری عمل کرتے ہوئے بھٹالے تالاب کو تجاوزات سے پاک کیا جائے اور اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق قدیم بھٹالے تالاب شہر کی آبی ضرورتوں اور ماحولیاتی حسن کا ضامن رہا ہےلیکن گزشتہ چند برسوں میں چند مفاد پرستوں نے اسے مٹی سے بھر کر اس کے بڑے حصے پر غیر قانونی قبضے کر لئے ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تالاب کی جگہ پر بھینسوں کے طویلے اور دیگر عارضی دکانیں قائم ہو چکی ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے افسران نے ۱۹۹۶ ءکے توسیعی ترقیاتی منصوبے( ڈی پی ) میں اس تالاب کو نقشے سے غائب کر کے یہاں پارکنگ کی ریزرویشن دکھا دی تھی تاہم عوامی احتجاج اور سابق کارپوریٹر سچن باسرے کی کوششوں سے حکومت نے دوبارہ اسے تالاب کے طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: قدرتی نالہ بند کرنے سے زرعی زمینوں کو شدید نقصان
کارپوریٹر امت دھاکرس نے اپنی درخواست میں نشاندہی کی ہے کہ شہر کے دیگر تالابوں جیسے کالا تالاب اور گوری پاڑا کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن بھٹالے تالاب کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں شہر کے دوسرے تالابوں کو اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت سنوارا جا رہا ہے وہیں بھٹالے تالاب پر تجاوزات انتظامیہ کی نااہلی کا ثبوت ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سابق تحصیلدار سچن شیجال نے تجاوزات ہٹانے کیلئے نوٹس بھی جاری کئےتھے لیکن سیاسی دباؤ کی وجہ سے کارروائی ادھوری رہ گئی۔ اب اس معاملے کو دوبارہ اٹھانے پر شہریوں میں ایک امید جاگی ہے کہ شاید اب اس تالاب کے دن بدلیں گے اور یہ علاقہ ایک بار پھر خوبصورت سیاحتی مقام میں تبدیل ہو سکے گا۔