اپریل میں ۳؍ سال میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، اقوام متحدہ نے آگاہ کیا کہ قیمتیں ابھی اور بڑھیں گی، ویجیٹیبل آئل سب سے زیادہ متاثر۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 1:02 PM IST | London
اپریل میں ۳؍ سال میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، اقوام متحدہ نے آگاہ کیا کہ قیمتیں ابھی اور بڑھیں گی، ویجیٹیبل آئل سب سے زیادہ متاثر۔
اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث دنیا بھر میں غذائی اشیا کی قیمتیں مسلسل تیسرے مہینے بڑھ گئی ہیں اور اپریل۲۶ء میں یہ تین برس میں سب سے زیادہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
’ایف اے او‘کے مطابق عالمی فوڈ پرائس انڈیکس اپریل میں ۱ء۶؍ فیصد اضافے کے ساتھ ۱۳۰ء۷؍ پوائنٹس تک پہنچ گیا جو فروری۲۳ء کے بعد سب سے بلند سطح ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے خوراک کی عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ قیمتیں ابھی اور بڑھیں گی۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ ویجیٹیبل آئل کی قیمتوں میں ہوا ہے جو مارچ کے مقابلے میں ۵ء۹؍فیصد بڑھ گئیں۔ پام آئل، سویا بین، سن فلاور اور دیگر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بایو فیول کی بڑھتی مانگ اور توانائی کے بڑھتے اخراجات ہیں۔
عالمی غذائی بحران کا خطرہ
ایف اے او کے چیف اکنامسٹ میکسیمو ٹوریرو نے کہا ہے کہ’’ ایران جنگ کے باعث توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے کسانوں کی لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔ نہوں نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی۹۰؍ دنوں سے زیادہ جاری رہی تو ۲۶ء کے آخر اور ۲۷ء میں عالمی غذائی بحران کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اناج کی قیمتوں میں بھی۰ء۸؍ فیصد اضافہ ہوا، تاہم گزشتہ فصلوں کے مناسب ذخائر کے باعث صورتحال اب تک قابو میں ہے۔ دوسری جانب گوشت کی عالمی قیمتوں میں ۱ء۲؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ چینی کی قیمتوں میں ۴ء۷؍ فیصد کمی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ایف ایم سی جی کمپنیاں قیمتیں بڑھانے کی تیاری میں
گیہوں کی پیداوار متاثر ہونے کا اندیشہ
ایف اے او نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کھاد کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے دنیا بھر میں کسان اب کم کھاد استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے آئندہ برس گیہوں کی پیداوار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
ایران جنگ کو۱۰؍ ہفتے مکمل ہو چکے ہیں۔ حالانکہ اس وقت جنگ بندی ہے مگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار ہے جس کی وجہ سے مال بردار ٹینکروں کی نقل وحمل متاثر ہے۔ نتیجتاً دنیا بھر میں ڈیزل اور فرٹیلائزر (کھاد) جیسی ضروری زرعی اشیا کی ترسیل رک گئی ہے۔ کھاد اور ایندھن مہنگا ہونے سے کسانوں کیلئے کھیتی باڑی کرنا مشکل ہو رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر آنے والے وقت میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں پر پڑے گا۔
قیمتیں اور بڑھیں گی : یو این
اقوام متحدہ کے ادارہ ’ایف اے او ‘کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایگری فوڈ انڈسٹری اس وقت اس لیے بچی ہوئی ہے کہ کمپنیاں ابھی اپنا پرانا اسٹاک فروخت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ’’جیسے ہی خام مال اور توانائی کی بڑھی ہوئی لاگت کمپنیوں کے کھاتوں میں شامل ہوگی، صارفین کو مہنگائی کا شدید جھٹکا لگے گا۔ ‘‘