ملک کا پہلا ’’ٹراویلیٹر ‘‘اسکائی واک:خود کار سیڑھیوں کی طرح کام کرتا ہے، آپ کو اس پر صرف کھڑے ہوجانا ہے،۹۰؍ فیصد کام مکمل ، مونوریل، میٹرو اور لوکل ٹرین کے مسافروں کیلئے بڑی سہولت۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 12:44 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
ملک کا پہلا ’’ٹراویلیٹر ‘‘اسکائی واک:خود کار سیڑھیوں کی طرح کام کرتا ہے، آپ کو اس پر صرف کھڑے ہوجانا ہے،۹۰؍ فیصد کام مکمل ، مونوریل، میٹرو اور لوکل ٹرین کے مسافروں کیلئے بڑی سہولت۔
مہالکشمی میں ملک کا پہلا خود کاراسکائی واک بنایا جارہا ہے جس پر چلنے کی ضرورت نہیں بلکہ آگے بڑھنے کیلئے خود کار سیڑھیوں کی طرح صرف کھڑے ہوکر اس پر سفر کیا جاسکے گا۔ یہ بریج سات راستہ پر سنت گھاڈگے مہاراج چوک مونو ریل اسٹیشن، میٹرو ۳؍ اور مہالکشمی ریلوے اسٹیشن کو جوڑے گا اور اس کی ۹۰؍ فیصد تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔
’ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ (ایم ایم آر ڈی اے) نے اتوار کو بتایا کہ مونو ریل، میٹرو ۳؍ اسٹیشن اور مہالکشمی ریلوے اسٹیشن ایک دوسرے کےقریب ہیں لیکن اسٹیشنوں سے باہر نکل کر راستے کی ٹریفک وغیرہ کے درمیان سے گزر کر دوسرے اسٹیشن پر پہنچنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ جب یہ خود کار اسکائی واک تیار ہوجائے گا تو نیچے سڑک پر انسانوں کی بھیڑ، گاڑیوں کی ٹریفک اور سگنل کا سامنا کئے بغیر لوگ ایک اسٹیشن سے دوسرے پر جاسکیں گے جس سے تقریباً ۲۰؍ منٹ کی بچت ہونے کی امید ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’عوامی مقامات پر کچرا اور پلاسٹک پھینکے والوں کیخلاف کیس درج کرایا جائے‘‘
ٹراویلیٹر کیا ہوتاہے؟
ٹراویلیٹر (Travelator) خودکار راستہ ہے جو عام طورپر ہوائی اڈوں پرہوتا ہے ۔یہ ایک چلتی ہوئی پٹی (کنویئر بیلٹ) کی طرح ہوتا ہے، جس پر کھڑے ہوکر فاصلہ طے کر لیا جاتا ہے۔ مہالکشمی کنیکٹر میں ایسے ۶؍ٹراویلیٹر ہوں گے۔
پروجیکٹ کی خصوصیات
*یہ تقریباً ۲۸۳؍ میٹرو طویل اسکائی واک ہے جو مونو، میٹرو اور لوکل ٹرین کے اسٹیشنوں کو جوڑیگا۔
*مسافروں کی سہولت کے مدنظر آمدورفت کیلئے اس کی چوڑائی ۱۱؍ میٹر رکھی گئی ہے۔
*اس پر ۶؍ ٹراویلیٹر ہوں گے جن کی مجموعی طوالت ۱۷۶؍ میٹر ہوگی۔
*اسکائی واک پر جانے کیلئے ۲؍ لفٹ بھی نصب کی جارہی ہیں۔
*اس سے فی گھنٹہ ساڑھے ۴؍ ہزار مسافر گزرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: سائبر فراڈ کے متاثرہ کو رقم حاصل کرنے کیلئے بینک گارنٹی دینے کی ضرورت نہیں
آمدورفت کے ۳؍ ذرائع کو جوڑیگا
اس پروجیکٹ کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ آمدورفت کے جن ۳؍ ذرائع کو جوڑے گا وہ الگ الگ سرکاری محکموں کے ماتحت ہیں۔ اس کی تعمیر ایم ایم آر ڈی اے کررہا ہے۔ امید ہے کہ اس اسکائی واک سے بہت سے افراد نجی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو ترجیح دینے لگیں گے۔