Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیکس دہندگان کیلئے آسانیاں پیدا کرنے حکم

Updated: July 27, 2026, 1:05 PM IST | Mumbai

وزیر مالیات نے عام شہریوں کی پریشانی کا اعتراف اور افسران کی سست روی پر مایوسی کا اظہار کیا، ہدایت دی کہ لوگوں کو در در بھٹکنے پر مجبور نہ کریں۔

Nirmala Sitharaman at the inauguration of the `Ikar Sindhu` building (PTI)
نرملا سیتارمن’’آئیکر سندھو‘‘ عمارت کےافتتاح کے موقع پر (پی ٹی آئی)

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اتوارکو محکمہ انکم ٹیکس کے افسران کو ہدایت دی  کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عام لوگوں کو ’’در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔‘‘ انہوں نے سرکاری محکموںمیں سست روی پر مبنی طرزِ عمل پر مایوسی کا اظہار کرتےہوئے انکم ٹیکس محکمہ کے افسران کو انتظامی امور میں دیانت داری اور موثر خدمات کے فروغ کی تلقین کی ۔

یہ کبھی پڑھئے: ہند امریکہ تجارتی معاہدہ کی جلد تکمیل کی کوشش پھر تیز

نریمن پوائنٹ(ممبئی) میں۱۳؍منزلہ ’’آئیکر سندھو‘‘ عمارت کےافتتاح  کے موقع پر سرکاری محکموں کے کام کاج پر تنقید کرتے ہوئے   سیتا رمن نے نشاندہی کی کہ خود محکمہ انکم ٹیکس کو  ایک سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود، اس منصوبہ (آئیکر سندھو)کیلئے مختلف منظوریوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔انہوں نے افسران  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ تجربہ آپ کو اس بات کا احساس دلائے گا کہ جب ایک عام شہری آپ کے پاس آتا ہے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ جہاں آپ کے اختیار کی ضرورت ہو، وہاں لوگوں کو در در کی ٹھوکریں نہ کھانے دیں، بلکہ ان کا کام انجام دیں۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ افسران  ضوابط کی خلاف ورزی نہ کریں لیکن  اس بات کو  بھی یقینی بنائیں کہ شہریوں کو ان کا جائز حق غیر ضروری تاخیر کے بغیر مل جائے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ۱۰؍ فیصد اضافی ٹیرف ،کپڑاصنعت کو جھٹکا

انکم ٹیکس افسران کی رہائش کا مسئلہ

سیتا رمن نے افسران کو یقین دلایا کہ وہ ممبئی اور نوی ممبئی میں انکم ٹیکس افسران کیلئے سرکاری رہائش گاہوں کی کمی کے مسئلے پر بھی توجہ دیں گی، کیونکہ بہت سے افسران کو اپنے دفاتر پہنچنے کیلئے  طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سرکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل کا ذکر کرتے ہوئے افسران سے کہا کہ وہ سرکاری استعمال کیلئے اس کی زمین حاصل کرنے کی کوشش کریں اور کہا کہ وہ اس معاملہ پر متعلقہ وزیر سے بھی بات کریں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK