• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جانی واکر کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ فلمساز اُن پر نغمہ فلمانے کی شرط رکھنے لگے تھے

Updated: August 01, 2023, 3:37 PM IST | Mumbai

ان کے مزاح میں ایک الگ ہی قسم کی بے ساختگی ہوتی تھی،فلم’ مدھو متی‘ کے ایک منظر میں وہ درخت پر اُلٹا لٹک کر بتاتے ہیں کہ دنیا ہی الٹ گئی ہے جسے ناظرین آج تک نہیں بھولے ہیں

Along with comedy, Johnnie Walker has played the lead role in 10-12 films
جانی واکر نے مزاحیہ اداکاری کے ساتھ ہی ۱۰۔۱۲؍ فلموں میں مرکزی کردار بھی ادا کیا ہے

ہندوستانیفلم انڈسٹری میں اپنی بہترین اور زبردست  مزاحیہ  اداکاری سے ناظرین کے دلوں میں گدگدی پیدا کرنے والے، ہنسی کے  شہنشاہ  جانی واکر کو بطور اداکار اپنے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے بس کنڈکٹر کی نوکری بھی کر نی پڑی تھی۔ ان کی پیدائش  مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں۱۱؍نومبر۱۹۲۰ءکو ایک متوسط مسلم  خاندان میں ہوئی تھی۔  ان کا حقیقی نام بد ر الدین جمال الدین قاضی عرف جانی تھا۔ انہیں بچپن  ہی سے اداکار بننے کا شوق تھا۔ ۱۹۴۲ءمیں ان کا خاندان ممبئی آ گیا ۔ یہاں ان کے والد کے ایک دوست پولس انسپکٹر تھے جن کی سفارش پر انہیں بس کنڈکٹر کی نوکری مل گئی۔یہ نوکری پاکروہ کافی خوش ہوگئے کیونکہ انہیں مفت میں ہی پوری ممبئی گھومنے کا موقع مل گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہیں ممبئی کے فلم اسٹوڈیو میں بھی جانے کا موقع مل جایا کرتا تھا۔ان کا بس کنڈکٹری کرنے کا انداز بھی کافی دلچسپ تھا۔ وہ اپنے خاص انداز میں آ واز لگاتے ’’ماہم والے پسنجر اُتر نے کو ریڈی ہوجاؤ لیڈیز لوگ پہلے۔‘‘
 تقریباً۷۔۸؍ مہینے کی جدوجہد کے بعد جانی واکر کو فلم ’ آ خری پیمانے‘  میں ایک چھوٹا سا رول ملا۔ اس فلم میں انہیں۸۰؍روپے اُجرت ملی جبکہ بطور بس کنڈکٹر انہیں پورے ماہ کیلئے صرف۲۶؍روپے ہی ملا کرتے تھے لیکن فلموں کی تلاش کے ساتھ ہی وہ اپنی ملازمت بھی جاری  رکھے ہوئے  تھے۔ایک دن ان کی ملاقات اپنے دور کے ممتاز اداکار بلراج ساہنی  سے ہوئی جو اُن کی بس میں سفر کر رہے تھے۔ وہ جانی واکر کے خوش مزاجی اور دلچسپ انداز سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں گرودت سے ملنے کی صلاح دی  جو ان دنوں فلم ’بازی‘  بنارہے تھے۔ گرودت اسے ان کی ملاقات کس انداز میں ہوئی، وہ ایک دلچسپ قصہ ہے۔ اس ملاقات سے خوش ہوکر انہوں نے ان کو اپنی فلم بازی میں کام کرنے کا موقع  دےدیا۔ یہ فلم۱۹۵۱ءمیں ریلیز  ہوئی۔ اس کے بعد جانی واکر بطور مزاحیہ اداکار اپنی  شناخت بنانے میں کامیاب رہے اور گرودت کے پسندیدہ اداکاروں میں شامل ہوگئے۔بعد ازاں انہوں نے گرو دت کی کئی فلموں میں کام کیا جن میں آر پار، مسٹر اینڈ مسز ۵۵،پیاسا، چودھویں کا چاند اور کاغذ کے پھول جیسی سپر ہٹ فلمیں شامل ہیں۔
 نوکیتن کے بینر تلے بنی فلم ٹیکسی ڈرائیور میں جانی واکر کے کردار کا نام ’مستانہ‘تھا۔کئی دوستوں نے انہیں اپنا فلمی نام مستانہ رکھنے کی صلاح دی لیکن جانی واکر کو یہ نام پسند نہیں آیا اور انہوں نے اس زمانے کی مشہورشراب کمپنی ’جانی واکر‘  کے نام پر اپنا نام جانی واکر رکھ لیا۔فلم کی کامیابی کے بعد گرودت نے خوش ہوکر  انہیں تحفے میں ایک کار دی۔گرودت کی فلموں کے علاوہ جانی واکر نے ٹیکسی ڈرائیور، دیو داس، نیا انداز،چوری چوری، مدھومتی، مغل اعظم، میرے محبوب،بہو بیگم اور میرے حضور جیسی کئی سپر ہٹ فلموں میں اپنی  اداکاری سے ناظرین محظوظ کیا ۔
 ۱۹۵۶ءمیں گرودت کی فلم سی آ ئی ڈی میں ان پر فلمایا  نغمہ ’ اے دل ہے مشکل جینا یہاں،ذرا ہٹ کے ذرا بچ کے یہ ہے ممبئی میری جاں‘ نے پورے ملک میں دھوم مچا دی تھی۔ اس بعد ہر فلم میں  ان پر  ایک نغمہ ضرور فلمایا جا تا تھا یہاں تک کہ اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے فائننسر اور پروڈیوسر کی بھی  یہ شرط ہوتی تھی کہ فلم میں جانی واکر پر ایک گیت ضرور ہونا چاہئے۔ان پر فلمائے نغمے فلم نیا دور کا ’’میں بمبئی کا بابو‘‘ مدھومتی کا ’’جنگل میں مور ناچا کسی نے نہ دیکھا‘‘ فلم مسٹر اینڈ مسز۵۵؍  کا  ’’ جانے کہاں میرا جگر گیا جی‘‘  فلم  پیاسا کا   ’’سر جو تیرا چکرائے یا دل ڈوبا جائے‘‘  فلم چودھویں کا چاند کا نغمہ ’’میرا یار بنا ہے دولہا ‘‘بھی ناظرین میں کافی مقبول ہوئے۔ جانی واکر پر فلمائے گئے زیادہ تر نغمے محمد رفیع کی آ واز میں ہیںلیکن فلم ’بات ایک رات کی‘ میں ان پر فلمایا نغمہ ’’کس نے چلمن سے مارا نظارہ مجھے‘‘  میں منا ڈے کی آواز تھی۔
 جانی واکر نے تقریباً۱۰۔۱۲؍ فلموں میں بطور ہیرو بھی کام کیا ہے ۔بطور ہیرو اُن کی  پہلی فلم ’پیسہ یہ پیسہ‘ تھی جس میں انہوں نے تین  مختلف کردار ادا کئے  تھے۔ اس کے بعد ان کے نام پر فلم ڈائرکٹر وید موہن نے۱۹۶۷ءمیں جانی واکر‘ بنائی تھی۔ ان کے مزاح میں ایک ہی قسم کی بے ساختگی ہوتی تھی۔۱۹۵۸ء میں منظر عام پر آنے والی فلم مدھو متی کے  ایک منظر میں وہ درخت پر الٹا لٹک کر بتاتے ہیں کہ دنیا ہی الٹ گئی ہے جسے ناظرین آج تک  نہیں بھولے ہیں۔اس فلم کیلئے انہیں بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ۱۹۶۸ءمیںریلیز فلم ’شکار‘ کیلئے انہیں بہترین مزاحیہ اداکارکے فلم فیئر ایوار ڈ سے نوازا گیا تھا۔ 
 ساتویں دہائی میں  انہوں نے فلموں میں کام کرنا کافی کم کر دیا تھا کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ فلم میں کامیڈی کی سطح میں کافی گراوٹ آ گئی ہے۔ اسی دوران رشی کیش مکھرجی کی فلم’آنند‘ میں انہوں  نے ایک چھوٹا سا رول نبھایا جس کے ایک منظر میں وہ راجیش کھنہ کو زندگی کا ایک ایسا سبق دیتے ہیںجس سےناظرین ہنستے ہنستے سنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ان کی شادی اُس وقت کی معروف اداکارہ  شکیلہ کی بہن نور جہاں سے ہوئی۔ نور جہاں بھی اس وقت فلموں میں اداکاری کیا کرتی تھیں۔ ان کی تین بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ 
 یہ عظیم مزاحیہ اداکار۲۹؍جولائی۲۰۰۳ءکو اس دنیا  کو الوداع کہہ گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK