• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، مذاکرات میں ’’دباؤ‘‘ کی حکمتِ عملی

Updated: February 14, 2026, 8:07 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں ’’مشکل‘‘ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور تعطل ختم کرنے کے لیے دباؤ یا خوف کی فضا ضروری ہو سکتی ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے حوالے سے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران معاہدے کے معاملے میں لچک نہیں دکھا رہا۔ شمالی کیرولینا کے فوجی اڈے فورٹ بریگ میں ایکٹیو ڈیوٹی اہلکاروں سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے معاہدہ کرنا ’’مشکل‘‘ ثابت ہو رہا ہے۔ صدر نے اپنے خطاب میں یہ عندیہ بھی دیا کہ بعض اوقات سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے دباؤ یا خوف کی فضا پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے بقول، ’’کبھی کبھی آپ کو خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی واحد چیز ہے جو صورتحال کو قابو میں لا سکتی ہے۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے صدر ٹرمپ نے سابق صدر بارک اوبامہ کے اہم فیصلے کو منسوخ کر دیا

ٹرمپ نے وضاحت کی کہ اضافی فوجی تعیناتی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو امریکہ ہر ممکن آپشن کے لیے تیار رہے۔ ان کے مطابق، واشنگٹن سفارت کاری کو جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن دفاعی تیاری کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ موقف انتظامیہ کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں بات چیت کے ساتھ ساتھ دباؤ کو بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں صدر نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے امکان پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ شاید سب سے اچھی چیز ہو سکتی ہے‘‘، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی اعلان نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ۴۷؍ برسوں سے ایران کی قیادت مذاکرات کرتی رہی ہے، مگر اس دوران خطے میں کشیدگی اور جانی نقصان جاری رہا۔
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری بات چیت کو ’’جاری مگر غیر یقینی‘‘ قرار دیا تھا۔ حالیہ پیش رفت کے تحت عمان نے دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، اس ملاقات سے تہران کو واشنگٹن کے مؤقف کی سنجیدگی کا اندازہ لگانے کا موقع ملا اور کچھ مشترکہ نکات سامنے آئے، جو سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔ اپنے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے گزشتہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک وسیع تر ڈیٹرنس حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، طاقت کا مظاہرہ بعض اوقات مخالف فریق کو سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عمران خان کی بینائی کا معاملہ: اپوزیشن کادھرنا

فورٹ بریگ کے دورے میں صدر نے خصوصی دستوں سے بھی ملاقات کی، جنہیں حالیہ بیرون ملک آپریشنز میں کردار ادا کرنے پر سراہا گیا۔ انہوں نے فوجیوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات عالمی سطح پر امریکہ کی طاقت اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم تقریر میں داخلی سیاست کا پہلو بھی نمایاں رہا۔ صدر نے اپنے ڈیموکریٹک مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ نومبر کے انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو دفاعی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، قومی سلامتی کے معاملات میں مضبوط قیادت ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK