الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق، منتخب ہونے والی ۱۶۳۸ خواتین میں سے ۸۵۱ کا تعلق کانگریس سے ہے، ۴۱۵ خواتین نمائندے بی آر ایس سے جبکہ ۱۸۴ نومنتخب خواتین نمائندے بی جے پی سے تعلق رکھتی ہیں۔
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 9:04 PM IST | Hyderabad
الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق، منتخب ہونے والی ۱۶۳۸ خواتین میں سے ۸۵۱ کا تعلق کانگریس سے ہے، ۴۱۵ خواتین نمائندے بی آر ایس سے جبکہ ۱۸۴ نومنتخب خواتین نمائندے بی جے پی سے تعلق رکھتی ہیں۔
تلنگانہ کے ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ریاست کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مردوں کے مقابلے خواتین غالب فاتح بن کر ابھری ہیں۔ تمام منتخب ہونے والے نمائندوں میں تقریباً ۵۵ فیصد خواتین ہیں۔ تلنگانہ کے میونسپلٹیز اور میونسپل کارپوریشنز میں فتح حاصل کرنے والے کل ۲۹۹۵ نمائندوں میں سے ۱۶۳۸ خواتین ہیں جبکہ فاتح مرد نمائندوں کی تعداد ۱۳۵۶ ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق، منتخب ہونے والی ۱۶۳۸ خواتین میں سے ۸۵۱ کا تعلق کانگریس سے ہے، ۴۱۵ خواتین نمائندوں کا تعلق بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) سے جبکہ ۱۸۴ نومنتخب خواتین نمائندے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھتی ہیں۔ آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیتنے والی خواتین کی تعداد ۱۱۰ ہے، جبکہ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی ۳۳ خواتین امیدوار بطور نمائندہ منتخب ہوئی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور آل انڈیا فارورڈ بلاک (اے آئی ایف بی) کی ۱۸۔۱۸ خواتین امیدواروں نے فتح حاصل کیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے ٹکٹ پر ۱۸ خواتین نے کامیابی حاصل کی جبکہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور جن سوراج پارٹی (جے ایس پی) سے ایک ایک خاتون امیدوار نمائندہ منتخب ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ملک بھر کی عدالتوں میں۴؍ کروڑ۷۶؍ لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء
کانگریس ۱۵۳۷ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی
تلنگانہ کے بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر ۱۵۳۷ نشستوں کے ساتھ کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اس کے بعد ۷۸۱ نشستوں کے ساتھ بی آر ایس دوسرے اور ۳۳۶ نشستوں کے ساتھ بی جے پی تیسرے نمبر پر ہیں۔ ۱۸۳ نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم نے ۷۰ نشستیں حاصل کیں، سی پی آئی نے ۳۸، اے آئی ایف بی نے ۳۳، سی پی ایم نے ۱۳، جبکہ جے ایس پی اور بی ایس پی نے ۲۔۲ نشستوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہیں۔
سماجی زمروں کی نمائندگی
الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق، ۵۵۳ منتخب نمائندوں کا تعلق درج فہرست طبقات (ایس سی) اور ۲۱۹ نمائندوں کا درج فہرست قبائل (ایس ٹی) زمرے سے ہے۔ ایس سی زمرے سے تعلق رکھنے والے فاتحین میں ۲۸۶ کانگریس سے، ۱۴۲ بی آر ایس سے، ۶۳ بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ۳۶ نمائندوں نے آزاد امیدوار کے طور پر فتح یاب ہوئے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے ۱۰، سی پی آئی کے ۸، اے آئی ایف بی کے ۶ اور سی پی ایم کے ۲ نمائندے ایس سی ہیں۔ ایس ٹی گروپس کے فاتح نمائندوں میں سے ۱۰۸ کانگریس سے، ۶۳ بی آر ایس سے، ۳۱ بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ۱۱ آزاد امیدوار ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے ۳، سی پی آئی کے ۲ اور اے آئی ایف بی کا ایک نمائندہ ایس ٹی زمرے سے تعلق رکھتا ہے۔
تعلیمی اور پیشہ ورانہ خاکہ
منتخب نمائندوں میں کل ۱۹۲۴ گریجویٹ اور ۱۹۴ پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ تاہم، ۳۳۴ فاتحین ’ناخواندہ‘ ہیں جن میں ۲۱۴ خواتین اور ۱۲۰ مرد نمائندے شامل ہیں۔ ان ناخواندہ نمائندوں میں کانگریس کے ۱۶۸، بی آر ایس کے ۱۰۲ اور بی جے پی کے ۲۱ امیدوار شامل ہیں۔
پیشہ ورانہ لحاظ سے، ۱۰۱۹ فاتحین نے اپنی شناخت گھریلو خواتین کے طور پر درج کی ہے، ۶۷۶ فاتحین کاروباری افراد ہیں، ۵۵۵ فاتحین ”دیگر“ زمروں میں کام کرتے ہیں اور ۶۹ نمائندے نجی ملازمین ہیں، جبکہ ۶۴۴ نمائندوں نے اپنے پیشے کی وضاحت نہیں کی۔