• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوئزرلینڈ میں آبادی کی حد پر ریفرنڈم، ۱۴؍ جون کو عوامی ووٹ

Updated: February 14, 2026, 9:04 PM IST | Geneva

سوئس فیڈرل کونسل نے اعلان کیا ہے کہ ۱۴؍ جون کو ملک گیر ریفرنڈم میں دو اہم امور پر عوامی ووٹنگ ہوگی۔ ان میں ایک متنازع عوامی اقدام شامل ہے جس کے تحت سوئزرلینڈ کی مستقل رہائشی آبادی کو ۲۰۵۰ء سے پہلے ایک کروڑ تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ دوسرا معاملہ وفاقی سول سروس قانون میں اصلاحات سے متعلق ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سوئزرلینڈ میں آبادی اور امیگریشن سے متعلق بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ سوئس فیڈرل کونسل نے اعلان کیا ہے کہ ۱۴؍ جون کو ملک گیر عوامی ریفرنڈم منعقد کیا جائے گا، جس میں دو اہم معاملات عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان میں پہلا اور زیادہ توجہ حاصل کرنے والا اقدام ملک کی مستقل رہائشی آبادی کو محدود کرنے سے متعلق ہے جبکہ دوسرا وفاقی سول سروس قانون میں مجوزہ اصلاحات پر مشتمل ہے۔ حکومت کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ بیلٹ پیپر میں ’’نو ٹو ۱۰؍ ملین سوئزرلینڈ‘‘ کے عنوان سے ایک عوامی اقدام شامل ہوگا۔ اس تجویز کو دائیں بازو کی سیاسی جماعت سوئس پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے، جو طویل عرصے سے امیگریشن اور آبادی میں اضافے کے موضوع پر سخت مؤقف اختیار کرتی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ پر جیوری ممبران کے ”حیران کن“ تبصرے: اروندھتی رائے نے برلن فلم فیسٹیول کا بائیکاٹ کیا

نوٹس کے مطابق، سوئزرلینڈ کی مستقل رہائشی آبادی ۲۰۵۰ء سے پہلے ایک کروڑ (۱۰؍ ملین) سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔ مزید یہ کہ ۲۰۵۰ء کے بعد وفاقی کونسل کو اختیار ہوگا کہ وہ قدرتی آبادی میں اضافے کی بنیاد پر سالانہ حد کو ایڈجسٹ کرے۔ تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے وسائل، بنیادی ڈھانچے اور ماحولیات پر بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آبادی کی رفتار کو منظم کیا جائے۔ مجوزہ اقدام کے تحت وفاقی اور کینٹونل حکام کو آبادی کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان اقدامات میں ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینا، بنیادی ڈھانچے جیسے رہائش، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنا، اور سماجی بہبود کے نظام کو مستحکم بنانا شامل ہوگا۔ اس کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ ملک کی معیشت اور معیارِ زندگی کو طویل مدت تک برقرار رکھا جا سکے۔
تجویز میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر ۲۰۵۰ء سے قبل سوئزرلینڈ کی آبادی ۵ء۹؍ ملین سے تجاوز کر جاتی ہے تو حکومت اور پارلیمنٹ کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ خاص طور پر پناہ کے قوانین اور خاندانی اتحاد جیسے شعبوں میں پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے تاکہ آبادی میں مزید تیز اضافے کو روکا جا سکے۔ ناقدین کے مطابق یہ شق امیگریشن اور پناہ گزینوں سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔ دوسری جانب، اسی روز وفاقی سول سروس قانون میں مجوزہ اصلاحات پر بھی ووٹنگ ہوگی۔ اگرچہ اس معاملے کی تفصیلات نسبتاً کم توجہ کا مرکز بنی ہیں، تاہم اسے بھی ریاستی ڈھانچے اور شہری ذمہ داریوں سے متعلق ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: طارق رحمان ممکنہ وزیراعظم، جماعت اسلامی اپوزیشن کا کردار نبھائے گی

سوئزرلینڈ میں براہِ راست جمہوریت کا نظام رائج ہے، جہاں عوام اہم آئینی اور قانونی تبدیلیوں پر براہِ راست ووٹ دیتے ہیں۔ اس تناظر میں ۱۴؍ جون کا ریفرنڈم نہ صرف آبادی اور امیگریشن پالیسی بلکہ ملک کے مستقبل کے سماجی و معاشی خدوخال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ریفرنڈم ملک میں جاری اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے جس میں اقتصادی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ہم آہنگی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حامی حلقے اسے قومی مفاد اور وسائل کے تحفظ کا قدم قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین کے نزدیک اس سے سوئزرلینڈ کی کھلی معیشت اور بین الاقوامی امیج متاثر ہو سکتی ہے۔ اب نگاہیں ۱۴؍ جون پر مرکوز ہیں، جب سوئس عوام فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ آبادی کی حد مقرر کرنے کی اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔ اس ووٹ کا نتیجہ نہ صرف ملکی پالیسی بلکہ یورپ میں امیگریشن سے متعلق جاری مباحثوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK