نیا قانون نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی نافذ ہوجائے گا، شادی بیاہ، طلاق اور وراثت کیلئے متعلق امور کیلئے مسلمان اب مسلم پرسنل لاء (شرعیہ) ایکٹ ۳۷ء پرعمل نہیں کرسکیں گے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 12:37 PM IST | Agency | Gandhinagar/New Delhi
نیا قانون نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی نافذ ہوجائے گا، شادی بیاہ، طلاق اور وراثت کیلئے متعلق امور کیلئے مسلمان اب مسلم پرسنل لاء (شرعیہ) ایکٹ ۳۷ء پرعمل نہیں کرسکیں گے۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے گجرات یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل ۲۶ء کو جمعہ کو منظوری دیکر ریاست میں اس کے نفاذ کی راہ ہموار کردی ہے۔ اتراکھنڈ کے بعد گجرات ملک کی دوسری ریاست بن گئی ہے جسے یکساں سول کوڈ کیلئے منظوری حاصل ہوئی ہے۔ یہ گجرات حکومت کی جانب سے قواعد و ضوابط کا نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی یہ قانون نافذ ہوجائےگا۔ درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کو اس قانون کے دائرہ سے باہر رکھا گیا ہے۔گجرات اسمبلی نے محض ساڑھے ۷؍گھنٹے کی بحث کے بعد مارچ میں یہ بل منظور کیا تھا۔ بل کو صوتی ووٹ سے منظور کیے جانے سے قبل کانگریس کے اراکین اسمبلی نے اسے سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا۔
گجرات یکساں سول کوڈ میں کیا کچھ شامل ہے؟
گجرات یونیفارم سو ِل کوڈ کے نافذ ہوتے ہی ریاست میں مسلمان ’’مسلم پرسنل لاء (شرعیہ) ایکٹ ۱۹۳۷ء‘‘ پر عمل درآمد نہیں کرسکیں گے۔ نیا قانون مذہب سے قطع نظر شادی، طلاق، جانشینی، وراثت اور شادی کے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑوں (لیو اِن ریلیشن شپ) کے معاملات کیلئے ایک مشترکہ قانونی نظام قائم کرتا ہے۔ اس کے تحت مردوں کیلئے شادی کی کم از کم عمر ۲۱؍ سال اور خواتین کیلئے ۱۸؍ سال مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کرناٹک ایس آئی آر: مسلم ناموں کیخلاف فارم -۷؍ کے مزید انکشافات
شادی کا اندراج لازمی، دوبارہ شادی کا نظم
جوڑے مذہبی رسومات کے تحت یا اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کرسکتے ہیں، تاہم شادی کا اندراج لازمی ہوگا۔ یہ قانون پہلی شادی برقرار رہنے کی صورت میں دوسری شادی پر پابندی عائد کرتا ہے، اس طرح ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ ایسے افراد کے درمیان شادی کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے جو اس قانون کے تحت ممنوعہ رشتوں کے دائرے میں آتے ہیں۔ تاہم، اگر کسی مستند رسم یا رواج کے تحت ایسی شادی کی اجازت ہو اور وہ عوامی پالیسی یا اخلاقیات کے خلاف نہ ہو تو اس کی گنجائش رکھی گئی ہے۔قانون میں نکاح حلالہ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق طلاق یافتہ میاں بیوی دوبارہ شادی کرسکیں گے۔ نکاح حلالہ پر مجبور کرنے یا اس میں مدد کرنے پر سزا ہوسکتی ہے۔
طلاق اور وراثت کے یکساں اصول
قانون میں طلاق کیلئے مشترکہ عدالتی طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے ۔ طلاق دینے کے مذہبی طریقوں کی جگہ یکساں قانونی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ اس میں روایتی طور پر عدالت سے باہر طلاق دینے کے طریقوں اور عدت سے متعلق عمل بھی شامل ہیں۔شوہر یا بیوی میں سے کوئی بھی بدچلنی، ظلم و تشدد، مسلسل ۲؍ سال تک ترک تعلق، مذہب کی تبدیلی اور ناقابل علاج ذہنی عدم توازن سمیت مختلف بنیادوں پر طلاق کی درخواست دے سکتا ہے۔ خواتین کو کچھ اضافی بنیادوں پر بھی طلاق لینے کا حق حاصل ہوگا۔ باہمی رضامندی سے طلاق کی بھی اجازت ہوگی، بشرطیکہ جوڑے کم از کم ایک سال سے الگ رہ رہے ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:فرانس: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پراظہار تشویش
وراثت میں سب کا یکساں حصہ
اگر کوئی وصیت کئے بغیر مر جاتا ہے توا س کے ترکہ کی تقسیم کا مشترکہ نظام متعارف کریاگیا ہے۔ اس کے تحت شریک حیات ، زندہ اولاد، پہلے فوت ہوچکے بچوں کی اولاد اور زندہ والدین کو وراثت میں برابر حصہ ملے گا۔ بیٹوں اور بیٹیوں کو وراثت میں مساوی حق حاصل ہوگا۔یہ قانون وصیت کے ذریعے جائیداد کی تقسیم کے موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا۔یعنی کوئی شخص اپنی جائیداد قانونی وصیت کے ذریعے تقسیم کرسکتا ہے۔ اگر کوئی اہل وارث موجود نہ ہو تو جائیداد سرکار کو منتقل ہوجائے گی۔
قانون کے تحت لیو اِن ریلیشن شپ کا اندراج لازمی ہوگا۔اگر یہ تعلق ختم ہوجاتا ہے تواس کی بھی اطلاع حکام کو دینی ہوگی بصورت دیگر کارروائی کا التزام ہے۔