اوشا اُتھوپ کی گائیکی کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے ہر طرح کی موسیقی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی آواز میں ایک خاص گہرائی اور توانائی ہے جو عام گلوکاروں سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 11:23 AM IST | Mumbai
اوشا اُتھوپ کی گائیکی کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے ہر طرح کی موسیقی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی آواز میں ایک خاص گہرائی اور توانائی ہے جو عام گلوکاروں سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔
ہندوستانی موسیقی کی تاریخ میں بعض آوازیں ایسی ہیں جو پہلی ہی سماعت میں پہچانی جاتی ہیں۔ ان آوازوں کو کسی تعارف، کسی خاص دھن یا کسی موسیقار کے نام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کی اپنی ایک شناخت ہوتی ہے۔ گلوکارہ اوشا اُتھوپ بھی ایسی ہی ایک منفرد فنکارہ ہیں، جنہوں نےاپنی بھاری، گہری اور پُراثر آواز کے ذریعے ہندوستانی موسیقی میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی گائیکی میں مغربی موسیقی کا رنگ بھی ہے، ہندوستانی سروں کی مٹھاس بھی اور پاپ موسیقی کی دلکشی بھی۔
اوشا اُتھوپ کی پیدائش۸؍نومبر ۱۹۴۷ءکوممبئی میں ہوئی۔ ان کاتعلق ایک روایتی جنوبی ہندوستانی متوسط طبقےکے خاندان سے ہے۔ان کے گھر میں موسیقی کا ماحول تھا اور بچپن ہی سے انہیں مختلف طرح کےگیت سننے کا موقع ملا۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے ساتھ مغربی موسیقی سے بھی ان کی دلچسپی پیدا ہوئی۔گھر میں بڑے غلام علی خان، بیگم اختر اور کشور ی امونکر جیسے فنکاروں کو سنا جاتا تھا تو دوسری طرف فرینک سیناترا، ایلوس پریسلے اور بیٹلز جیسےمغربی موسیقاروں کی دھنیں بھی ان کی سماعتوں کا حصہ تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: کریتی کھربندا نے سنجیدہ سے مزاحیہ تک مختلف قسم کے رول نبھائے
ان کے فنی سفر کا آغاز نائٹ کلبوں میں گانے سے ہوااور وہاں اوشا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے بالآخر انہیں فلمی دنیا تک پہنچا دیا۔ ان کی آواز اور انداز نے کئی فلم سازوں کو متاثر کیا۔ فلمی موسیقی میں انہیں پہلا موقع شیام بینگل کی فلم ’بامبے ٹاکی‘ (۱۹۷۰ء)میں ملا۔ اس فلم میں انہوں نے ’گڈ ٹائمز‘ گیت گایا، جس کے بول جینیفر کپور اور اوشانے مل کر لکھے تھے، جب کہ اس کی موسیقی شنکر جے کشن نے ترتیب دی تھی۔اس کے بعد ۱۹۷۱ءمیںدیو آنند کی فلم ’ہرے راما ہرے کرشنا‘ ان کے کریئرکا ایک اہم پڑاؤ ثابت ہوئی۔ اس فلم کے لیےموسیقار آر ڈی برمن نے انہیں گانے کا موقع دیا۔
اوشا اُتھوپ کی گائیکی کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے ہر طرح کی موسیقی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی آواز میں ایک خاص گہرائی اور توانائی ہے جو عام گلوکاروں سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گائے ہوئے گیت برسوں گزرنے کے باوجود سامعین میں مقبول ہیں۔فلم ’پیارا دشمن‘ کا گیت ’ہری اوم ہری‘ان کی شناخت کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ اس گیت نے ڈسکو اور پاپ موسیقی کے شائقین میں انہیں خاصی مقبولیت دلائی۔ اسی طرح فلم ’ارمان‘ کا ’رمبھا ہو‘ بھی ان کے مقبول ترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس گیت کی موسیقی بپی لہری نے ترتیب دی تھی اور اس میں اوشا کی آواز نے ایک خاص جوش اور توانائی پیدا کردی تھی۔فلم ’شان‘ کا گیت ’جیتے ہیں شان سے‘ بھی ان کے یادگار گیتوںمیں شامل ہے۔ ان کے گائے ہوئے ’ون ٹو چا چا چا‘نے بھی خاصی مقبولیت حاصل کی۔ وشال بھردواج کی فلم ’سات خون معاف‘ (۲۰۱۱ء)میں ان کا گایا ہوا گیت ’ڈارلنگ‘ بہت مقبول ہوا۔ اس گیت کے لیے انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اوشا ۱۷؍ہندوستانی اور۸؍غیر ملکی زبانوں میں گاتی ہیں اور ۱۰۰؍ سے زیادہ البم ریکارڈ کرچکی ہیں۔ ان کے گیتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ انہیں ۲۰۱۱ءمیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری سے نوازا گیا۔ اسی سال فلم ’سات خون معاف‘ کے گیت ’ڈارلنگ‘ کے لیے فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ ۲۰۱۷ءمیں ریڈیو مرچی نےانہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔جنوری۲۰۲۴ء میں حکومت ہند نے انہیں ملک کے تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازنے کا اعلان کیا۔