محمد سمیع کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اور سابق ہندوستانی کرکٹرز نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ملک کی فاسٹ بولنگ کی تاریخ میں ان کے اہم کردار کی تعریف کی ہے۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 11:49 AM IST | New Delhi
محمد سمیع کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اور سابق ہندوستانی کرکٹرز نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ملک کی فاسٹ بولنگ کی تاریخ میں ان کے اہم کردار کی تعریف کی ہے۔
محمد سمیع کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اور سابق ہندوستانی کرکٹرز نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ملک کی فاسٹ بولنگ کی تاریخ میں ان کے اہم کردار کی تعریف کی ہے۔بی سی سی آئی نے جہاں اس تجربہ کار تیز گیندباز کو ہندوستانی فاسٹ بولنگ کے ایک دور کی شناخت قرار دیا، وہیں سابق کوچ روی شاستری کا خیال ہے کہ سمیع میں اب بھی ٹیسٹ کرکٹ کو بہت کچھ دینے کی صلاحیت موجود تھی۔
سمیع نے جمعہ کی رات اپنے فیصلے کا اعلان کیا جس کے ساتھ ہی ان کا ۱۳؍ سالہ ٹیسٹ کریئرختم ہو گیا۔ انہوں نے ۶۴؍ ٹیسٹ میچوں میں ۲۲۹؍وکٹیں حاصل کیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے ہندوستانی تیز گیندبازوں کی فہرست میں وہ چھٹے مقام پر ہیں۔
بی سی سی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے لکھا ’’ہندوستانی فاسٹ بولنگ کے ایک دور کی شناخت بننے کیلئے شکریہ، ٹیسٹ کیپ نمبر ۲۷۹۔‘‘
وہیں ہندوستان کے سابق ہیڈ کوچ روی شاستری، جنہوں نے اپنے دور میں محمد سمیع کے ساتھ کافی کام کیا تھا، کا خیال ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں وہ ابھی مزید بہت کچھ کر سکتے تھے۔ شاستری نے ہندوستان کی کامیابیوں میں سمیع کے اہم کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سوئنگ اور سیم بولنگ سے حریف بلے بازوں پر مسلسل دباؤ بنائے رکھتے تھے۔شاستری نے کہا یہ ایک شاندار کریئر رہا۔ میں خوش قسمت تھا کہ اس دوران کوچ تھا۔ ہندوستان کی کامیابیوں میں ان کا اہم کردار رہا۔ ان کے بغیر فاسٹ بولنگ یونٹ کیلئے کام کرنا مشکل ہوتا۔ عالمی کرکٹ میں ان سے بہتر سیم کا استعمال کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ آپ جیمز اینڈرسن کا نام بھی لے سکتے ہیں۔ اگر سمیع کو وکٹیں نہیں بھی ملتی تھیں، تب بھی وہ حریف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: فاسٹ بالر محمد سمیع کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، شائقین کا شکریہ ادا کیا
شاستری نے سمیع کے اس فیصلے پر مایوسی بھی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سمیع ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا جاری رکھتے تو ان کی وکٹوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی تھی۔ نیوزی لینڈ میں دوسرے ون ڈے کے دوران براڈکاسٹر سے بات کرتے ہوئے شاستری نے کہا’’انہیں رخصت ہوتے دیکھ کر دکھ ہوا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ وہ مزید ۳۰؍ سے ۴۰؍ وکٹیں حاصل کر سکتے تھے۔ انہیں گزشتہ ۱۲؍ ماہ کے دوران کھیلنا چاہیے تھا۔ شاید نیوزی لینڈ کے اس دورے پر انہیں ٹیسٹ کے گیندباز کے طور پر ٹیم میں ہونا چاہیے تھا۔‘‘
ہندوستان کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے سرخ گیند سے دیر سے سوئنگ پیدا کرنے کی محمدسمیع کی صلاحیت کو یاد کیا۔ انہوں نے لکھا’’آپ کے شاندار سرخ گیند کے کریئر کیلئے بہت بہت مبارکباد۔ سرخ گیند سے آپ کی دیر سے سوئنگ کرانے کی صلاحیت کی بہت کمی محسوس ہوگی۔‘‘
سابق تیز گیندباز مناف پٹیل نے بھی سمیع کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ فارمیٹ میں ان کی کمی محسوس ہوگی، تاہم امید ظاہر کی کہ انہیں ہندوستان کی محدود اوورز کی نیلی جرسی میں دوبارہ کھیلتے ہوئے دیکھا جا سکے گا۔
بنگال کی ٹیم میں محمد سمیع کے سابق ساتھی منوج تیواری نے انہیں ایک جنگجو قرار دیتے ہوئے اپنی کپتانی کے دوران اس تیز گیندباز کے ساتھ کھیلنے کے تجربات یاد کئے۔ انہوں نے کہا ’’اگرچہ اب ان کے ہاتھوں میں سرخ گیند نہیں ہوگی، لیکن ان کی طوفانی گیندوں کی یادیں کرکٹ شائقین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ کچھ عظیم کھلاڑی کبھی الوداع نہیں کہتے، وہ صرف تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔‘‘تیواری نے مزید کہا’’جب میں بنگال کی ٹیم کی کپتانی کر رہا تھا اور میری بولنگ لائن اپ میں سمیع شامل تھے ۔
ٹیم انڈیا کے سابق کپتان محمد اظہر الدین نے کہا کہ محمد سمیع نے ۱۳؍سال تک ملک کی خدمت کی ہے۔وہ شاندار گیندباز تھے۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان سوچ سمجھ کر کیا ہوگا اس لئے ہمیں ان کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے ۔وہ نئے گیندبازوں کو تحریک دیتے رہیںگے۔