اداکارعلی فضل کا کہنا ہےکہ ہالی ووڈ میں کام کرنے سے آپ کو دنیا بھر کی کہانیوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، یہ میرے لئے ایک خواب جیسا ہے،اسلئے میں بہت پُرجوش ہوں۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 12:14 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
اداکارعلی فضل کا کہنا ہےکہ ہالی ووڈ میں کام کرنے سے آپ کو دنیا بھر کی کہانیوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، یہ میرے لئے ایک خواب جیسا ہے،اسلئے میں بہت پُرجوش ہوں۔
علی فضل ہندوستانی فلم اور ٹیلی ویژن کے معروف اداکار ہیں، جو ہندی فلموں کے ساتھ بین الاقوامی فلموں اور ویب سیریز میں بھی کام کرچکے ہیں۔ وہ اپنی اداکاری، سنجیدہ کرداروں اور منفرد انداز کیلئے پہچانے جاتے ہیں۔ان کا تعلق لکھنؤ، اتر پردیش سے ہے۔ انہوں نے ممبئی کے سینٹ زیویئرس کالج سے معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور اسکول ہی کے زمانے سے اداکاری اور تھیٹر میں دلچسپی رکھنے لگے تھے۔ انہوں نے فلم’تھری ایڈیٹس‘ میں جوائے لوبو کا کردار ادا کرکے بالی ووڈ میں شناخت حاصل کی۔ اس کے بعد بہت سی کامیاب فلموں میں بھی کام کیا۔ ویب سیریز ’مرزا پور‘ میں گڈو پنڈت کے کردار نے انہیں غیر معمولی مقبولیت دی۔ اس کردار میں ان کی اداکاری کو ناظرین نے خاص طور پر پسند کیا۔ وہ اداکاری کے ساتھ فلم سازی کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں اور اپنی اہلیہ اداکارہ رِچا چڈھا کے ساتھ پروڈکشن کمپنی بھی قائم کرچکے ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے علی فضل سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
کیا گڈو پنڈت کا کردارفلم اور ویب سیریز میں الگ الگ تھا؟
ج: دراصل ہماری کوشش یہی تھی کہ کردار کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئے انداز میں پیش کیا جائے۔ یقیناً فلم کی اسکرپٹ مختلف تھی اور اس سے بھی کافی مدد ملی۔ میں اس فلم کو ایک بالکل نئی کہانی کے طور پر دیکھنا چاہتا تھا۔جب آپ کو کسی کردار کو ایک الگ فلم میں ادا کرنے کا موقع ملتا ہے تو آپ کو اسے ہر زاویے سے دیکھنا پڑتا ہے۔ ایک فلم کو ابتدا سے اختتام تک کردار کی مکمل کہانی بیان کرنی ہوتی ہے۔ اگر ہم ویب سیریز کے پورے سیزن کو فلم میں سمیٹنے کی کوشش کریں تو صرف چند چھوٹے چھوٹے پہلو ہی سامنے آسکتے ہیں کیونکہ فلم کو دو سے تین گھنٹے کے اندر اپنی کہانی مکمل کرنی ہوتی ہے۔ میں نے کوشش کی کہ کردار کے اندر موجود گہرائی کو برقرار رکھوں۔ اس کے ساتھ فلم میں مزاح، غصہ اور ایکشن بھی بہت زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میں اپنے والد کے نام پر کام حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ‘‘
جب آپ کسی نئے پروجیکٹ کیلئے ہاں کہتے ہیں تو کیا آپ اپنے اندرونی احساس اور پسند پر بھروسہ کرتے ہیں؟ اس وقت آپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے؟
ج: میرا ذہن ایک پروجیکٹ سے دوسرے پروجیکٹ کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ میرے پاس کوئی طے شدہ منصوبہ یا راہ نہیں ہے۔ البتہ مجھے اس بات کا اندازہ ضرور رہتا ہے کہ میں کس نوعیت کے پروجیکٹس کر رہا ہوں۔ سچ کہوں تو ابتدا میں مجھے ’راک‘ کے حوالے سے بھی زیادہ یقین نہیں تھا کیونکہ مرزا پور کے بعد میں نے کسی طویل دورانیے والے پروجیکٹ میں کام نہیں کیا تھا۔ اس خیال سے مجھے قدرے خوف محسوس ہوتا تھا، نہ کہ شو سے۔میرے لیے ضروری یہ ہے کہ کہانیاں اپنے وقت کے لحاظ سے اہم ہوں۔ کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ میں ایسی کہانیوں کا حصہ بنوں جنہیں بیان کیا جانا ضروری ہے۔ یقیناً ہر مرتبہ انتخاب مکمل طور پر ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتا، لیکن جہاں تک ممکن ہو، میں ایسی کہانیوں کا حصہ بننا پسند کرتا ہوں۔
جب آپ بین الاقوامی پروڈکشن ہاؤسیز کے ساتھ کام کرتے ہیں تو اس سے آپ کی اداکاری میں کس طرح نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے؟
ج: سب سے پہلے تو اس سے آپ کے سامنے کام کا ایک وسیع میدان کھلتا ہے۔ آپ کو دنیا بھر کی کہانیوں کو سمجھنے اور ان کے تئیں ہمدردی اور حساسیت پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت اہم ہے۔عرفان خان ، ششی کپور اور اوم پوری جیسے فنکاروں کو بھی بین الاقوامی سطح پر بہترین کام دیکھنے اور اس کا حصہ بننے کا موقع ملا تھا۔ اس طرح کے تجربات آپ کو اپنی کہانیوں اور انہیں پیش کرنے کے انداز کو ایک مختلف نقطۂ نظر سے دیکھنے کا موقع دیتے ہیں۔اس میں ایک خاص قسم کی سچائی بھی ہوتی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق بیرون ملک فلمی پروڈکشنز میں کام کے ہر مرحلے پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ خوش قسمتی سے مجھے بڑی اسٹوڈیو فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا، جہاں کام کا پیمانہ بھی بہت وسیع ہوتا ہے۔ ہندوستانی اور غیر ملکی فلموں کا براہِ راست موازنہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ البتہ وہاں کام کرنے کے طریقے اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط نے مجھے اپنے کام کو مزید سنجیدگی سے لینے کی ترغیب دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کسی فلم میں شاعرہ کا کردارنبھانے کا موقع ملے تو بہت خوشی ہو گی ‘‘
آپ خود کو کھیلوں سے وابستہ شخص کیوں کہتے ہیں؟ کیا آپ کا ماضی کھیلوں سے تعلق رہاہے؟
ج: میرا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی اولمپک کھلاڑی رہا ہوں۔ میں نے ہاکی اور باسکٹ بال کھیلوں میں شرکت کی ہے۔ ابتدا میں میرا خواب تھا کہ میں اپنے ملک کی نمائندگی کروں۔ اسکول کے زمانے میں مجھے شدید چوٹ لگی تھی اور میرا بازو، دراصل کندھا اتر گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد میری زندگی بدل گئی۔ یہ میرے لیے ایک بہت بڑا موڑ تھا۔تاہم کھیلوں سے حاصل ہونے والی کچھ اقدار اور عادتیں میں نے اپنے فن اور اداکاری کے سفر میں بھی برقرار رکھیں۔ آج بھی مجھے کھیلوں کی کمی محسوس ہوتی ہے اور میں فطرت کے قریب رہنا اور بیرونی سرگرمیوں میں حصہ لینا پسند کرتا ہوں۔
آپ اپنے بین الاقوامی پروجیکٹس کا انتخاب کس بنیاد پر کرتے ہیں؟ آپ کس نوعیت کے کام پر توجہ دینا چاہتے ہیں؟
ج: ابتدا میں آپ کے پاس زیادہ انتخاب نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں میں بہت خوش قسمت رہا کہ مجھے ’وکٹوریہ اینڈ عبدل‘ جیسی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا، جس نے مجھے ایک اہم مقام دلایا۔ آہستہ آہستہ حالات بدل رہے ہیں۔ مغرب میں بھی اب ایشیائی اور جنوبی ایشیائی کہانیوں پر توجہ دی جارہی ہے۔ مارشل علی کی ایک شاندار فلم ’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘ حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ دنیا کے اس حصے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک دلچسپ فلم بنائی ہے۔ میں اس حوالے سے بہت پُرجوش ہوں۔ دراصل آئندہ چند ہفتوں میں میں ہالی ووڈ کے ایک نئے پروجیکٹ سے وابستہ ہونے جا رہا ہوں۔ یہ ایک خواب جیسا کردار ہے اور میں اس کا حصہ بننے کے لیے بہت پُرجوش ہوں۔
آپ خود کو ایک کردار سے نکال کر دوسرے کردار میں کس طرح ڈھال لیتے ہیں؟
ج: وقت کے ساتھ یہ سمجھ پیدا ہوتی ہے کہ جیسے ہی ہدایت کار کٹ کہتا ہے، آپ کو اپنے کردار سے باہر آنا سیکھنا چاہئے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس کردار کو مکمل طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔جب آپ کسی پروجیکٹ پر کام کر رہے ہوتے ہیں تو اس کردار کی دنیا آپ کے شعور میں کہیں نہ کہیں موجود رہتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ اپنی حقیقی زندگی بھی جیتے ہیں۔ میرے نزدیک خود کو کردار سے الگ کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ دوبارہ اس میں ڈوبنے کیلئے تیار رہیں۔ جب کیمرہ چلتا ہے تو اصل تیاری شروع ہوتی ہے اور ان دونوں مراحل کے درمیان خود کو وقت دینا ضروری ہے۔ میں اسے ایک دوڑ کی طرح دیکھتا ہوں۔ آپ ایک دوڑ مکمل کرتے ہیں، کچھ دیر رکتے ہیں، لیکن آپ اپنی شناخت برقرار رکھتے ہیں اور اگلی دوڑ کیلئے تیار رہتے ہیں۔ کرداروں کا ایک حصہ یقیناً آپ کے ساتھ رہ جاتا ہے اور وہ ہمیشہ آپ کی شخصیت پر کچھ نہ کچھ اثر چھوڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘
سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی مقابلہ آرائی کو آپ کس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج: یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ آپ اسے نظر انداز نہیں کرسکتے۔ آج کے دور میں کسی فنکار کی عوامی شبیہ اور اسے کس انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، بہت اہمیت رکھتا ہے۔ میں اپنے حالیہ پروجیکٹس کے پروڈیوسرز کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری تشہیر اور عوامی شناخت کو بہتر بنانے کیلئے بہت محنت کی ہے۔ مثال کے طور پر مرزا پور کو ہی لے لیجیے۔ اس پروجیکٹ میں میری شمولیت اور میری شناخت کو ایک دوسرے سے جوڑ کر پیش کرنا ضروری تھا۔ہم نے اسے بڑے پیمانے پر ناظرین کے سامنے پیش کیا کیونکہ اسے صرف کسی ویب سیریز سے نکلی ہوئی فلم نہیں بلکہ ایک کامیاب سنیما فلم کے طور پر سامنے آنا تھا۔ اس لیے تشہیر اور عوامی تاثر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک سخت مقابلے کی دنیا ہے اور میں خود بھی ابھی اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ شاید میرے سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ لیکن میں نے کبھی اسے اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ میں نے اپنے ملک سے باہر بھی کئی اداکاروں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور وہاں ہر چیز کا پیمانہ سوشل میڈیا کے اعداد و شمار نہیں ہوتے۔ اصل اہمیت ہماری فلموں اور ہمارے فن کی ہوتی ہے۔ آخرکار یہی چیزیں اپنا مقام بناتی ہیں۔ ہم آج جہاں ہیں، شاید ہمیں وہیں ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اداکار سوشل میڈیا کے اعداد و شمار کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سوچنے لگے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ ان چیزوں کی فکر میں اپنی اصل توجہ کھو دوں۔