Updated: August 11, 2026, 9:05 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کے معروف اداکار نَصیرالدین شاہ اور اداکار و گلوکار پیوش مشرا کے درمیان طلبہ احتجاج اور فلم انڈسٹری کی خاموشی کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اب بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت بھی اس بحث میں شامل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے پیوش مشرا کی حمایت کرتے ہوئے نَصیرالدین شاہ پر سخت تنقید کی ہے۔
نصیرالدین شاہ اور کنگنا رناوت۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کے معروف اداکار نَصیرالدین شاہ اور اداکار و گلوکار پیوش مشرا کے درمیان طلبہ احتجاج اور فلم انڈسٹری کی خاموشی کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اب بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت بھی اس بحث میں شامل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے پیوش مشرا کی حمایت کرتے ہوئے نَصیرالدین شاہ پر سخت تنقید کی ہے۔
تنازع کیسے شروع ہوا؟
یہ تنازع نَصیرالدین شاہ کے ان تبصروں کے بعد شروع ہوا، جن میں انہوں نے طلبہ تحریکوں کے دوران بالی ووڈ کے بڑے ستاروں کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے فلم انڈسٹری کا موازنہ ایسے ’’کتے ‘‘سے کیا تھا جس کے منہ میں ہڈی ہو اور وہ بھونک نہ سکے۔ نَصیرالدین شاہ کے اس بیان پر پیوش مشرا نے جھارکھنڈ کے رانچی میں واقع جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ردعمل ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھئے:اس بار ہاکی ورلڈ کپ ہمارا ہوگا: سلیمہ ٹیٹے
پیوش مشرا نے سوال اٹھایا کہ جب جھارکھنڈ میں طلبہ احتجاج کر رہے تھے تو نَصیرالدین شاہ خود کہاں تھے؟ انہوں نے نَصیرالدین کے پرانے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر فلم انڈسٹری کے کچھ لوگ طلبہ کے حق میں آواز نہیں اٹھا رہے تھے تو اس وقت باقی کتے کہاں تھے جو بھونک نہیں رہے تھے؟
پیوش مشرا نے کیا کہا؟
پیوش مشرا نے نَصیرالدین شاہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ جب انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے دوران فلم انڈسٹری کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا، تو اب انہیں بھی اپنے موقف کے بارے میں جواب دینا چاہیے۔ مِشرا نے دہلی اور ممبئی میں نیٹ پیپر لیک جیسے معاملات کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شامل افراد کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا الزام تھا کہ کچھ لوگ طلبہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اپنی سہولت اور آرام کو زیادہ اہمیت دے رہے تھے۔ تاہم پیوش مشرا نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ نَصیرالدین شاہ کے اداکاری کے فن کا آج بھی احترام کرتے ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ اب وہ اس سینئر اداکار سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
کنگنا رناوت کی انٹری
تنازع میں اس وقت مزید شدت آگئی جب کنگنا رناوت نے سوشل میڈیا پر پیوش مشرا کے بیان کی حمایت کی اور نَصیرالدین شاہ کو نشانہ بنایا۔ کنگنا نے نَصیرالدین شاہ کے لیے لومڑی کا لفظ استعمال کیا اور کہا کہ وہ خود کو کتا کہلانا پسند کریں گی کیونکہ کتا وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کنگنا نے اپنے بیان میں کہا کہ جس ملک کی روٹی وہ کھاتی ہیں، اس کی حفاظت کرنے اور اس کے لیے لڑنے پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے نَصیرالدین شاہ پر پڑوسی ملک کے لیے لڑنے جیسا الزام بھی عائد کیا۔ کنگنا نے مزید کہا کہ وہ نَصیرالدین جیسی لومڑی بننے کے بجائے کتا بننا پسند کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے:فرحان اختر کا رنویر سنگھ کو طنزیہ اشارہ،’ ’صرف میرے ساتھ ہی نہیں، ایسا ہوتا ہے‘‘
تنازع میں سیاسی رنگ
نَصیرالدین شاہ اور پیوش مشرا کے درمیان شروع ہونے والی یہ بحث اب صرف فلم انڈسٹری تک محدود نہیں رہی۔ کنگنا رناوت کے بیان کے بعد اس میں واضح طور پر سیاسی رنگ بھی شامل ہوگیا ہے۔ اس تنازع نے ایک اہم سوال کو بھی جنم دیا ہے کہ کیا فلمی ستاروں اور فنکاروں کو طلبہ تحریکوں اور سماجی و سیاسی معاملات پر کھل کر اپنی آواز اٹھانی چاہیے؟