عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فِچ ریٹنگز نے ہندوستان کی طویل مدتی جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ ’بی بی بی‘ پر برقرار رکھی ہے اور اس کے آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی قلیل مدتی جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ بھی ’ایف ۳‘پر برقرار رکھی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 9:13 PM IST | New Delhi
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فِچ ریٹنگز نے ہندوستان کی طویل مدتی جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ ’بی بی بی‘ پر برقرار رکھی ہے اور اس کے آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی قلیل مدتی جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ بھی ’ایف ۳‘پر برقرار رکھی گئی ہے۔
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فِچ ریٹنگز نے ہندوستان کی طویل مدتی جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ ’بی بی بی‘ پر برقرار رکھی ہے اور اس کے آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی قلیل مدتی جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ بھی ’ایف ۳‘پر برقرار رکھی گئی ہے۔فِچ کے مطابق ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی کے امکانات، بہتر بیرونی مالیاتی پوزیشن اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے ریکارڈ نے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو سہارا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کیا عمران ہاشمی آر ڈی برمن کی بایوپک میں محمود کا کردار ادا کریں گے ؟
مالی سال ۲۰۲۷ء میں ۴ء۶؍ فیصد اقتصادی ترقی کا اندازہ
فِچ نے اندازہ لگایا ہے کہ مارچ ۲۰۲۷ء میں ختم ہونے والے مالی سال میں ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو ۴ء۶؍فیصد رہ سکتی ہے۔اگرچہ یہ شرح گزشتہ تین برسوں کی اوسط ۴ء۷؍ فیصد سے کم ہے، لیکن اس کے باوجود فِچ کے مطابق یہ ’بی بی بی ‘ ریٹنگ والے ممالک کی اوسط ۲؍ فیصد شرح نمو سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندوستانی معیشت نے مختلف عالمی اور داخلی جھٹکوں کے باوجود قابلِ ذکر لچک دکھائی ہے اور مستقبل میں بھی اس رجحان کے جاری رہنے کی توقع ہے۔
امریکہ-ایران تنازع سے توانائی کا خطرہ
فِچ نے ہندوستان کی معیشت کے لیے کچھ خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ خاص طور پر امریکہ-ایران تنازع اور عالمی توانائی بحران کو اہم خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ہندوستانی اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہندوستانی معیشت، مہنگائی اور تجارتی خسارے پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ تاہم فِچ کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے بھارت کی طویل مدتی اقتصادی ترقی کو لاحق کسی بڑے اور مستقل خطرے کی توقع نہیں کر رہی۔
یہ بھی پڑھئے:بندروں سے نمٹنے کی کوششوں کی پی وی سندھو نے حمایت کی
مہنگائی ۱ء۴؍ فیصد رہنے کا اندازہ
توانائی کے بحران کے باعث مہنگائی میں اضافے کا خدشہ موجود ہے، تاہم فِچ کے مطابق ہندوستان میں افراطِ زرریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی ۲؍ سے۶؍ فیصد کی مقررہ حد کے اندر رہنے کی توقع ہے۔ فِچ نے مالی سال ۲۰۲۷ء میں ہندوستان کی اوسط مہنگائی ۱ء۴؍ فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے، جبکہ مالی سال ۲۰۲۶ء میں یہ شرح ۱ء۲؍ فیصد رہی تھی۔ایجنسی کے مطابق مہنگائی کے مستحکم ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں اور بنیادی مہنگائی (Core Inflation) تقریباً ۴؍ فیصد کے آس پاس مستحکم ہے۔