Updated: May 12, 2026, 1:59 PM IST
| Mumbai
اکشے کمار کی اس سال ایک فلم پہلے ہی ریلیز ہو چکی ہے۔ جی ہاں’’ بھوت بنگلہ‘‘کا آغاز میں بزنس کافی سست رہا تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے فلم نے ۲۵۰؍ کروڑ روپے کا ہندسہ عبور کر لیا۔ اب باری ہے اداکار کی اگلی فلم کی۔ ان کی ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘کا کام مکمل ہو چکا ہے۔
فلم پوسٹر۔ تصویر:آئی این این
اکشے کمار اس وقت بڑی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس کئی بڑی فلمیں ہیں جن پر وہ کام کر رہے ہیں، جبکہ کچھ اسی سال ریلیز بھی ہونے والی ہیں۔ فی الحال ان کی ایک فلم سنیما گھروں میں لگی ہوئی ہے جس کا نام ’’بھوت بنگلہ‘‘ ہے۔ ابتدا میں فلم کا کاروبار بہت آہستہ بڑھ رہا تھا، لیکن جلد ہی اس نے ۲۵۰؍ کروڑ روپے کی کمائی کر لی۔ اب باری ہے اکشے کمار کی اگلی فلم’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘کی، جس میں ایک ساتھ کئی بڑے اداکار نظر آئیں گے۔فلم کی شوٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔ شوٹنگ دبئی میں ہونی تھی جس کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوئی، لیکن اب ہندوستان میں تمام شوٹنگ مکمل کرکے میکرز ریلیز کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ رپورٹس کے مطابق فلم کو جون ۲۰۲۶ء میں ریلیز کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ میکرز نے فی الحال ۲۶؍ جون ۲۰۲۶ء کی تاریخ کو طے کیا ہے۔ یہ ایک مشہور فرنچائز کی بڑی فلم ہے، اس لیے اس سے توقعات بھی کافی زیادہ ہیں۔
اکشے کمار کی ’’ویلکم ۳‘‘ کے بارے میں ایک اور بڑا اپڈیٹ سامنے آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ فلم کا پہلا آفیشل پروموشنل مواد اسی ہفتے یعنی مئی میں جاری کیا جا سکتا ہے۔ کافی عرصے سے مداح اس فلم کا انتظار کر رہے تھے اور اب آخرکار فلم کی مارکیٹنگ شروع ہونے جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:صوفی موتی والا کانز میں پہلی بار شرکت کریں گے
اس فلم کی کاسٹ میں اکشے کمار، سنیل شیٹی، پریش راول، ارشد وارثی، جیکی شراف، روینہ ٹنڈن، لارا دتہ، جیکلین فرنانڈس، دیشا پاٹنی، راجپال یادو شامل ہیں۔ جانی لیور، آفتاب شیوداسانی، شریاس تلپڑے اور تشار کپور بھی ایکشن میں نظر آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے بچے کی جنس ظاہر کرنے پر پابندی عائد کر دی
فلم کے حوالے سے میکرز کب باضابطہ اعلان کرتے ہیں، اس کا مداحوں کو ابھی بھی انتظار ہے۔ اسی دوران ہدایتکاراحمد خان نے اتنی بڑی فلم بنانے میں پیش آنے والی مشکلات پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق اتنے بڑے پروجیکٹ کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔ اداکاروں کی تاریخیں، بجٹ اور ان کی ضروریات کو مینیج کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ میکرز پرانی فلموں کے معیار کے ساتھ انصاف کر پاتے ہیں یا نہیں۔