راہل گاندھی نے اسے نصیحت نہیں، ناکامی قرار دیا، اکھلیش نے کہا: انتخاب ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا، کارتی چدمبرم کا پارلیمانی اجلاس بلانے کا مطالبہ، جے ایم ایم نے بھی گھیرا۔
وزیراعظم مودی نے پیر کو گجرات میں سردار دھام ہوسٹل کا افتتاح کیا -تصویر: پی ٹی آئی
عوام سے پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں احتیاط برتنے اور ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کرکے وزیراعظم نریندر مودی اپوزیشن کے نشانے پر آگئے ہیں۔ کانگریس، سماجوادی پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور دیگر پارٹیوں نے وزیراعظم پر سخت تنقید کی ہے۔
لوک سبھااپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے وزیراعظم کے خطاب کو حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مودی جی نے کل عوام سے قربانی مانگی،سونا مت خریدو، بیرونِ ملک مت جاؤ، پیٹرول کم استعمال کرو، کھاد اور کھانے کا تیل کم استعمال کرو، میٹرو میں سفر کرو اور گھر سے کام کرو۔ یہ نصیحت نہیں بلکہ حکومت کی ناکامی کے ثبوت ہیں۔‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ۱۲؍ برسوں میں ملک کی معیشت اور عام لوگوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اب حکومت عوام کو یہ بتانے لگی ہے کہ کیا خریدنا ہے اور کیا نہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہر بار ذمہ داری عوام پر ڈال دی جاتی ہے تاکہ حکومت خود جوابدہی سے بچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک چلانا اب وزیر اعظم کے بس کی بات نہیں ہے۔
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اس بیان پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات ختم ہوتے ہی حکومت کو بحران یاد آ گیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک کیلئے سب سے بڑا بحران بی جے پی ہی ہے اور مرکزی حکومت کی حالیہ اپیل اس کی معاشی اور پالیسی سازی کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتنی پابندیاں لگانی پڑ رہی ہیں تو پانچ ٹریلین ڈالر کی’جملہ‘معیشت کیسے بنے گی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کے ہاتھ سے معیشت کی لگام چھوٹ چکی ہے۔ ڈالر مسلسل مضبوط ہو رہا ہے اور روپیہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ سونے کی خریداری سے متعلق حکومت کی اپیل پر بھی انہوں نے طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام تو ویسے بھی ڈیڑھ لاکھ روپے تولہ سونا خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہیںبلکہ بی جے پی کے لوگ ہی کالی کمائی کو سونے میں تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس کی معلومات ’لکھنؤ سے لے کر گورکھپور‘ اور’احمد آباد سے لے کر گوہاٹی‘ تک لی جا سکتی ہیں۔
کارتی پی چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’حکومت کو فوری طور پارلیمانی اجلاس بلانا چاہئے، ملک کو اعتماد میں لینا چاہئے اور ہمیں موجودہ حالات کی اصلیت کے بارے میں بتانا چاہئے، جن کی وجہ سے یہ اپیل کرنا ضروری ہو گیا ہے۔‘‘
جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے جنرل سکریٹری ونود پانڈے نے کہا کہ اس اپیل کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جو معاشی اور بین الاقوامی بحران آج بتایا جا رہا ہے، اس کی شروعات آج نہیں ہوئی ہے بلکہ جنگ اور عالمی کشیدگی کی صورتحال پہلے دن سے بنی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی دنوں میں وزیر اعظم نے ملک سے قربانی اور کٹوتی کی اپیل کیوں نہیں کی؟ عام آدمی پارٹی نے نے بھی حکومت کو نشانے پر لیا ہے۔رکن پارلیمان سنجے سنگھ نے کہا کہ اتوار کو وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت گزشتہ دو ماہ سے عوام کا بوجھ اٹھا رہی تھی، لیکن اب چونکہ انتخابات ختم ہو گئے ہیں، اسلئے وہ مزید بوجھ نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ختم ہوتے ہی وزیر اعظم لوگوں کو پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کٹوتی کرنے اور سونا نہ خریدنے کا ’گیان‘ دینے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات ختم ہوئے وزیراعظم مودی کے کندھے جھک گئے۔