Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویلکم ٹو دی جنگل: بغیر سوچے سمجھے صرف ہنسنے کیلئے ایک عمدہ فلم

Updated: June 27, 2026, 10:31 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

’ویلکم‘ سیریز کی تیسری فلم میں ۳۰؍ تا ۳۵؍ اداکاروں کو شامل کیا گیا ہے، سب کا مقصد ہنسانا ہے، ناظرین بھی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

Akshay Kumar, Suniel Shetty, Paresh Rawal, Rajpal Yadav and others can be seen in a scene from the film `Welcome to the Jungle`. Photo: INN
فلم ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ کے ایک منظر میں اکشے کمار، سنیل شیٹی، پریش راول، راجپال یادو اور دیگر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

ویلکم ٹو دی جنگل(Welcome to the Jungle)

اسٹارکاسٹ: اکشے کمار، سنیل شیٹی، دشا پٹانی، پریش راول، ارشد وارثی، جیکلن فرنانڈس،راجپال یادو، جیکی شراف،جانی لیور

ڈائریکٹر:احمد خان

رائٹر: فرحاد سامجی

 پروڈیوسر:فیروز نڈیاڈوالا،ویدانت بالی، راکیش ڈانگ

موسیقار:ساجد واجد، آنند راج آنند،میٹ برادرس

سنیماٹو گرافر:کبیر لالlایڈیٹر:نتن پاٹھک

کاسٹنگ ڈائریکٹر:گردھر سوامی

کاسٹیوم ڈیزائن:شاداب ملک، ہرشیتا رامچندانی

میک اپ:ترنم خان، نتاشا شیخ، پرکاش کدم

ریٹنگ:***

یہ بھی پڑھئے: میں واپس آئوں گا: ادھوری محبت، ہجرت کا درد اور یادوں کا سفر

احمد خان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم’ویلکم ٹو دی جنگل‘ مقبول عام’ویلکم‘ فرنچائز کی تیسری کڑی ہے۔ ۲۰۰۷ءمیںریلیز ہونےوالی پہلی فلم’ویلکم‘ کو آج بھی کلٹ کامیڈی کا درجہ حاصل ہے۔ اصل فلم کے فنکاروں میں سے اس بار اکشے کمار اور پریش راول تو موجودہیں، لیکن نانا پاٹیکر اور انیل کپور اس فلم کا حصہ نہیں ہیں۔ تاہم فلم سازوں نے نوسٹیلجیا کا پورا خیال رکھا ہے اور ’ادے بھائی‘ اور’مجنو بھائی‘ کے یادگار کرداروں سے رشتہ جوڑتے ہوئے ان کے بھائیوں کو کہانی میں شامل کیا ہے۔

فلم کی کہانی

کہانی کا آغاز ایک بدعنوان صنعت کار (ذاکر حسین) سے ہوتا ہے،جو ٹیکس چوری میں ملوث ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ اگر اس کی سیاسی سرپرستی ختم ہو گئی تو اسے جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے نقصانات ظاہر کرنے کے لیے ۲۰۰؍کروڑ روپے کی لاگت سے ایسی فلم بنانے کا منصوبہ بناتا ہے جو بری طرح ناکام ہو جائے۔اس کا ملازم دوبے سب سے خراب ہدایت کاروں، تکنیکی ماہرین اور فلاپ ہیروکی تلاش شروع کرتا ہے۔ یوں ناکام ہدایت کار دیو (راجپال یادو) اور داس (پریش راول) کی نگرانی میں ایک زمانے کے سپر اسٹار راجیو (اکشے کمار) کو ہیرو منتخب کیا جاتا ہے، جو اب فلاپ ہونے کے بعد سستی بھوجپوری فلموں میں کام کرنے پر مجبور ہے۔

سہنی کی بیٹی جینی (جیکلین فرنانڈیز)، راجیو کی سابق محبوبہ اور اداکارہ نادیہ (دشا پٹانی)، گینگسٹر جوڑی رومیو (ارشد وارثی) اور ییڑا انا(سنیل شیٹی)، رنگوا (مکیش تیواری)، جگوا (یش پال شرما)، رینبو (کرشنا ابھشیک) اورجمبو (کیکو شاردہ) جیسے رنگا رنگ کردار اس عجیب و غریب ٹولی کا حصہ بنتےہیں۔پوری ٹیم راجیو کے منیجر بینی (تشار کپور)کے ساتھ ہند-پاکستان سرحد کے قریب واقع آزاد گنج گاؤں میں شوٹنگ کے لیے پہنچتی ہے۔ فوجی پس منظر والی اس فلم کیلئے تیجا (لارا دتہ) اداکاروں کو تربیت دیتی ہیں، لیکن شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ان کا سامنا خطرناک ڈاکو جتارا (جیکی شروف) سے ہو جاتا ہے، جو گاؤں والوں کے لیے دہشت کی علامت بنا ہوا ہے۔ آزاد گنج میں جتارا کے ساتھی عبداللہ (آفتاب شیوداسانی) اور ہیمنت پانڈے بھی موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف روینہ ٹنڈن کے کردار زویا، کرن کمار کے مراد اور فریدہ جلال کی بڑی بی جیسے لوگ برسوں سے جتارا کے ظلم کا شکار ہیں۔کہانی میں اصل موڑ اس وقت آتا ہے جب گاؤں والے فلم کی شوٹنگ کرنے والی اس ٹیم کو حقیقی فوجی سمجھ بیٹھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہی لوگ انہیں جتارا کے ظلم سے نجات دلائیں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فلمی فوج کا سامنا اصل دہشت گردوں سے ہوگا تو کیا ہوگا؟ اس کا جواب جاننے کیلئے فلم دیکھنی ہو گی۔

یہ بھی پڑھئے: ہے جوانی تو عشق ہونا ہے: تفریح کے لحاظ سے یہ فلم دیکھی جاسکتی ہے

ہدایت کاری

ہدایت کار احمد خان فلم کو رفتار دینے میں کچھ وقت لیتے ہیں۔ پہلا حصہ نسبتاً سست محسوس ہوتا ہے، لیکن انٹرول سےپہلے جیسے ہی پوری ٹیم گاؤں پہنچتی ہے، اصل ہنگامہ شروع ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں کہانی بے سر و پا معلوم ہوتی ہے، مگر آہستہ آہستہ ناظر بھی اس بے تکلف اور دیوانہ وار دنیا کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کی کامیڈی پر دل کھول کر ہنستا ہے۔

اداکاری

اداکاری کے اعتبار سے فلم کا محور اکشے کمار ہیں۔ راجیو کے کردار میں انہیں سب سے زیادہ اسکرین ٹائم ملا ہے اور انہوں نے اپنی شاندار مزاحیہ صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ ان کی موجودگی ہی فلم کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آتی ہے۔سنیل شیٹی اور ارشد وارثی کی جوڑی تفریح فراہم کرتی ہے، جبکہ پریش راول اپنے مخصوص مزاحیہ انداز سےخوب ہنساتے ہیں۔ راجپال یادو بھی ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔ جانی لیور جب بھی پردے پر آتے ہیں، ہنسی کا معیار مزید بلند ہو جاتا ہے، خصوصاً ان کی آواز کا اچانک بند ہو جانا بار بار ناظرین کو محظوظ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دی گریٹ گرینڈ سوپر ہیرو: بچوں کی فلم جسے بڑے بھی دیکھ سکتے ہیں

کیوں دیکھیں؟

اگر آپ ایسی کامیڈی پسند کرتے ہیں جس میں منطق تلاش کرنے کے بجائے صرف ہنسنے اور تفریح حاصل کرنے کا مقصد ہو، تو ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ سینما گھروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK