Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو والد کی فلم، آزادی کے ہفتے ۲۰۲۶ء میں بیٹے کی فلم

Updated: August 14, 2026, 5:07 PM IST | Mumbai

ہندوستان کی آزادی کے ۸۰؍سال مکمل ہونے کے موقع پر بالی ووڈ میں ایک دلچسپ تاریخی اتفاق سامنے آیا ہے۔۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو، جس دن ہندوستان آزاد ہوا، معروف فلم ساز پی ایل سنتوشی کی فلم ’’شہنائی‘‘ ریلیز ہوئی تھی۔

Rajkumar Santoshi.Photo:INN
راجکمار سنتوشی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کی آزادی کے ۸۰؍سال مکمل ہونے کے موقع پر بالی ووڈ میں ایک دلچسپ تاریخی اتفاق سامنے آیا ہے۔۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو، جس دن  ہندوستان  آزاد ہوا، معروف فلم ساز پی ایل سنتوشی  کی فلم ’’شہنائی‘‘ ریلیز ہوئی تھی۔ ٹھیک ۸۰؍ سال بعد ان کے بیٹے اور معروف ہدایت کار راج کمار سنتوشی کی فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘کو آزادی کے دن  ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ یہ اتفاق سنتوشی خاندان کے لیے ایک خاص اور جذباتی تاریخی لمحہ بن گیا ہے۔
 ۱۵؍ اگست۱۹۴۷ء، یعنی  ملک کی آزادی کے دن ریلیز ہونے والی فلم کون سی تھی؟ اس تاریخی موقع پر ریلیز ہونے والی فلم کا نام ’’شہنائی‘‘ (Shehnai)  تھا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Sunny Deol (@iamsunnydeol)

پی ایل سنتوشی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’’شہنائی‘‘ ۱۵؍ اگست  ۱۹۴۷ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی۔ فلم میں کشور کمار، ریحانہ، اندومتی، ناصر خان اور وی ایچ دیسائی سمیت کئی فنکاروں نے اہم کردار ادا کیے تھے۔فلم کی کہانی موسیقی اور رقص کی دنیا کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں ایک جدوجہد کرنے والے فنکار کا کردار دکھایا گیا ہے جو اپنی بیٹیوں کے ساتھ موسیقی اور رقص کی ایک ٹیم چلاتا ہے  تاہم لڑکیوں کی ماں سمجھتی ہے کہ یہ کام ان کی بیٹیوں کے لیے بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ فلم میں بیٹیوں کی محبت اور رومانوی زندگی کو بھی کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ’’شہنائی‘‘ کی موسیقی  سی رام چندر نے ترتیب دی تھی، جبکہ فلم کے گیتوں کے بول پی ایل سنتوشی نے لکھے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:گوگل نے امریکہ سے باہر ٹوکیو میں اپنا پہلا آفیشل ریٹیل اسٹور کھول دیا

اب ۸۰؍ سال بعد پی ایل سنتوشی کے بیٹے  راج کمار سنتوشی  اپنی نئی فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔راج کمار سنتوشی نے ’’گھائل‘‘، ’’گھاتک‘‘ اور ’’دامنی‘‘ جیسی یادگار فلموں کی ہدایت کاری کی ہے۔ ان کی فلموں میں عام تفریح کے ساتھ سماجی اور سنجیدہ موضوعات بھی نمایاں رہے ہیں۔ اس بار وہ ایک تاریخی اور حساس موضوع یعنی ۱۹۴۷ء کی تقسیم ہند  کو بڑے پردے پر پیش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پی ایس جی کا مسلسل دوسری بار یوئیفا سپر کپ پر قبضہ

’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘میں  سنی دیول اور پریتی زنٹا  مرکزی کرداروں میں ہیں۔ فلم مشہور ڈرامے  ’جس لاہور نئیں ویکھیا، او جمیا ای نئیں‘ پر مبنی ہے، جسے معروف مصنف  پروفیسر اصغر وجاہت  نے لکھا تھا۔ فلم کی کہانی تقسیم ہند کے دوران پیدا ہونے والے مذہبی اور سماجی حالات کے گرد گھومتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK