Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا آپ جانتے ہیں؟ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ریلیز ہونے والی پہلی فلم کون سی تھی؟

Updated: August 13, 2026, 10:14 PM IST | Mumbai

ہندوستان اس سال ۱۵؍ اگست ۲۰۲۶ءکو اپنی آزادی کی ۸۰؍ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ آزادی کے بعد گزرنے والے آٹھ عشروں میں ملک کے ہر شعبے کی طرح ہندوستانی سنیما نے بھی ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ آج ہندوستانی فلمیں کہانی، ٹیکنالوجی، موسیقی اور اداکاری کے اعتبار سے دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔

Shehnai.Photo:X
شہنائی۔ تصویر:ایکس

ہندوستان اس سال ۱۵؍ اگست ۲۰۲۶ءکو اپنی آزادی کی ۸۰؍ویں سالگرہ  منا رہا ہے۔ آزادی کے بعد گزرنے والے آٹھ عشروں میں ملک کے ہر شعبے کی طرح  ہندوستانی سنیما نے بھی ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ آج  ہندوستانی فلمیں کہانی، ٹیکنالوجی، موسیقی اور اداکاری کے اعتبار سے دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔  لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ۱۵؍ اگست۱۹۴۷ء، یعنی  ملک کی آزادی کے دن ریلیز ہونے والی فلم کون سی تھی؟ اس تاریخی موقع پر ریلیز ہونے والی فلم کا نام ’’شہنائی‘‘ (Shehnai)  تھا۔
  پی ایل سنتوشی  کی ہدایت کاری میں بننے والی ’’شہنائی‘‘ ۱۵؍ اگست  ۱۹۴۷ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی۔ فلم میں  کشور کمار، ریحانہ، اندومتی، ناصر خان اور وی ایچ دیسائی  سمیت کئی فنکاروں نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ یہ فلم اس لیے بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ تقریباً ۲۰۰؍ سالہ برطانوی حکمرانی سے آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد ہندوستان میں ریلیز ہونے والی ابتدائی فلموں میں سے ایک  اور ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ریلیز ہونے والی فلم  تھی۔ فلم کی کہانی موسیقی اور رقص کی دنیا کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں ایک جدوجہد کرنے والے فنکار کا کردار دکھایا گیا ہے جو اپنی بیٹیوں کے ساتھ موسیقی اور رقص کی ایک ٹیم چلاتا ہے  تاہم لڑکیوں کی ماں سمجھتی ہے کہ یہ کام ان کی بیٹیوں کے لیے بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ فلم میں بیٹیوں کی محبت اور رومانوی زندگی کو بھی کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پی ایس جی کا مسلسل دوسری بار یوئیفا سپر کپ پر قبضہ

’’شہنائی‘‘ کی موسیقی  سی رام چندر نے ترتیب دی تھی، جبکہ فلم کے گیتوں کے بول پی ایل سنتوشی نے لکھے تھے۔ فلم کے مقبول گیتوں میں ’’جے کرشنا ہرے، شری کرشنا ہرے‘‘ اور ’’ ترچھی ٹوپی والوں سے ہا بچ کے رہنا جی‘ ‘ سمیت کئی گانے شامل تھے۔ فلم کی موسیقی اور آزادی کے تاریخی دن ریلیز ہونے کی وجہ سے ’’شہنائی‘‘ کو اس دور میں خاص توجہ حاصل ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق ’’شہنائیں‘‘ نے اُس زمانے میں باکس آفس پر  ایک کروڑ روپے سے کم  کمائی کی تھی  تاہم اسے کامیاب فلم قرار دیا گیا۔ معاصر رپورٹس کے مطابق فلم نے ممبئی، دہلی، لکھنؤ اور کانپور  جیسے شہروں میں سلور جوبلی یعنی تقریباً ۲۵؍ ہفتوں  تک کامیاب نمائش کی۔ آزادی کے دن فلم کی ریلیز کے باعث سنیما گھروں کے باہر کئی دن تک شائقین کی لمبی قطاریں بھی دیکھنے کو ملیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:گوگل نے امریکہ سے باہر ٹوکیو میں اپنا پہلا آفیشل ریٹیل اسٹور کھول دیا

’’شہنائی‘‘ نے زبردست کامیابی حاصل کی، لیکن یہ  ۱۹۴۷ءکی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم نہیں تھی ۔ یہ اعزاز ’’جگنو‘‘ کے نام رہا، جس میں  دلیپ کمار اور نرگس  نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ یہ فلم نومبر ۱۹۴۷ء میں ریلیز ہوئی اور ۵۰؍ سے زائد ہفتوں  تک سنیما گھروں میں چلتی رہی۔۱۹۴۷ء کی دیگر نمایاں کامیاب فلموں میں ’’دو بھائی‘‘، ’’درد‘‘ اور’’مرزا صاحباں‘  بھی شامل تھیں۔  ’’شہنائی‘‘ کی خاص بات صرف اس کی کہانی یا موسیقی نہیں بلکہ اس کی  تاریخی ریلیز کی تاریخ  بھی ہے۔ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو جب  ہندوستان ایک نئے آزاد دور میں داخل ہوا، اسی دن یہ فلم سنیما گھروں تک پہنچی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK