بالی ووڈکی تاریخ میں ایسےکئی فنکار آئےہیں جو برسوں بعد آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ ایسا اکثر فلم کے ہیروز یا ہیروئنوں کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن کچھ معاون اداکار بھی اپنی بہترین اداکاری سے اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 1:24 PM IST | Mumbai
بالی ووڈکی تاریخ میں ایسےکئی فنکار آئےہیں جو برسوں بعد آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ ایسا اکثر فلم کے ہیروز یا ہیروئنوں کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن کچھ معاون اداکار بھی اپنی بہترین اداکاری سے اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔
بالی ووڈکی تاریخ میں ایسےکئی فنکار آئےہیں جو برسوں بعد آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ ایسا اکثر فلم کے ہیروز یا ہیروئنوں کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن کچھ معاون اداکار بھی اپنی بہترین اداکاری سے اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہیں فنکاروں میں سے ایک للتا پوار بھی تھیں۔ وہ شخصیت جس کی اسکرین پر موجودگی لوگوں کو خوفزدہ کر دیتی تھی، وہ ایک بدمزاج ساس کے رول میں بھی اتنی ہی جچتی تھیں جتنی کہ وہ ایک پیار کرنے والی ماں کے طور پر پسند کی جاتی تھیں۔ جب للتا پوار پردے پر ہیرو اور ہیروئن کو ڈانٹتی تھیں تو ایسا لگتا تھا جیسے گھر کا ہی سین چل رہا ہو۔
للتا پوار نے اپنے تمام کردار اسی انداز میں نبھائے۔ وہ’رامائن‘کی منتھرا بھی بنیں اور’آنند‘کی مدر میٹرن بھی۔ انہوں نے منتھرا کا رول اتنی خوبصورتی سے ادا کیا کہ لوگ اصل زندگی میں بھی انہیں بری خاتون سمجھ کر طعنے مارنے لگے تھے۔انہوں نے مختلف قسم کے چیلنجنگ اور آف بیٹ کردار ادا کئے ہیں۔ سلور اسکرین پر للتا کی شبیہ ایک سازشی، مغرور اور استحصال کرنے والی ساس کی رہی۔ ان کا فلمی کریئر کافی طویل رہا۔ انہوں نے۱۹۲۸ء سے۱۹۹۸ء تک فلموں میں بے شمار یادگار رول ادا کئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ٹی وی شوز میں آدمی کی حقیقت جبکہ ورٹیکل میں خوابوں کی دنیا دکھائی جاتی ہے‘‘
ان کی پیدائش۱۸؍ اپریل۱۹۱۶ء کو ناسک کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے ایک خوشحال گھرانے میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام امبا لکشمن راؤ ساگن تھا۔ ان کا خاندان ریشم کا کاروبار کرتا تھا۔۱۹۲۷ء میں وہ اپنے بھائی اور والد کے ساتھ پونے چلی گئیں، جہاں انہوں نے ’آرین پروڈکشن‘ کا رخ کیا اور فلم’پتیت ادھار‘ میں چائلڈ آرٹسٹ کا کردار حاصل کیا۔ اس فلم میں انہیں’للتا‘ نام دیا گیا۔ انہوں نے فلم میں ایک معصوم بچی کا کردار ادا کرتے ہوئے شاندار پرفارمنس دی۔انہوں نے اس کمپنی کے ساتھ تقریباً ۲۰؍ فلمیں کیں۔ اس کے بعد دوسری کمپنی میں کام کرنا شروع کیا۔ للتا پوار کو اپنی پہلی فلم کے فوراً بعد فلموں میں کام کرنے کے آفر ملنے لگے۔ جب وہ بڑی ہوئیں تو انہوں نے کئی فلموں میں مرکزی کردار ادا کیے اور’خاموش فلموں کی دلکش خوبصورتی‘ بن گئیں۔اس کے بعد آئندہ ۱۸؍ برسوں تک للتا پوار مختلف قسم کے کردار ادا کرتی رہیں۔
۱۹۳۲ء میں، للتا پوار نے’کیلاش‘ نامی ایک خاموش فلم میں ہیروئن، ویلن اور ماں کے تین رول ادا کئے۔ مراٹھی میں ان کی کچھ سپر ہٹ فلموں میں نیتا جی پالکر، سنت دماجی، امرت اور گورا کمبھار شامل ہیں۔اس کے بعد ان کی مقبولیت میںاضافہ ہوتا گیا ۔انہوں نے تاریخی سے لے کر سماجی، کاسٹیوم ڈراما سے لے کر افسانوی، کامیڈی سے لے کر ٹریجڈی، تھرلر سے لے کرمیوزیکل اور سنجیدہ سے لے کر رومانوی تک کی فلموں میں کام کیا۔ ۱۹۴۲ء تک وہ اسی طرح کام کرتی رہیں، لیکن فلم’جنگ آزادی‘کے ایک سین نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔ اس فلم میں للتا پوار کو ایک تھپڑ کھانا تھا۔ دراصل اس منظر میں بھگوان دادا کو للتا پوار کو تھپڑ مارنا تھا اور بھگوان دادا نے انہیں اتنی زور سے تھپڑ مارا کہ ان کے کان سے خون بہنے لگا اور آنکھ کے پاس کی ایک رگ پھٹ گئی۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوپائیں۔ ان کے جسم کا ایک حصہ مفلوج ہو گیا۔اس کے بعد وہ تین سال تک علاج کرواتی رہیں اور ان تین برسوں میں ان کا کریئر اور فلم لائن دونوں ہی بدل گئے۔ جب وہ روبہ صحت ہوکرواپس آئیں تو انہیں مرکزی کردار نہیں ملے۔ ان کی ایک آنکھ اسکرین پر ہمیشہ چھوٹی نظر آتی تھی جس سے ان کی خوبصورتی زائل ہوگئی تھی۔اس کے بعد انہیں ساس، ماں اور بہن جیسے کردار ملنے لگے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ان کرداروں کو بخوبی ادا کرتی چلی گئیں۔۲۵؍ سال کی عمر میں للتا کے پاس اپنی عمر سے بڑے اداکاروں کی ماں بننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ اشوک کمار، راج کپور، دلیپ کمار اور دیو آنند سبھی للتا سے بڑے یا ہم عمر تھے لیکن للتا کو ان کی ماں کا کردار نبھانا پڑا۔ للتا نے اس حادثے کو قسمت کی مرضی کے طور پر قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاید وہ ایک اداکارہ کے طور پر اتنی شہرت حاصل نہ کر پاتیں جتنی کہ ان کرداروں سے انہیں ملی۔ للتا نے فلم’چتور سندری‘ میں۱۷؍ مختلف کردار ادا کیے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ارشد وارثی نے مزاحیہ کرداروں سے لطف اندوز کیا
۱۲؍سال کی عمر سے فلموں میں کام کرنے والی للتا پوارکی آخری فلم ’بھائی‘ ۱۹۹۷ء میں ریلیز ہوئی تھی، اس فلم میں انہوں نے پوجا بترا کی نانی اوراوم پوری کی ماں کا کردار ادا کیا تھا۔ اپنے ۷۰؍ سالہ کریئر کے دوران انہوں نے ۷۰۰؍ سے زائد فلموں میں کام کیا۔۲۴؍فروری۱۹۹۸ء کو انہوں نے اس دار فانی کو الوداع کہہ دیا۔