Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل گاندھی کی دُہری شہریت کیس کی سماعت سے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج نے خود کو الگ کیا

Updated: April 21, 2026, 12:17 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

شکایت کنندہ کی سوشل میڈیا پوسٹس پر عدالت سخت برہم، عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے اور سیاسی فائدے کیلئےعدالت کے استعمال پر جج نے تشویش کااظہار بھی کیا

Rahul Gandhi.Photo:INN
راہل گاندھی۔ تصویر:آئی این این
لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی دہری شہریت سے متعلق زیرِ سماعت مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سبھاش ودیارتھی نے خود کو کیس کی سماعت سے الگ کر لیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد مقدمہ آئندہ کارروائی کیلئے دوسری بنچ کے حوالے کیا جائےگا۔یہ معاملہ ایسے وقت میں آیا جب اس کیس کے درخواست گزار اور بی جے پی سے وابستہ کارکن وگنیش ششیر نے ’ایکس‘پر متعدد متنازع پوسٹس شیئر کیں، جن میں عدالت پر یکطرفہ رویہ اختیار کرنے اور مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے تھے۔
 
 
جسٹس سبھاش ودیارتھی نے ان پوسٹس پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ عدلیہ کے خلاف اس نوعیت کے تبصرے کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہیں اور انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔پیر کو سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عرضی گزار نے اپنی ایک پوسٹ میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھ کر الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ہدایت دینے کا مطالبہ کریں کہ عدالت کا حکم کھلی عدالت میں پڑھا جائے۔ عدالت کے مطابق اس طرح کی اپیلیں عدالتی نظام پر دباؤ ڈالنے اور اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھانے کے مترادف ہیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ عرضی گزار نے عوام سے یہ بھی پوچھا کہ اسی بنچ کے سامنے کیس جاری رکھنا چاہئے یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عدالتی وقار اور نظامِ انصاف کی غیر جانبداری کو متاثر کرتے ہیں۔
 
 
خیال رہے کہ ۱۷؍ اپریل کو عدالت نے راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا اپنا حکم واپس لے لیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ بغیر نوٹس جاری کئے ایف آئی آر کا حکم دینا مناسب نہیں۔ اس پیش رفت کے بعد عرضی گزار نے پوسٹ کیا تھا کہ وہ اس معاملے کی شکایت سی جے آئی سے کریں گے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK