وزیراعلیٰ یوگی کی اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش ، اکھلیش کا منہ توڑ جواب ، کہا:مردم شماری کے بغیر خواتین ریزرویشن ممکن نہیں اوردلت،مسلم ، پسماندہ طبقات کی خواتین کی مناسب نمائندگی بھی ضروری ہے۔
اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ- تصویر:آئی این این
اترپردیش میں بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان خواتین ریزرویشن کے تعلق سے سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایک طرف بی جے پی نے پیش کئے گئے بل کو خواتین کی بااختیاری کی سمت میں تاریخی قدم قرار دیا، وہیں سماجوادی پارٹی نے مردم شماری کے بغیر اس قانون کو غیر مؤثر اور ادھورا بتایا۔ دونوں کی پریس کانفرنسوں میں ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کئےگئے۔
لکھنؤ بی جے پی کے ریاستی صدر دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ یوگی نے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کرنے والی جماعتوں پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ’دروپدی کے چیرہرن‘ جیسے منظر کی یاد دلاتا ہے اور یہ خواتین کے تئیں ان کی منفی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس، سماجوادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل ’انڈیا اتحاد‘ نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے اور آج بھی وہی روش اپنائی جا رہی ہے۔انہوں نے ایس پی کی طرف اشارہ کرتےہوئےکہا کہ جوپارٹیاںآج مسلم خواتین کے ریزرویشن کی بات کر رہی ہے، وہ ماضی میں خواتین کے اہم مسائل پر خاموش رہی ہیں۔ انہوں نے شاہ بانو مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کانگریس حکومت نے مسلم خواتین کے حقوق کو نظرانداز کیا تھا۔ اسی طرح تین طلاق کے خلاف قانون سازی کے دوران بھی اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کی، جو ان کے دہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینا ملک کے آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی تشکیل کے دوران بھی اس طرح کی تجاویز کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں سردار ولبھ بھائی پٹیل سمیت دیگر آئین سازوں نے بھی مذہبی بنیادوں پر ریزرویشن کی مخالفت کی تھی۔اس موقع پرمرکزی وزیر اناپورنا دیوی نے بھی پریس کانفرنس میں اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں ۲۰۱۴ء کے بعد خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے بے مثال اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘، ناری شکتی وندن ایکٹ اور دیگر اسکیموں کے ذریعے خواتین کو سماجی و معاشی طور پر مضبوط کیا گیا ہے اور اب سیاسی میدان میں بھی انہیں مناسب نمائندگی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بی جے پی کے مذکورہ الزامات کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئےسماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اپنی پریس کانفرنس میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کو موجودہ شکل میں نافذ کرنا عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اس کی بنیاد پرانی مردم شماری کے اعداد و شمار پر رکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کو بنیاد بنایا گیا تو اس سے ریزرویشن کی پوری ساخت متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئینی تقاضوں کے مطابق کسی بھی قسم کی حد بندی اور ریزرویشن کیلئے تازہ مردم شماری ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک نئی مردم شماری نہیں ہوتی، اس وقت تک خواتین ریزرویشن پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ریزرویشن میں تمام طبقات، خاص طور پر دلت،مسلم ، پسماندہ اور دیگر محروم طبقات کی خواتین کو مناسب نمائندگی ملنی چاہئے۔ ان کے مطابق صرف ریزرویشن کا اعلان کافی نہیں، بلکہ اس کیلئے مضبوط اور منصفانہ بنیاد ضروری ہے تاکہ ہر طبقے کو برابر کا حق مل سکے۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ سماج میں تقسیم پیدا کر کے سیاست کرتی ہے اور پہلے عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جاتی ہے، پھر انہیں مختلف گروہوں میں بانٹ کر سیاسی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج کی خواتین باشعور ہو چکی ہیں اور وہ مہنگائی، صحت اور سماجی مسائل جیسے حقیقی ایشوز پر اپنی رائے قائم کریں گی۔ خیال رہے کہ خواتین ریزرویشن کے ساتھ حد بندی بل کو جوڑ کر مودی حکومت نے خود ہی اپنے پیروں پرکلہاڑی مار لی ہے۔