فلم اور ٹی وی اداکارہ ایشوریہ راج بھاکونی کا کہنا ہےکہ میں نے اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کردیا ہے جس کے تحت اشتہاری فلمیں بنارہی ہوں لیکن مستقبل میں ویب شوز اور فلمیں بنانے کا بھی ارادہ ہے۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 12:56 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
فلم اور ٹی وی اداکارہ ایشوریہ راج بھاکونی کا کہنا ہےکہ میں نے اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کردیا ہے جس کے تحت اشتہاری فلمیں بنارہی ہوں لیکن مستقبل میں ویب شوز اور فلمیں بنانے کا بھی ارادہ ہے۔
مدھیہ پردیش میں پیدا ہونےو الی اداکارہ ایشوریہ راج بھاکونی ٹی وی شو’تم دینا ساتھ میرا‘میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ ایشوریہ نے اس سے قبل ٹی وی کے مشہور شوز میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک فلم کی شوٹنگ بھی مکمل کی ہے جس کانام ’مثال‘ ہے۔ وہ اپنے کام کو بہتر انداز میں مکمل کرنے کے تئیں سنجیدہ رہتی ہیں، اسلئے مسلسل مشق کرتی رہتی ہیں۔ وہ ٹی وی شوز اور فلم کے ساتھ ہی ورٹیکل بھی کررہی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک ورٹیکل میں کام مکمل کیا ہے۔ ایشوریہ راج کو ویب شوز میں دلچسپی نہیں ہے اسلئے وہ ٹی وی اور فلم پر ہی زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے ٹی وی اور فلم اداکارہ ایشوریہ راج بھاکونی سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
آپ اپنے نئے ٹی وی شو کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
ج: اس شو کا نام ’تم دینا ساتھ میرا‘ ہے جس میں میں شریتی جھا کی بہن کا رول نبھا رہی ہوں۔ یہ شو خاندانی اقدار کا پیغام دیتاہے اور اس کی کہانی بھی انہی اقدار پر مبنی ہے۔ اس شو میں مرکزی کردار ادا کرنے والوں کے درمیان رومانوی کہانی بھی دکھائی گئی ہے۔ میں جو رول نبھا رہی ہوں اس کانام ارادھیا ہے۔ اس کیریکٹر کی زندگی میں بھی ایک شخص رہتا ہے۔ ہم دونوں کی رومانوی کہانی کو بہتر انداز میں دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک خوبصورت شو ہے جس میں رشتوں کو جوڑ کررکھنے کی بات کہی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میں سلمان خان اور شاہ رخ خان کا بہت بڑا مداح ہوں‘‘
ارادھیا کا کیریکٹر پچھلے شو میں نبھائے گئے کردار سے کتنا مختلف ہے؟
ج:میرا پچھلا شو تاریخی پس منظر پر مبنی تھا جس میں، میں نے دیوی پاروتی کا رول ادا کیا تھا۔ مجھے ہر وقت دیوی پاروتی کے روپ میں رہنا پڑتا تھا اور خالص ہندی یا سنسکرت زبان کے مکالمے ادا کرنے پڑتے تھے۔ دیوی کے روپ میں رہنے کیلئے مجھے میک اپ بھی اسی طرح کا کرنا پڑتا تھا۔ وہ ہیوی میک اپ ہوتا تھا۔ دوسری طرف ارادھیاکا کردار مختلف ہے۔ ارادھیاموجودہ دور کی لڑکی ہے جو ماضی میں نہیں بلکہ حال میں جیتی ہے۔ وہ تھوڑی شوخ ہے اور ہر وقت موج مستی کرنے کا شوق رکھتی ہے۔میرے خیال میں دونوں کرداروں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
تاریخی پس منظر کے شو سے موجودہ دور کے شو ز میں خود کو ڈھالنا کتنا مشکل ہوتاہے؟آپ اپنے تجربات کے حوالے سے بتائیں
ج:کچھ بھی دقت پیش نہیں آتی بلکہ سبھی چیزیں آسان ہوتی ہیں۔ مائتھولوجیکل شوز کے رول نبھانے میں مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ اس میں کاسٹیوم سے لے کر ڈائیلاگ تک پر محنت کرنی پڑتی ہے۔ ان شوز کی زبان بھی بھاری بھرکم ہوتی ہےجنہیں ادا کرنا آسان نہیں ہوتاہے۔ اس کے ساتھ ہی ایکٹنگ کا ایک دائرہ ہوتاہے اور آپ کو اسی میں رہ کر کام کرنا ہوتاہے، لیکن ڈیلی سوپس میں ایسا نہیں ہوتاہے۔ آپ اپنی مرضی کے مطابق مکالموں میں تھوڑی سی تبدیلی کرسکتے ہیں اور اپنی اداکاری کوکھل کرظاہر کرسکتی ہیں۔ دوسری طرف میرا ریکارڈ ہے کہ میں ایک ٹیک میں ہی سین مکمل کرلیتی ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دلیپ کمار صاحب کی حیثیت اداکاری کے ایک انسٹی ٹیوٹ جیسی تھی‘‘
ارادھیا اور ایشوریہ میں کتنی مماثلت ہے ؟
ج:ارادھیا اور ایشوریہ کے درمیان ۹۰؍فیصد مماثلت ہے۔ دونوں کی عادتیں ایک جیسی ہیں اور دونوں موج مستی کرتی ہیں۔ اسلئے یہ کردار نبھاتے ہوئے مجھے دقت پیش نہیں آرہی ہےکیونکہ ارادھیامیں میں خود کو دیکھ رہی ہوں۔اسلئےجب بھی موقع ملتاہے کچھ اپنا حصہ بھی ڈال دیتی ہوں۔ ایک فرق یہ ہے کہ اس میں تھوڑا ایٹی ٹیوٹ ہے۔ وہ ایٹی ٹیوٹ مجھ میں بھی تھا لیکن ممبئی آنے کے بعدمحنت ومشقت کرنے کے بعد وہ سب نکل گیاجبکہ ارادھیامیں یہ ایٹی ٹیوٹ نظرآتاہے۔ وہ زندہ دل ہے اور اپنی مرضی کی مالک ہے۔
کیا اسی شو میں مصروف ہیں یا اس کے ساتھ کوئی اور پروجیکٹ بھی ہے؟
ج:حال ہی میں میں نے ایک فلم ’مثال‘مکمل کی ہے جس میں ہتین تیجوانی اور گوری پردھان مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ فلم میں نے ٹی وی شو میں کام کرتے ہوئے پوری کی ہے۔ اس فلم کے بارے میں آپ کو زیادہ معلومات فراہم نہیں کرسکتی کیونکہ اس تعلق سے کچھ بندشیں ہیں اورہم اداکاروں کو انہی دائروں میں رہ کر بات کرنی ہوتی ہے۔ ۳؍ فلموں کی شوٹنگ جاری ہے اور اس کے بارے میں بھی وقتاً فوقتاً جانکاری فراہم کرتی رہوں گی۔ میں ٹی وی شوز کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی کام کررہی ہوں۔اس کے علاوہ میں نے ایک پروڈکشن ہاؤس بھی شروع کیاہے جس کے تحت مختلف اشتہاری فلمیں بنائی جاتی ہیں۔
پروڈکشن ہاؤس شروع کرنے کا منصوبہ کس طرح بنایا؟
ج: شوبز انڈسٹری میں اتنے سال تک کام کرنے کے بعد میری ایک اچھی ٹیم بن گئی تھی، اسلئے میں نے انڈسٹری میں رہتے ہوئے کچھ الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔جب پروڈکشن ہاؤس کا منصوبہ بنایا تو اسی وقت مجھے سرکار سے سائبر پروجیکٹ ملا جو وزیر اعلیٰ فرنویس کا بھی ڈریم پروجیکٹ ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ہم نے سائبر سے متعلق کئی اشتہاری فلمیں بنائی ہیں جس میں امیشاپٹیل، پنکج ترپاٹھی، ابھیشیک بنرجی اور دیگر معروف اداکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس پروڈکشن ہاؤس کے تحت فی الحال ہم حکومت ِ مہاراشٹر کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہندی سے پہلے تیلگو انڈسٹری میں میری پہچان بن چکی تھی‘‘
اس پروڈکشن ہاؤس کے تحت کسی بڑے پروجیکٹ کا بھی ارادہ ہے؟
ج:مستقبل میں اس پروڈکشن ہاؤس کے تحت ویب شوز بنانے کا ارادہ ہے۔ ٹی وی شوز بنانےمیں دلچسپی نہیں ہے کیونکہ اس کے رول بہت مشکل ہوتے ہیں جنہیں سنبھالنا مشکل ہوجاتاہے۔ میں ویب شوز بنانے میں یقین رکھتی ہوں کیونکہ اس کا کام جلد مکمل ہوجاتاہے۔ اس کے بعد فلمیں بھی بنانے کا ارادہ ہے۔
او ٹی ٹی کے بارے میں کیا کہنا ہے، کیا کسی شو میں کام کررہی ہیں ؟
ج: او ٹی ٹی کیلئے کوئی شو نہیں کیا ہے اور اس میں دلچسپی بھی نہیں ہے۔ میں نے حال ہی میں ایک ورٹیکل میں کام کیا تھا جوکہ ویب شو سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اس میں کام کرنے میں بھی مزہ آتاہے۔ میں نے مرہم نامی ورٹیکل میں کام کیا ہے جو اترنگی چینل پر دستیاب ہے۔
ورٹیکل اورٹی وی شو ز میں کیا فرق ہوتاہے؟
ج: ٹی وی شوز میں عام زندگی کے بارے میں دکھایا جاتاہے اس لئے شائقین بھی اس سے وابستہ ہوجاتے ہیں اور ہر کردار میں خود کو دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف ورٹیکل میں خوابوں کی ایک دنیا دکھائی جاتی ہے جس کے بارے میں آدمی صرف سوچ سکتاہے۔ ورٹیکل کی ویور شپ زیادہ ہے کیونکہ یہ عام انسان کو خوابوں کی دنیا میں لے جاتا ہے۔
آپ خود کو کس طرح بہتر کرتی رہتی ہیں ؟
ج:میں زیادہ محنت کرنے میں یقین رکھتی ہوں۔ میں روزانہ ۵؍ میٹنگ کرتی ہوں، خواہ وہ میرے پروڈکشن ہاؤس کی ہو یا ٹی وی شوزکی، میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ میرا کام مکمل ہوجائے۔ اس کے بعد جب بھی موقع ملتا ہے تو بیرون ملک ویب شوز اور ٹی وی شوز دیکھ کر ان کی اداکاروں کی اداکاری کی باریکیاں سیکھتی ہوں اور ان سے سبق لیتی ہوں۔ اس کے ساتھ ورک آؤٹ اور ڈانس کلاس بھی جاتی ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اداکاری کے شعبے میں آنے کی ترغیب مجھے میرے نانا نے دی تھی‘‘
کام کی تکان دور کرنے کیلئے کیا کرتی ہیں ؟
ج:کام کی تکان دور کرنے کیلئے میں نیٹ فلکس پر فلمیں اور شوز دیکھتی ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں اپنے دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے کیلئے تھیٹر بھی چلی جاتی ہوں۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ ۱۰؍سالہ کریئر میں، میں نے کسی پارٹی میں شرکت نہیں کی ہے۔ کام کی تکان کم کرنے کیلئے میں اکثر گھر کی صفائی وغیرہ بھی کرتی ہوں۔ میں نیٹ فلکس پربھی اکثر فلم ہی دیکھنا پسند کرتی ہوں کیونکہ یہ ایک ہی بار میں ختم ہوجاتی ہے جبکہ ویب شوز کیلئے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔
پاکستانی شوز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: نیٹ فلکس پر فلمیں دیکھنے کے ساتھ ہی میں پاکستانی شوز بھی دیکھتی ہوں۔ حال ہی میں ’میری زندگی ہے تو‘ شو دیکھا ہے اور اب ’عشق مرشد‘ دیکھ رہی ہوں۔ بلال عباس میرے پسندیدہ اداکار ہیں۔ میں نے انہیں میسج بھی کیا تھا۔ پاکستانی شوز میں حقیقت اور فینٹسی دونوں کا ملاپ ہوتاہے اسلئے یہ شائقین کو بہت پسند آتے ہیں۔ سچ کہوں تو مجھے ان کی لت لگ گئی ہے۔ پاکستانی شوز میں اداکارحقیقی اداکاری کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ یہ میرا خواب ہے کہ بڑے پردے پر میں اپنے فن کا مظاہرہ کروں ‘‘
کیا آپ کسی کاروبار میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں ؟
ج:فی الحال میں پروڈکشن ہاؤس کے تحت اپنا کام کررہی ہوں۔ میں نے ریستوراں کا کاروبار شروع کیا تھا لیکن اس میں مجھے دھوکہ ملا اسلئے میں نے اب اسی کام کا فیصلہ کیا ہے جس کی مجھے معلومات ہو۔ میں اپنے پروڈکشن ہاؤس کو ہی آگے بڑھانا چاہتی ہوں۔