ہندی سنیما میں ایسے اداکاروں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی اداکاری کے بل پر ایک الگ مقام بنایا، لیکن اتل کلکرنی کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے شہرت سے زیادہ اپنے فن کو اہمیت دی۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 12:27 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ہندی سنیما میں ایسے اداکاروں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی اداکاری کے بل پر ایک الگ مقام بنایا، لیکن اتل کلکرنی کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے شہرت سے زیادہ اپنے فن کو اہمیت دی۔
ہندی سنیما میں ایسے اداکاروں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی اداکاری کے بل پر ایک الگ مقام بنایا، لیکن اتل کلکرنی کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے شہرت سے زیادہ اپنے فن کو اہمیت دی۔ وہ نہ روایتی معنوں میں ہیرو ہیں اور نہ ہی صرف ولن۔ ان کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ جس کردار کو ہاتھ لگاتے ہیں، اسے اپنی شخصیت کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ ’ہے رام‘ سے لے کر ’چاندنی بار‘،’رنگ دے بسنتی‘ اور ’نٹ رنگ‘ تک ان کا سفر ایک ایسے اداکار کی داستان ہے جس نے مقبولیت کے بجائے کردار کی مضبوطی کو اپنی ترجیح بنایا۔
یہ بھی پڑھئے:رمی یوسف اور ہیام عباس کی نئی غزہ سنیما اکیڈمی کو حمایت
اتل کلکرنی کی پیدائش ۱۰؍ستمبر ۱۹۶۵ءکوبیلگام، کرناٹک میں ہوئی۔ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ متوسط طبقے کے مراٹھی خاندان سے تھا۔ابتدا میں ان کا راستہ اداکاری کی طرف نہیں بلکہ انجینئرنگ کی جانب جاتا دکھائی دے رہا تھا۔ انہوں نے کالج آف انجینئرنگ، پونےمیں انجینئرنگ کی تعلیم شروع کی، لیکن پہلے ہی سال انہیں احساس ہوگیاکہ ان کا اصل شوق کچھ اور ہے۔ انہوں نے انجینئرنگ چھوڑ دی اور ادب اور تھیٹر کی طرف رخ کرلیا۔
شولاپور میں تعلیم کے دوران تھیٹر سے ان کا تعلق مضبوط ہوا۔ کالج کے ثقافتی پروگراموں میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نےمحسوس کیا کہ اسٹیج پر اداکاری انہیں محض پسند نہیںبلکہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔ انہوں نے ’نتیہ آردھنا‘ نامی تھیٹر گروپ کے ساتھ کام کیا اور مہاراشٹر کی ریاستی ڈراما مقابلوں میں اداکاری اور ہدایت کاری کے لیے انعامات بھی حاصل کیے۔ ’گاندھی ورودھ گاندھی‘ جیسے ڈرامے نے انہیں تھیٹر کی دنیا میں نمایاں شناخت دی۔
لیکن اتل کلکرنی نے صرف تجربے کے بل پر آگے بڑھنے کے بجائے باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ۱۹۹۲ءسے ۱۹۹۵ءتک نیشنل اسکول آف ڈراما، نئی دہلی میں زیر تعلیم رہے۔ یہ فیصلہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔نصیرالدین شاہ سمیت کئی ممتازاساتذہ اور فنکاروں سے سیکھنے کا موقع ملا۔
یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کی میزبانی کودل توڑ دینے والا تجربہ قراردیا
۲۰۰۰ء میں ’ہے رام‘ کے ذریعے انہوں نے ہندی فلموں میں قدم رکھا۔ فلم میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا اور انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ بھی ملا۔ ’ہے رام‘ کے فوراً بعدمدھر بھنڈارکر نے انہیں ’چاندنی بار‘ میں کام کرنےکا موقع دیا۔ اتل کلکرنی نے اس فلم میں بھی اپنی اداکاری کی گہری چھاپ چھوڑی اور ایک مرتبہ پھر بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ حاصل کیا۔ یوں صرف دو اہم فلموں کے بعد وہ دو قومی ایوارڈ اپنے نام کرنے والے اداکار بن گئے۔ اتل کلکرنی کی خاص بات یہ رہی کہ انہوں نے کبھی ایک ہی طرح کے کرداروں میں خود کو محدود نہیں کیا۔ ’دم‘ میں منفی رنگ، ’خاکی‘ میںمختلف نوعیت کا کردار اور’رنگ دے بسنتی‘ میں لکشمن پانڈے کے کردار نے ان کی اداکاری کے کئی رخ سامنے لائے۔اتل کلکرنی نےہندی کے علاوہ مراٹھی، تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم اور انگریزی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ اتل کلکرنی نے ’’لال سنگھ چڈھا‘‘ کا اسکرین پلے لکھا،جو ٹام ہینکس کی مشہور فلم ’فارسٹ گمپ‘ کا ہندوستانی روپ تھا۔ ۳؍ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ان کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ فلمی دنیا میںشہرت کے کئی راستے ہوسکتے ہیں۔ کوئی اداکار اپنی شکل سے پہچانا جاتا ہے، کوئی اپنے نام سے اور کوئی اپنی فلموں کے کاروبار سے۔ لیکن اتل کلکرنی ان فنکاروں میں شامل ہیں جو اپنے کرداروں سے پہچانے جاتے ہیں۔