Updated: September 08, 2026, 8:02 PM IST
| Jerusalem
فلسطینی فلمسازوں کی نئی نسل کو تربیت اور اپنی کہانیاں دنیا تک پہنچانے کا موقع فراہم کرنے کے لیے غزہ سنیما اکیڈمی کا باقاعدہ آغاز وینس فلم فیسٹیول میں کردیا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کو معروف اداکارہ ہیام عباس اور مصری نژاد امریکی اداکار و کامیڈین رمی یوسف سمیت فلسطینی، عرب اور عالمی فلمی شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔
فلسطینی فلمسازوں کی نئی نسل کو تربیت اور اپنی کہانیاں دنیا تک پہنچانے کا موقع فراہم کرنے کے لیے غزہ سنیما اکیڈمی کا باقاعدہ آغاز وینس فلم فیسٹیول میں کردیا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کو معروف اداکارہ ہیام عباس اور مصری نژاد امریکی اداکار و کامیڈین رمی یوسف سمیت فلسطینی، عرب اور عالمی فلمی شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فرح خان نے تینوں بچوں کے کالج روانہ ہونے پر جذباتی الوداع کہا
غزہ سنیما اکیڈمی کی مشترکہ بنیاد فلسطینی فلم ساز عزالدین شلح اور معروف فلسطینی ہدایت کارہ مائی مصری نے رکھی ہے۔ اکیڈمی کا مقصد غزہ میں فلم سازی کی تعلیم، عملی تربیت اور فلموں کی تیاری کے لیے ایک مستقل پلیٹ فارم قائم کرنا ہے، جہاں نوجوان فلم ساز اپنی صلاحیتیں نکھار سکیں اور اپنی کہانیاں اپنے نقطۂ نظر سے دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔ اس منصوبے کی حمایت کرنے والی نمایاں شخصیات میں فلسطینی ہدایت کارہ انامری جابر ، اداکار صالح بکری ، تیونس کی ہدایت کارہ کاؤثر بن ہانیہ ، اطالوی پروڈیوسر گرازیلا بلڈس ہائم اور فلمی ادارے میڈ سالیوشنزکے شریک بانی علا کرکوٹی بھی شامل ہیں۔ کاؤثر بن ہانیہ کی فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کو بھی عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل ہوئی ہے۔
اکیڈمی کا منصوبہ صرف اعلان تک محدود نہیں بلکہ اس کے تحت تربیتی پروگرام پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ءمیں غزہ فلم میکنگ ڈپلومہ کے نام سے نو ماہ کا پروگرام شروع کیا گیا، جس میں ۲۵؍ نوجوان فلسطینی خواتین شامل ہیں۔ اس کورس میں فلم سازی کے نظریاتی پہلوؤں کے ساتھ عملی تربیت بھی دی جارہی ہے تاکہ شرکا اپنے فلمی منصوبوں کو خود تیار اور مکمل کرسکیں۔
اکیڈمی مستقبل میں فلم سازی کی باقاعدہ ڈگری شروع کرنے پر بھی کام کررہی ہے، جسے القدس اوپن یونیورسٹی سے منظوری دلانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی فلم فیسٹیولز اور ثقافتی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاکہ غزہ کے فلم ساز عالمی فلمی صنعت سے جڑ سکیں اور اپنی تخلیقات کو بین الاقوامی ناظرین تک پہنچا سکیں۔
اکیڈمی کے شریک بانی عزالدین شلح نے کہا کہ غزہ میں سنیما صرف ایک فن نہیں بلکہ یادداشت محفوظ رکھنے، اپنی شناخت اور تصویر خود پیش کرنے اور نئی نسل کو اپنی کہانی بیان کرنے کے وسائل فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق اکیڈمی نوجوانوں اور خواتین کے لیے ایسا پلیٹ فارم بنانا چاہتی ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، تخلیق کرسکیں اور اپنی فلمیں بنا کر اپنی آواز دنیا تک پہنچا سکیں۔ مائی مصری نے بھی اس اقدام کو تخلیقی صلاحیتوں، انسانی یادداشت اور مختلف معاشروں کے درمیان رابطے کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق غزہ کے نوجوان فلم سازوں کی نئی نسل کو اپنی حقیقت، یادوں اور خوابوں کے اظہار کے لیے جگہ فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
یہ بھی پڑھئےٖ:کوکو گاف نے ایوا جووچ کو شکست دے کر یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی
وینس فلم فیسٹیول میں غزہ سنیما اکیڈمی کے آغاز کے ساتھ فلسطینی سنیما کو بھی نمایاں توجہ مل رہی ہے۔ رواں فیسٹیول میں فلسطینی ہدایت کار احمد حسونہ کی ’’سٹیزن اُسامہ‘‘ اور معیاد علایان کی’’کنورزن وِد دی سی‘‘بھی پیش کی جارہی ہیں۔ اکیڈمی نے عالمی یونیورسٹیوں، فلم فنڈز، فیسٹیولز اور ثقافتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کے ابھرتے ہوئے فلم سازوں کی تعلیم، فلم سازی اور بین الاقوامی رسائی میں تعاون کریں۔