Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہارر فلموں میں مسلسل کام کرنا اعصابی نظام کے لیے چیلنج: کالکی کوچلن

Updated: March 23, 2026, 9:09 PM IST | Mumbai

اداکارہ کالکی کوچلن ہر صنف کی فلموں میں کام کر چکی ہیں۔ تاہم، ان کا ماننا ہے کہ مسلسل ہارر صنف کے پروجیکٹس میں کام کرنا آسان نہیں، بلکہ کافی چیلنجنگ ہے۔

Kalki Koechlin.Photo;INN
کالکی کوچلن۔ تصویر:آئی این این

اداکارہ کالکی کوچلن ہر صنف کی فلموں میں کام کر چکی ہیں۔ تاہم، ان کا ماننا ہے کہ مسلسل ہارر صنف کے پروجیکٹس میں کام کرنا آسان نہیں، بلکہ کافی چیلنجنگ ہے۔ انہوں نے ہارر پروجیکٹس میں کام کرنے کے اپنے تجربات کے ساتھ ساتھ آنے والی ویب سیریز ’’انرتھ ‘‘ پر بھی بات کی۔
کالکی نے بتایا کہ یہ ان کے اعصابی نظام کے لیے بہت مشکل رہا ہے۔ وہ فی الحال اپنی آنے والی ویب سیریز انرتھ کی ریلیز کی تیاری میں مصروف ہیں، جو جلد ہی پرائم ویڈیو پر اسٹریم ہوگی۔اس سے پہلے ان کا ہارر شو ’’بھے: دی گورو تیواری مِسٹری‘‘  ریلیز ہوا تھا۔ انرتھ  میں  کالکی کا کردار ایک بار پھر ہارر اور سسپنس سے بھرا ہوا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ سیریز ناظرین کو ڈرانے کے ساتھ ساتھ جذباتی گہرائی بھی فراہم کرے گی۔
کالکی نے آئی اے این ایس سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہارر صنف اعصابی نظام کے لحاظ سے بہت چیلنجنگ رہا ہے، خاص طور پر  انرتھ  میں۔ میرے کردار میں ایک بےچینی اور اداسی تھی، جسے دو ماہ کی شوٹنگ کے دوران مسلسل برقرار رکھنا آسان نہیں تھا۔‘‘
انہوں نے بتایاکہ ’’اس دوران ذہنی اور جذباتی طور پر کافی دباؤ رہا کیونکہ ہارر میں کردار کی گہرائی اور خوفزدہ توانائی کو زندہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:پاکستان کے صاحبزادہ فرحان آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار


کالکی  نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ٹیم بہت اچھی تھی۔ سب نے مل کر اس سیریز کی دنیا کو شاندار بنایا ہے۔ ناظرین تیار رہیں، کیونکہ یہ شو آپ کی راتوں کی نیند اڑا دے گا۔‘‘ بھے: دی گورو تیواری مِسٹری  میں  کالکی  نے ایرینا  کا کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایرینا مکمل طور پر خیالی کردار تھا جبکہ گور و تیواری اور انڈین پیرانارمل سوسائٹی حقیقی میں موجود تھے۔ اس وجہ سے انہیں اپنے کردار میں کچھ حد تک آزادی حاصل تھی۔

یہ بھی پڑھئے:’’شارک ٹینک انڈیا‘‘ سیزن ۵؍ میں مجموعی طور پر ۹۵؍ کروڑ کی سرمایہ کاری


کالکی نے کہاکہ ’’ایرینا مصنف کی تخیل سے نکلا تھا، اس لیے کہانی کی حقیقت پر اثر ڈالے بغیر میں نے اس میں کچھ تبدیلیاں کیں۔ انڈین پیرانارمل سوسائٹی آج بھی فعال ہے، جس نے ماورائی عناصر دکھانے کی اجازت دی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ شو کی سب سے خاص بات کیا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ پسند آیا کہ یہ کہانی ماضی اور حال کے درمیان کیسے گردش کرتی ہے۔ آپ صرف تفتیش نہیں دیکھتے، بلکہ محسوس کرتے ہیں کہ تاریخ، یادیں اور غیر حل شدہ سوالات آج بھی اثر ڈالتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK