• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ابتدائی دنوں میں میرا پہلا آڈیشن میری والدہ ہی لیا کرتی تھیں‘‘

Updated: January 25, 2026, 12:27 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی اداکارہ یِشا ہرسوراکا کہنا ہےکہ میں نے باقاعدہ اداکاری نہیں سیکھی ہے، پھر بھی آج میں اتنی مصروف ہوں کہ مجھے ایکٹنگ کے ورکشاپس و غیرہ میں بھی شرکت کا وقت نہیں ہے۔

Yesha Harsora. Photo: INN
یِشا ہرسورا۔ تصویر: آئی این این

ٹی وی انڈسٹری میں بہت سی ایسی اداکارائیں ہیں جو اداکاری کے شعبے سے وابستہ نہیں ہونا چاہتی تھیں لیکن ان کی کی قسمت انہیں وہاں لے آئی ہے۔ ٹی وی انڈسٹری کی ایسی ہی ایک اداکارہ ہیں جنہوں نے فائنانس اور انشورنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے لیکن آج وہ شو بز انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی لیکن انہیں ٹی وی انڈسٹری میں مواقع ملتے گئے اور وہ آگے بڑھتی گئیں۔ ٹی وی شو ز میں نظرآنے والی اس اداکارہ کا نام یِشا ہرسورا ہےجو اس وقت ٹی وی شو ’جگداتری ‘میں کام کررہی ہیں۔ اس سے قبل وہ ’گُم ہیں کسی کے پیار میں دل ‘ میں مرکزی کردار نبھاچکیہیں۔ یِشا ہرسورا اپنے کام کے تئیں بہت ایماندار ہیں اور اسے بڑی لگن سے کرتی ہیں۔ وہ اس شو میں منفی کردار نبھا رہی ہیں اور اس سے بہت خوش ہیں۔ وہ اتنی مصروف ہونے کے باوجود اپنے اہل خانہ، دوستوں اور رشتہ داروں کیلئے وقت نکال لیتی ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔ انقلاب نے یِشا سےگفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے: 
ان دنوں آپ کس پروجیکٹ میں مصروف ہیں ؟
ج: اس وقت زی ٹی وی کے شو ’جگداتری ‘ میں مصروف ہوں۔ اس شو کی کہانی بہت اچھی ہے اوراب تک یہ اچھے ٹریک پرہے۔ اس شو میں میرا کردار تپسیا کا ہے جو کہ ایک منفی کیریکٹر ہے۔ میں نے اس سے پہلے منفی رول نبھائے ہیں اسلئے یہ کردار نبھانے میں بھی مزہ آرہا ہے۔ 
کیا آپ نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ آپ کو اداکارہ بننا ہے؟
ج:میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ میں اداکارہ بنوں گی کیونکہ میں نے فائنانس اور انشورنس سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور میرا خاندانی پس منظر بھی فلمی نہیں ہے۔ میں فائنانس کے شعبے میں کام کرنا چاہتی تھی لیکن ٹی وی انڈسٹری میں داخلہ میری چھوٹی بہن کی وجہ سے ہوا۔ جب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی تھی تو وہ مختلف پروجیکٹ میں مصروف تھی۔ وہ ڈیلی سوپس میں کام کررہی تھی۔ میں اور میری بڑی بہن اس کے ساتھ آڈیشن کیلئے جایا کرتی تھیں۔ اس نے کئی آڈیشن میں کامیابی حاصل کی تھی اورجب اس کے شوز کی شوٹنگ ہوتی تھی تب ہم وہ دیکھنے بھی جایا کرتے تھے۔ میری بہن کے آڈیشن کے دوران پروڈکشن ہاؤس ہمیں بھی آڈیشن دینے کیلئے کہتے تھے۔ پہلے میں نے سوچا کہ یہ سب مشکل ہے، میں کہاں کر پاؤں گی لیکن بعد میں آڈیشن دینا شروع کردیا۔ بہت سے آڈیشن کا حصہ بننے کے بعد مجھے پہلا بریک ملا اور اس وقت میں ۱۹؍برس کی تھی۔ میراپہلا شو ’گُم ہے کسی کے پیار میں دل ‘ تھا۔ ایک شو کے بعد مجھے دیگر آڈیشن کی بھی پیشکش آنے لگی لیکن میں نے اس طرف توجہ نہیں دی کیونکہ میں نے ایکٹنگ کی باقاعدہ ٹریننگ نہیں لی تھی۔ میری بڑی بہن نے مجھ سے کہا کہ تم میں اداکاری کی صلاحیت ہے اسی لئے پروڈکشن ہاؤس آڈیشن کی پیشکش کررہے ہیں۔ میں نے آڈیشن دیئے تو مجھے ’خوبصورت‘ نامی شو ملا لیکن یہ شو جلد بند ہوگیا جس کی وجہ سے میرا حوصلہ تھوڑا کم ہوگیا۔ میں نے سوچا اداکاری میرے بس کا روگ نہیں ہے اسلئے اپنی فائنانس کی دنیا میں چلتے ہیں، لیکن دل میں یہ خیال بھی تھا کہ اسی طرح میں ہر پیشہ چھوڑتی رہی تو کہیں کامیاب نہیں ہوسکوں گی۔ پھر میں نے طے کر لیا کہ ایک شعبے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور آگے بڑھتےہیں۔ دوسری بات یہ کہ آڈیشن دیتے ہوئے میں نے اچھی خاصی اداکاری سیکھ لی تھی۔ مسلسل آڈیشن کے بعد مجھے’پاکیٹ میں ہے آسمان ‘ نامی شو ملا، جس میں میں نے منفی کردار نبھایا۔ شائقین کو یہ بہت پسند آیا۔ اس کے بعد میں نے منفی کردار ہی پر توجہ دینی شروع کردی کیونکہ اس میں اپنی صلاحیتوں کو پیش کرنے کا زیادہ موقع ملتاہے۔ 
ایکٹنگ کو نکھارنے کیلئے ورکشاپس وغیرہ میں بھی شرکت کرتی ہیں ؟
ج:ایمانداری سے کہوں تو میں نے کسی بھی انسٹی ٹیوٹ یا ادارے سے اداکاری نہیں سیکھی ہے۔ جب بھی کسی شو سے میرا نام ہٹ جاتا تھا تو میں یہی سوچتی تھی کہ اب ایکٹنگ چھوڑ دینی ہے لیکن چند دنوں کے بعد خودکو سمیٹ کر میں اسی کام میں مصروف ہوجاتی تھی۔ اگر کبھی سوچتی کہ مجھے باقاعدہ اداکاری سیکھنی چاہئے تو اس وقت میرے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ میری دوستوں نے بھی مجھے مشورہ دیا تھاکہ میں تھیٹرس یاورکشاپس میں شرکت کروں لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے میں اس جانب توجہ نہیں دے سکی اور اس کا مجھے افسوس بھی نہیں ہے۔ میں جو کرتی ہوں وہ اپنے طورپر کرتی ہوں۔ 
آپ کے اہل خانہ نے ایکٹنگ شعبے میں آپ کو کتنا سپورٹ کیا؟
ج:میرے والدین نے مجھے پورا سپورٹ کیا۔ ان کی وجہ ہی سے میں آج اس مقام پر ہوں۔ ابتدائی دنوں میں میری والدہ ہی میرا پہلا آڈیشن لیا کرتی تھیں۔ میں ان کے سامنے مختلف کردار نبھایا کرتی تھی۔ والد مصروف ہونے کے باوجود مجھے شوٹنگ کے مقام پر چھوڑتے تھے اور پھر لینے بھی آتےتھے۔ ان کی مدد کے بغیر میں آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ میرے والدین کا یہ سوچنا تھاکہ بچیاں جو کرنا چاہتی ہیں، انہیں کرنے دیا جائے اور ان پر کوئی پابندی نہ عائد کی جائے۔ وہ تو یہ بھی کہتے تھے کہ ٹی و ی شوز میں کام کرنا ہے توکرو، اگر ملازمت کرنی ہے تو وہ بھی کرسکتی ہو۔ ان کے سپورٹ کے بغیر میں آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ 
شوبزانڈسٹری میں خود کوقائم رکھنا آسان نہیں ہے، ایسے میں آپ نے کس طرح خود کو یہاں برقرار رکھا؟
ج:میرے لئے انڈسٹری میں قائم رہنا کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ سیٹ پر جس طرح کے حالات ہوتے ہیں، ان سے نمٹنا مشکل کام ہوتاہے۔ بحیثیت ایک اداکارہ میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اپنی فنٹیس کا خیال رکھنا ہوتاہے، ہمیں بالوں اور دیگر چیزوں کا خیال رکھنا ہوتاہے کیونکہ ہمیں برسوں تک اسی شعبے میں کام کرنا ہےتو اس معاملے میں لاپروائی نہیں کرسکتے۔ دوسری بات شائقین کو لگتاہے کہ اداکاری آسان ہے لیکن یہ بہت مشکل ہے۔ کسی انسان کے سامنے اپنے جذبات کااظہار آسان ہوتا ہےلیکن کیمرے کے سامنے بیان کرنا مشکل ہوتاہے۔ 
کیا آپ ٹی وی سے آگے بڑھنا چاہتی ہیں ؟
ج:ہر اداکار کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھے اور میری بھی ہے۔ لیکن اس وقت ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کیونکہ میں ٹی وی پر ہی زیادہ مصروف ہوں۔ ٹی وی کا معاملہ ایسا ہے کہ یہاں کام زیادہ ہے، آپ خالی نہیں رہتےہیں اور پیسہ بھی ملتا رہتا تھا۔ فلموں میں اداکاری کرنے والے اکثر اداکار گھر پر ہی نظرآتے ہیں۔ ٹی وی انڈسٹری میں جب بہت زیادہ کام کرلوں گی اور مجھ میں یہ اعتماد آجائے گا کہ میں فلم یا او ٹی ٹی میں کام کرسکتی ہوں تو میں ضرور اس طرف متوجہ ہو ں گی۔ ورنہ میں ٹی وی میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں ہی بہتری سمجھتی ہوں۔ 
نجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں آپ کس طرح توازن برقرار رکھتی ہیں ؟
ج:شوبز انڈسٹری میں زندگی بہت مصروف ہوتی ہے۔ ہم لوگ ۱۲؍ گھنٹے کام کرتے ہیں اور جلد چھٹی بھی نہیں ملتی۔ ہاں جب شوٹنگ جلدی ختم ہوجاتی ہے تو میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارتی ہوں۔ ان کے ساتھ باہر کھانا کھانے نکل جاتی ہوں۔ اپنے والدین کو ساحل پر سیر کروانے کیلئے لے جاتی ہوں۔ کبھی اگر جلد گھر واپس آگئی تو اپنے اہل خانہ کے ساتھ فلم دیکھنے بھی چلی جاتی ہوں۔ دوستوں کیلئے بھی اسی طرح وقت نکلتا ہے کیونکہ ان کا ٹائمنگ الگ ہے اورمیرا وقت الگ ہوتاہے۔ بس کوشش یہی کرتی ہوں کہ اپنی نجی زندگی میں بھی توازن برقرار رکھوں ۔ 
اداکاری کے ساتھ اور کیا کرنا پسند ہے؟
ج:اداکاری کے ساتھ مجھے کھانا بنانابہت پسند ہے۔ میں اچھے اچھے پکوان بنالیتی ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی مجھے مہندی لگانا بھی اچھا لگتاہے۔ میں ہاتھوں پر بہت اچھی ڈیزائن بنالیتی ہوں۔ کبھی کبھی مجھے اپنی صحت پر توجہ دینا بہت اچھا لگتاہے۔ اس وقت میں اپنی صحت کے بارے میں ہی فکر کرتی رہتی ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK