Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۰؍ سے زائد ثقافتی شخصیات کا برٹش میوزیم کوخط، فلسطینی تاریخ نہ مٹانے کا مطالبہ

Updated: March 11, 2026, 9:06 PM IST | London

۲۰۰؍ سے زائد ثقافتی شخصیات نے برٹش میوزیم کو خط لکھ کر فلسطینی تاریخ نہ مٹانے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ واضح یکجہتی کا اظہار کرے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کی ۲۰۰؍ سے زائد ثقافتی شخصیات نے برٹش میوزیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ واضح اور غیر مبہم یکجہتی کا اظہار کرے۔ یہ مطالبہ اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے کہ میوزیم کی کئی گیلریوں سے فلسطین کے حوالے ہٹائے جا رہے ہیں۔برٹش میوزیم کے ٹرسٹیان کے نام کھلے خط میں ثقافتی میدان سے تعلق رکھنے والی۲۰۰؍ سے زائد شخصیات نے کہا کہ ’’نسل کشی کا دائرہ کسی قوم کے ثقافتی اور تاریخی وجود کو مٹانے تک پھیلا ہوا ہے۔‘‘مہم گروپ کلچر انسٹینڈ کے زیر اہتمام اس خط پر اداکارہ میکسین پیک اور جولیٹ ا سٹیونسن، موسیقار برائن اینو اور معمار جیریمی ٹل اور سارہ وِگلزورتھ کے علاوہ جیوش آرٹسٹس فار فلسطین، آرکیالوجسٹ اگینسٹ اپارتھائیڈ اور آرٹسٹس اینڈ کلچر ورکرز لندن نے بھی دستخط کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی قانون ساز اینڈی اوگلز کے مسلم مخالف بیان پر سیاسی ہلچل، چو طرفہ مذمت

واضح رہے کہ یہ خط اس وقت سامنے آیا جب برٹش میوزیم نے ان رپورٹس کی تردید کی کہ اس نے یوکے لائرز فار اسرائیل کے خط کے بعد کچھ گیلریوں سے فلسطین کا لفظ ہٹا دیا ہے۔ تاہم میوزیم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے دو تختوں میں ’’ترمیم‘‘ کی ہے اور دوسری گیلریوں میں فلسطین کے تاریخی اصطلاح کے استعمال کا جائزہ لے رہا ہے۔گزشتہ ماہ برٹش میوزیم نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ اس نے اسرائیل نواز وکلاء گروپ کے دباؤ کے بعد ڈسپلے سے فلسطین کا لفظ ہٹایا ہے، اور کہا تھا کہ وہ کئی گیلریوں میں فلسطین کا نام استعمال کرتا رہے گا۔خط میں میوزیم پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف مظالم میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ، ’’گزشتہ سال اسرائیلی سفارت خانے کی پرائیویٹ پارٹی کی میزبانی سے لے کر بی پی جیسی تیل کمپنی کے ساتھ شراکت داری برقرار رکھنے تک، جو اس پرتشدد جبر سے براہ راست فائدہ اٹھا رہی ہے۔‘‘ثابت کرتا ہے کہ میوزیم نے نسل کشی کے مرتکب لوگوں کے ساتھ روابط قائم کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کے متعلق تقریباً نصف خبروں میں تعصب : تحقیق

بعد ازاں دستخط کنندگان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نواز گروپ نے تاریخی فلسطین کی دو نمائشوں کی حالیہ ری لیبلنگ کو ایک مہم چلانے کے لیے استعمال کیا ہے جس کا مقصد فلسطین کو اصطلاح، جگہ، قوم اور تاریخی حقیقت کے طور پر مٹانا ہے۔خط میں زور دیا گیا کہ برٹش میوزیم کو اسرائیل نواز گروپ کے اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے اور فلسطینی عوام کے ساتھ واضح یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔ خط میں میوزیم سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے اس نتیجے کو عوامی طور پر تسلیم کرے کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے، اور اس کے مطابق عمل کرنے کا عہد کرے۔دستخط کنندگان نے میوزیم سے گزشتہ سال اسرائیلی سفارت خانے کی پرائیویٹ تقریب کی میزبانی سے ساکھ کو ہونے والے شدید نقصان کو تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK