Updated: March 11, 2026, 6:09 PM IST
| Islamabad
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ انہیں ایک بار پھر جیل کے داخلی چیک پوسٹ پر روک دیا گیا۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود خاندان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ پی ٹی آئی لیڈروں نے چیف جسٹس سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان۔ تصویر: ایکس
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ انہیں ایک مرتبہ پھر جیل کے داخلی چیک پوسٹ پر روکا گیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو بھی جیل کی جانب بڑھنے سے روک دیا۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے منگل کے روز جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود خاندان کے افراد کو پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عدالتی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: کشیدگی تیز، گرفتاریوں اور فوجی تیاریوں سے خطہ بے چین
علیمہ خان نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کو عید سے پہلے رہا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ انہیں رہا نہیں کرنا چاہتے۔ صرف بین الاقوامی سطح پر ہونے والی پیش رفت کو دیکھیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ عمران خان جیل میں کیوں ہیں۔‘‘ اس سے قبل فروری میں پاکستان تحریک انصاف کے کئی قیدی لیڈروں نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھا تھا جس میں عمران خان کو قانونی اور طبی سہولیات تک رسائی نہ دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس خط پر دستخط کرنے والوں میں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید شامل تھے۔ ان لیڈروں نے اپنے وکلا کے ذریعے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے مداخلت کریں۔ خط میں کہا گیا کہ عمران خان کو علاج کے دوران نہ تو ان کے ذاتی ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کے خاندان کے افراد یا قانونی مشیروں کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں عمران خان کو ایک طبی انجکشن کی دوسری خوراک دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: انڈین ایئر لائن کمپنیوں کی طرف سے ریاض کے لیے پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی
پی ٹی آئی لیڈروں نے خط میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ۲۰۱۹ء میں جب نواز شریف کی طبیعت خراب ہوئی تھی تو حکومت نے انہیں فوری طبی سہولت فراہم کی تھی اور ان کے ذاتی معالج کو بھی میڈیکل بورڈ کے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو دل کے عارضے کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی، جبکہ عمران خان کے معاملے میں مختلف رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی لیڈروں نے اپنے خط میں الزام لگایا کہ حکومت عمران خان کے علاج اور ملاقاتوں کے معاملے میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خاندان کو ان کے دوسرے انجکشن کے بارے میں بھی بہت دیر سے اطلاع دی گئی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ’’عمران خان کے علاج معالجے کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ان کے اہل خانہ، ذاتی وکیل اور مشیروں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔‘‘ پی ٹی آئی لیڈروں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اپنے ذاتی ڈاکٹر، قانونی مشیر اور خاندان کے افراد سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ یہ احتجاج ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کے حالات کے بارے میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں مسلسل بحث جاری ہے۔