مشہور کامیڈین اور اداکار ذاکر خان نے نیہا دھوپیا اور انگد بیدی کے شو ’’ڈبل ڈیٹ‘‘ میں اپنی زندگی کے ابتدائی سفر، اندور سے دہلی آنے اور دارالحکومت میں اپنی شناخت بنانے کے دوران پیش آنے والے تجربات کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 9:03 PM IST | Mumbai
مشہور کامیڈین اور اداکار ذاکر خان نے نیہا دھوپیا اور انگد بیدی کے شو ’’ڈبل ڈیٹ‘‘ میں اپنی زندگی کے ابتدائی سفر، اندور سے دہلی آنے اور دارالحکومت میں اپنی شناخت بنانے کے دوران پیش آنے والے تجربات کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔
مشہور کامیڈین اور اداکار ذاکر خان نے نیہا دھوپیا اور انگد بیدی کے شو ’’ڈبل ڈیٹ‘‘ میں اپنی زندگی کے ابتدائی سفر، اندور سے دہلی آنے اور دارالحکومت میں اپنی شناخت بنانے کے دوران پیش آنے والے تجربات کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے دہلی آنے کے بعد محسوس ہونے والی ثقافتی تبدیلیوں، لوگوں کے رویے اور اپنی شکل و صورت، لباس اور پس منظر کی بنیاد پر دوسروں کی جانب سے رائے قائم کیے جانے کے تجربات بھی بیان کیے۔
ذاکر خان نے بتایا کہ اندور سے دہلی منتقل ہونا ان کے لیے محض ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اس دوران انہیں ایک نمایاں ثقافتی فرق کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق دہلی میں کسی شخص کے لباس، رنگ و روپ اور ظاہری شخصیت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور جب تک کوئی شخص خود کو قائم نہ کرلے، اسے سنجیدگی سے لینے کے بجائے بعض لوگ اسے کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شری رام کو دُھرندھر بنا دیا، مکیش کھنہ نے ’’رامائن‘‘ کے وی ایف ایکس پرسوال اٹھائے
ذاکر نے گفتگو کے دوران کہا کہ جب وہ دہلی آئے تو انہیں محسوس ہوا کہ لوگوں کے بات کرنے کے انداز میں بھی ایک خاص طرح کی برتری کا احساس موجود تھا۔ ان کے مطابق، ’’جب ہم دہلی گئے تو ایک بہت بڑے ثقافتی بدلاؤ سے گزرے۔ آپ کس رنگ کے ہیں، کس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں، اس سے انہیں بہت فرق پڑتا ہے۔ جب تک آپ خود کو قائم نہیں کرلیتے، تب تک وہ آپ کو مذاق کی طرح ہی لیتے ہیں۔ ان کا بات کرنے کا طریقہ ہی ایسا ہوتا ہے، جس میں سامنے والے کو چھوٹا محسوس کرایا جاتا ہے۔ میں نے یہ دہلی میں محسوس کیا، اندور میں نہیں۔‘‘
ذاکر نے اپنے تجربے کی وضاحت کرتے ہوئے دہلی کے بعض لوگوں کے انداز گفتگو کی ایک مثال بھی دی اور بتایا کہ وہاں انہیں ایسے جملوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑا جن سے سامنے والے کو کمتر محسوس ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق، یہ تجربات ان کے لیے اس وقت زیادہ نمایاں تھے جب وہ ابھی اپنے کریئر میں خود کو قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اندور سے دہلی تک کا سفر ذاکر خان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں اہم مرحلہ ثابت ہوا۔ نئے شہر میں اپنی جگہ بنانے کے دوران انہیں جہاں مختلف لوگوں اور ماحول کا سامنا کرنا پڑا، وہیں انہوں نے اپنی صلاحیت اور منفرد انداز کے ذریعے آہستہ آہستہ اپنی شناخت قائم کی۔
گفتگو کے دوران شو کے میزبان انگد بیدی نے ذاکر خان کے ایک ایسے پہلو کا بھی ذکر کیا جس کے بارے میں عام طور پر کم بات کی جاتی ہے۔ یہ پہلو کرکٹ کے لیے ان کی گہری دلچسپی اور معلومات سے متعلق ہے۔ ذاکر خان نے بتایا کہ وہ موسیقی اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دادا نے انہیں ایک اہم بات سکھائی تھی کہ اگر آپ کسی چیز کے بارے میں بہت زیادہ پرجوش یا جنونی ہوں تو بعض اوقات خاموش رہنا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ سامنے والا بھی اسی موضوع میں اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہو۔ذاکر کے مطابق ’’میں موسیقی اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کے بارے میں کبھی زیادہ بات نہیں کرتا کیونکہ میرے دادا نے مجھے بتایا تھا کہ جب آپ کسی چیز کو لے کر بہت زیادہ جنونی ہوں تو چپ ہوجائیں۔ کیونکہ لوگ اس میں اتنی دلچسپی نہیں لیں گے۔ آپ کو پتا ہی نہیں چلتا کہ سامنے والا بور ہورہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سجیت نے شاندار مقابلہ کرتے ہوئے کشتی میں طلائی تمغہ جیتا
گفتگو میں اس وقت مزید دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب نیہا دھوپیا نے مذاق کرتے ہوئے ذاکر خان سے پوچھا کہ کیا وہ دہلی کی لڑکیوں کو لے کر بھی اتنے ہی جنونی نہیں ہیں؟ اس سوال پر ذاکر نے مختصر اور دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا، ’’نہیں۔‘‘ شو میں ذاکر خان کے ساتھ سابق ہندوستانی کرکٹر عرفان پٹھان بھی مہمان کے طور پر شریک ہوئے۔ دونوں نے اپنی زندگی، پیشہ ورانہ سفر، دلچسپیوں اور ذاتی تجربات سے متعلق مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ ’’ڈبل ڈیٹ‘‘ کا یہ خصوصی ایپی سوڈ ذاکر خان کے مداحوں کے لیے اس لحاظ سے بھی دلچسپ ہے کہ اس میں کامیڈین نے اپنی زندگی کے ایسے تجربات شیئر کیے جو ان کے عام مزاحیہ اور عوامی کردار سے مختلف پہلو پیش کرتے ہیں۔ اندور سے دہلی آنے، نئے ماحول میں خود کو منوانے، لوگوں کے رویوں کا سامنا کرنے اور کرکٹ و موسیقی کے لیے اپنی دلچسپی تک، گفتگو میں ذاکر خان کی زندگی کے کئی پہلو سامنے آئے ہیں۔