یہ سیریز بڑے دعوے کیے بغیر ہنسی، جذبات اور سماجی حقیقت کو ایک ساتھ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اسی سادگی میں اس کی اصل خوبی پوشیدہ ہے۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 12:40 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہ سیریز بڑے دعوے کیے بغیر ہنسی، جذبات اور سماجی حقیقت کو ایک ساتھ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اسی سادگی میں اس کی اصل خوبی پوشیدہ ہے۔
آدرش بال ودیالیہ
(Adarsh Baal Vidyalaya)
اسٹریمنگ ایپ: امیزون پرائم(۷؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: کے کے مینن، ارچنا پورن سنگھ، نوین کستوریا، ابھیمنیو سنگھ، دیون بھوجانی، پرسنا بشٹ، اجیتیش گپتا
ڈائریکٹر: ہمانک گور
رائٹر: بسواپتی سرکار، اکشے استھانا
پروڈیوسر: بسواپتی سرکار، سمیر سکسینہ، امیت گولانی، سوربھ کھنہ
موسیقار: سنی ایم آر
سنیماٹوگرافر: شاز محمد
ایڈیٹر: ہرشت شرما
آرٹ ڈائریکٹر: مہک رستوگی
پروڈکشن ڈیزائن: پرشانت رے، شردھا واسوگوادا
ریٹنگ: ***
آج پورے ملک میں تعلیمی نظام پر مسلسل سوال اٹھ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ’آدرش بال ودیالیہ‘ سرکاری اسکولوں کی بدحالی، محدود وسائل، وہاں پڑھنے والے بچوں اور انہیں پڑھانے والے اساتذہ کے روزمرہ مسائل کو مزاح کے رنگ میں خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ ہدایت کار ہمانک گور کی یہ ویب سیریز بتاتی ہے کہ سنجیدہ مسائل کو بھی مؤثر انداز میں ناظرین کے سامنے پیش کیاجاسکتا ہے اور ساتھ ہی ان سےبھرپور تفریح بھی کی جاسکتی ہے۔ تقریباً ۴۰؍، ۴۰؍ منٹ کے۷؍ایپی سوڈپر مشتمل یہ سیریز اپنی اسٹار کاسٹ کے حوالے سےبھی خاصی توجہ حاصل کرتی ہے، جس میں کے کے مینن، ارچنا پورن سنگھ، دیون بھوجانی، ابھیمنیو سنگھ، نوین کستوریا اور پرسنا بشت جیسے تجربہ کار فنکار شامل ہیں۔
کہانی
کہانی کا آغاز دہلی کی ٹنکی ٹولی کے سرکاری اسکول ’آدرش بال ودیالیہ‘ سے ہوتاہے۔ نام کے بالکل برعکس یہ اسکول بدحالی اور خستہ حالی کا شکار ہے۔ اسکول کی حالت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی عمارت بوسیدہ ہوچکی ہے۔ اسکول کے احاطے میں محلے کے لوگ کپڑےسکھاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ علاقے کا رکن اسمبلی گولڈی، جس کا کردار دیون بھوجانی نے ادا کیا ہے، اسکول کو اپنے ذاتی ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اسکول میں پڑھائی کا ماحول بھی کچھ خاص نہیں۔ طلبہ اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں اسکول کا پرنسپل گیانیشور ترپاٹھی، جس کا کردار کے کے مینن نے ادا کیا ہے، ’’ایک تو کریلا، اوپر سے نیم چڑھا‘‘ والی کہاوت کو سچ ثابت کرتا نظر آتا ہے۔ وہ ایسا پرنسپل ہے جس کے اسکول کی کارکردگی سب سےخراب ہے، لیکن اسے اس کی کوئی خاص فکر نہیں۔ وہ الٹا بے فکر اور شرارتی بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے میں مصروف رہتا ہے۔ کہانی میں دلچسپ موڑ اس وقت آتا ہے جب ایک دن گیانیشور کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اسکول کی قسمت بدل سکتی ہے۔ اس کے بعدوہ اپنے اسکول اور بچوں کی حالت سدھارنے کے لیے سرگرم ہوجاتا ہے۔ دراصل محکمۂ تعلیم اعلان کرتا ہے کہ اگر ’آدرش بال ودیالیہ‘ دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے نتائج کی بنیاد پر دہلی کے ٹاپ ۱۰؍سرکاری اسکولوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پرنسپل اور ان کی اہلیہ کو کیمبرج یونیورسٹی میں خصوصی تربیت کے لیے بھیجا جائے گا۔ اپنی اہلیہ سشما، جس کا کردار پراچی شاہ نے ادا کیا ہے، کا بیرون ملک گھومنے کاخواب پورا کرنے کی خواہش میں گیانیشور اس ناممکن دکھائی دینے والے مشن کو قبول کرلیتاہے۔ اب اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج غیر سنجیدہ اور بے دل اساتذہ میں جوش پیدا کرنا، نظم و ضبط سے عاری اور لاپروا طلبہ کو پڑھائی کے لیے تیار کرنا اور ساتھ ہی علاقے کے سیاسی رہنما گولڈی اور اس کی شاطر ساتھی ارمیلا کی سیاسی مداخلت سے نمٹنا ہے۔ کیا گیانیشور اپنے مقصد میں کامیاب ہوپائےگا؟ اس کا جواب جاننے کیلئے آپ کو یہ سیریز دیکھنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: رکتانچل سیزن۳: بدلے کی آگ میں سلگتی ایک خونریز جنگ
ہدایت کاری
ہدایت کار ہمانک گور کی یہ سیریز ابتدا ہی سے دلچسپ اور تفریحی اندازاختیار کرلیتی ہے۔ پہلے ہی ایپی سوڈ سے ناظرین ایک ایسے سرکاری اسکول کی دنیا میں پہنچ جاتےہیں جہاں ہر روز کوئی نہ کوئی عجیب و غریب واقعہ پیش آتارہتا ہے۔ سیریز کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سنجیدہ سماجی اور تعلیمی مسائل کو بھی ہلکے پھلکے مزاح کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ چاہے مڈ ڈے میل میں ملنے والی کھیر کی محرومی کی بچوں کیلئےاہمیت دکھانا ہو، بچوں کو سزا دینے اور انہیں سنبھالنے کے طریقوں پر سوال اٹھانا ہو یا صرف نام کی غلطی کی وجہ سے سائیکل کا انعام لڑکی کے بجائے لڑکے کو مل جانا ہو، ایسے کئی واقعات ہیں جو ناظرین کو ہنساتے بھی ہیں اور سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔
اداکاری
فنکاروں کی اداکاری ہی اس سیریز کو حقیقی معنوں میں تفریحی بناتی ہے۔ سنجیدہ اور گہرے کرداروں کے ماہر کے کے مینن کو مزاحیہ کردار میں دیکھنا خاصا دلچسپ اور ہنسانے والا تجربہ ہے۔ ممبئی کی زبان میں کہیں تو ایک بدحال پرنسپل کے طور پر ان کی ہر وقت ’واٹ‘ لگی رہتی ہے، اور کے کے مینن نے اس کیفیت کو اپنے مخصوص انداز میں نہایت عمدگی سے پیش کیا ہے۔ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی شاطر ارمیلا کے کردارمیں ارچنا پورن سنگھ خوب جچتی ہیں۔ ’ٹوسٹر‘ کے بعد ایک بار پھر انہیں مضبوط کردار میں دیکھنا خوشگوار تجربہ ہے۔
نتیجہ
اگر آپ سنجیدہ مسائل کو تفریحی انداز میں دیکھنا چاہتے ہیں اور سادگی سے بھرپور کہانیاں آپ کو اچھی لگتی ہیں تویہ دیکھ سکتے ہیں۔