• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

علی باغ بیچ:ملک کے دلکش ترین ساحلوں میں سے ایک

Updated: February 12, 2026, 12:31 PM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai

یہاں کی سیاہی مائل ریت ایک الگ ہی دلکشی رکھتی ہے،یہ ممبئی سے زیادہ دور نہیں لیکن یہاں کی فضا ایسی ہے کہ آپ کسی اور دنیا میں داخل ہوگئے ہوں۔

A Breathtaking View Of The Sunset.Photo:INN
غروب آفتاب کا دلفریب نظارہ۔ تصویر:آئی این این

مہاراشٹر میں کوکن کی ساحلی پٹی پرپھیلا ہوا علی باغ بیچ ملک کے چند پرسکون اورخوبصورت ساحلوں میں شمار ہوتا ہے۔یہ محض ایک سیاحتی مقام نہیں، بلکہ شہر کی شورو غل سے بھری فضا سے تھکے ہوئے انسانوں کیلئےپرسکون لمحات کامرکزہے۔ ممبئی سے زیادہ دور نہیں، مگر فضا ایسی کہ جیسے آپ کسی اور دنیا میں قدم رکھ رہے ہوں،ہوا میں نمکین خوشبو، ریت پر لہروں کی لکیریں اور دور افق پر کھڑا قلابہقلعۂ، ماضی کی داستان سناتا دکھائی دیتا ہے۔علی باغ کو اکثر ’منی گوا‘ کہا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی اپنی ایک پہچان ہےکہ یہ سادہ اور دلکش ہونے کے ساتھ قدرتی حسن سے مالامال ہے۔
تاریخی پس منظر
اس شہر کی تاریخ کافی قدیم ہے۔کہا جاتا ہے کہ  آج سے تقریباً ۲؍ہزار سال قبل رومن ایمپائر کے مظالم سے تنگ آکر کچھ یہودی فرار ہوکر یہاں آگئے تھے۔یہاں پہنچ کر ان کی کشتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی تھی تو انہوں نے اس علاقے میں ہی قیام کرلیا۔چونکہ انہیں بیجوں سے تیل نکالنا ہی آتا تھا اس لئے وہ یہاں بھی یہی کام کرنے لگے۔لیکن یہودی روایات کے تحت وہ سنیچر کو چھٹی کیا کرتےتھے  اس لئے انہیںسنیچر کو چھٹی منانے والے تیلی کی مناسبت سے انہیں ’شنیوارتیلی‘ کہا جانے لگا ۔ان میں سے اکثر کے نام علیشا/علیزے ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے آم اور ناریل کے کئی باغ بھی لگا لئے تھے اس وجہ سے مقامی افراد کے ذریعہ اس علاقے کو ’علی چا باغ‘ کہا جانے لگا اور پھر آہستہ آہستہ پورے علاقے کو ہی ’علی باغ‘ کہا جانے لگا جو سب جگہ مشہور ہوگیا اور آج یہ پورا علاقہ اسی نام سے مشہور ہے۔
سیاحتی نقطہ نظر سے اہمیت
علی باغ بیچ کی ریت سیاہی مائل ہے، جو اسے دیگر سنہری ساحلوں سے مختلف بناتی ہے۔ مگر یہی فرق اسے ممتاز بھی کرتا ہے۔ صبح کے وقت یہاں واک کرنےوالوں کی آہستہ قدمی، گھوڑوں اور بگھیوں کی سواری، بچوں کی قہقہے بھری آوازیں اور دور سے آتی لہروں کی گونج یہ سب ایک زندہ مگر پر سکون منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ سورج غروب ہونے کا منظر یہاں خاص طور پر دلکش ہوتا ہے۔ نارنجی، سنہری اور سرخی مائل روشنی جب سمندر کی سطح پر پھیلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان اورپانی ایک دوسرے میں گھل گئے ہوں۔
علی باغ بیچ کی دوسری سب سے نمایاں پہچان اس کے اندر موجودقلابہ قلعہ ہے، جسے سترہویں صدی میں مراٹھا حکمراں شیواجی مہاراج نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ قلعہ سمندر کے بیچوں بیچ کھڑا ہے اور مد و جزر کے حساب سے کبھی پانی میں گھرا ہوا نظر آتا ہے اور کبھی پیدل پہنچ میں آ جاتا ہے۔ جب پانی کم ہوتا ہے تو لوگ ریتلے راستے پر چلتے ہوئے قلعے تک پہنچ جاتے ہیں،یہ منظر خود میں ایک تجربہ ہے، جیسے تاریخ کی طرف واپسی ہو رہی ہو۔قلعے کی فصیلوں سے سمندر کا نظارہ، ڈوبتے سورج کی روشنی اور ہوا کا تیز جھونکایہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو ذہن میں دیر تک باقی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رُدر فورڈ اور موتی کی شاندار کارکردگی، ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو شکست دے دی

یہاں کیسے پہنچیں؟
ممبئی سےعلی باغ جانا انتہائی آسان ہے۔یہاںجانے کا سب سے آسان راستہ سمندر کے ذریعہ ہے۔
سمندرکےراستے :سمندر کے راستے یہاں جانے کیلئے آپ کوگیٹ وے آف انڈیا پہنچنا ہوگا جہاں سے کئی طرح کی کشتیاں جاتی ہیں جو آپ کو مانڈوہ پہنچا دیتی ہیں۔ ان کشتی کے مالکن ہی یہاں بسوں کا بھی انتظام کرتے ہیں اور ان بسوں کا ٹکٹ کشتی کے ٹکٹ میں شامل ہوتا ہے۔ یہ بسیں آپ کو براہ راست علی باغ کے مرکزی علاقے میں پہنچا دیتی ہیں جہاں سے آپ ساحل تک پہنچ سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:پران نے طویل عرصے تک بطور ویلن فلموں پر راج کیا

اس کے علاوہ یہاںجانے کیلئے’رو رو  سروس‘ بھی دستیاب ہے۔ لیکن  اس بڑی اور شاندار کشتی میں سفر کرنے کیلئے آپ کو مجگائوں میں واقع ’بھائوچا دھکا‘ تک جانا ہوگا۔ یہاں سے آپ کواس شاندار کشتی میں سوار ہونے کا موقع مل جائے گا۔اس کشتی کے ذریعہ آپ اپنی کار بھی لے جاسکتے ہیںجسے سے علی باغ میں سفر آسان ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK