یہ ووٹنگ ریپبلکن اکثریتی ایوان کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف ایک غیر معمولی تنقید سمجھی جا رہی ہے، ایسے وقت میں جب کانگریس کے اراکین کو وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 2:07 PM IST | Washington
یہ ووٹنگ ریپبلکن اکثریتی ایوان کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف ایک غیر معمولی تنقید سمجھی جا رہی ہے، ایسے وقت میں جب کانگریس کے اراکین کو وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک ایسا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کنیڈا پر عائد کردہ محصولات (ٹیرف) واپس لیے جا سکیں گے۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ انتظامیہ سے اختلاف کرنے کی آمادگی بڑھ رہی ہے۔بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں کئی ریپبلکن اراکین نے پارٹی پالیسی کے برعکس ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ووٹ دیا۔
حتمی نتائج کے مطابق ۲۱۹؍ ووٹ ٹرمپ کے ہنگامی اختیارات کے تحت کنیڈا پر ٹیرف عائد کرنے کے اختیار کے خاتمے کے حق میں ڈالے گئے جبکہ۲۱۱؍ اراکین نے بل کی مخالفت کی۔یہ ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ایک غیر معمولی سرزنش تھی، جہاں ریپبلکن پارٹی کو ۲۱۸؍ نشستوں کی اکثریت حاصل ہے۔ ووٹنگ سے قبل ڈیموکریٹس نے اپنے ریپبلکن ساتھیوں کو چیلنج کیا کہ وہ ٹرمپ کی مخالفت کریں، جو پارٹی پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس، جو اس قرارداد کے محرک تھے، نے کہا کہ ’’آج کا ووٹ بہت سادہ ہے، کیا آپ امریکی خاندانوں کے لیے زندگی گزارنے کی لاگت کم کرنے کے حق میں ووٹ دیں گے یا ایک شخص، ڈونالڈ جے ٹرمپ، سے وفاداری کی خاطر قیمتیں بلند رکھیں گے؟‘‘یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ میں اہم وسط مدتی انتخابی موسم شروع ہو رہا ہے۔ ابتدائی پارٹی انتخابات (پرائمریز) مارچ میں شروع ہوں گے جبکہ عام انتخابات نومبر میں ہوں گے۔
ایوانِ نمائندگان کے تمام اراکین اپنے اپنے حلقوں سے دوبارہ انتخاب کے لیے میدان میں ہوں گے۔ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر ریپبلکن اراکین کو ایک مشکل انتخاب کا سامنا ہے یا تو وہ ان کی کم مقبول پالیسیوں کی مخالفت کریں یا پھر ممکنہ انتخابی نقصان کے باوجود ان کی حمایت جاری رکھیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے خبردار کیا کہ جو بھی ریپبلکن بدھ کے بل کے حق میں ووٹ دے گا، اس کے انتخابی امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:لوک سبھا میں راہل کی دھواں دھار تقریر
ووٹنگ سے قبل سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’’ایوان یا سینیٹ میں کوئی بھی ریپبلکن جو ٹیرف کے خلاف ووٹ دے گا، اسے انتخابات کے وقت سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے اور اس میں پرائمریز بھی شامل ہیں۔‘‘
انہوں نے کنیڈا جو امریکہ کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار اور قریبی اتحادی ہے، پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ اپنے جنوبی ہمسائے کے ساتھ ناانصافی کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایک اور پیغام میں کہا کہ کنیڈا نے کئی برسوں تک تجارت کے معاملے میں امریکہ سے فائدہ اٹھایا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہاکہ ’’ہمارے شمالی سرحدی معاملات میں ان سے نمٹنا دنیا میں سب سے مشکل میں سے ہے۔ ٹیرف ہمارے لیے آسان فتح ثابت ہوتے ہیں۔ ریپبلکنز کو اسے اسی طرح برقرار رکھنا چاہیے!‘‘
یہ بھی پڑھئے:حماس نے غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی کو مسترد کر دیا
بدھ کو منظور ہونے والا بل اب امریکی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی منظوری کا امکان ہے۔ سینیٹ پہلے بھی اسی نوعیت کی قانون سازی منظور کر چکی ہے، جس کا مقصد ٹرمپ کے کنیڈا پر عائد ٹیرف کو محدود کرنا تھا پہلی بار اپریل میں اور بعد ازاں گزشتہ سال اکتوبر میں۔تاہم اس قانون کے نافذ ہونے کا امکان کم ہے۔ اگر یہ سینیٹ سے منظور بھی ہو جائے تو توقع ہے کہ ٹرمپ اس پر ویٹو کر دیں گے۔