یہاںموجود بعض مقامات پر وادیٔ سندھ کی تہذیب سے بھی قدیم انسانی آبادیوں کے آثار دریافت ہوئے ہیں جن میں ہڑپہ تہذیب کے شواہد شامل ہیں۔
لوہارو قلعہ دیکھا جاسکتا ہے-تصویر:آئی این این
ہریانہ کے جنوب مغربی حصے میں واقع بھیوانی ایک ایسا شہر ہے جسےعموماً’چھوٹی کاشی‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس لقب کی وجہ یہاں موجود قدیم مندر ہیں۔ لیکن بھیوانی صرف مذہبی اہمیت ہی نہیں رکھتابلکہ اس کی سرزمین تاریخ، آثارِ قدیمہ، قدرتی حسن اور ثقافتی ورثےسے بھی مالا مال ہے۔ مغل دور سے لے کر جدید ہندوستان تک، یہ شہر تجارت، ثقافت اور مذہبی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔
تاریخی حیثیت
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق بھیوانی ضلع میں موجود بعض مقامات پر وادیٔ سندھ تہذیب سے بھی قدیم انسانی آبادیوں کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ خصوصاً متیھل اور توشام کی پہاڑیوں کے علاقے میں ہونے والی کھدائیوں سے قبل از ہڑپہ اور ہڑپہ تہذیب کے شواہد ملے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خطہ ہزاروں برس سے انسانی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔
اسٹار مونومنٹ
بھیوانی سےتقریباً ۱۱؍ تا ۱۲؍کلومیٹر دور دینود گاؤں میں واقع اسٹار مونومینٹ ضلع کی سب سے مشہور یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔یہ یادگارسنت تارا چندکی سمادھی کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ستارے کی شکل میں تعمیر کی گئی ہے اور اس کی پوری عمارت میں کوئی ستون موجود نہیں۔تقریباً ۸۸؍ فٹ بلند یہ یادگار اپنی منفرد طرزِ تعمیر کے باعث ملک بھر کے معماروں اور سیاحوں کی توجہ حاصل کرتی ہے۔ اس یادگار کے گرد خوبصورت باغات، فوارے، سنگِ مرمر کے راستے اور پھولوں کی کیاریاں قائم کی گئی ہیں۔ رات کے وقت رنگ برنگی روشنیوں میں نہایا ہوا یہ مقام انتہائی دلکش منظر پیش کرتا ہے۔
لوہارو قلعہ
بھوانی کے مضافات میں واقع لوہارو قلعہ اس خطے کے شاہی اور جنگی ماضی کا آئینہ دار ہے۔یہ قلعہ کئی صدیوں پرانا ہے اور اس کا تعلق لوہارو کی سابقہ ریاست کے نوابوں سے ہے۔ قلعے کی پرانی دیواریں، برج اور دروازے آج بھی گزرے ہوئے دور کی کہانیاں سناتے ہیں۔ تاریخ اور پرانی طرزِ تعمیر سے لگاؤ رکھنے والوں کے لیے یہ ایک لازمی دیکھنے والی جگہ ہے۔
نورنگ آباد ٹیلہ
اگر آپ قدیم تاریخ اور آثارِ قدیمہ میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو نورنگ آباد کا ٹیلہ آپ کے لیے بے حد اہم ہے۔ اس جگہ کی کھدائی کے دوران قدیم تہذیبوں کے آثار ملے ہیں، جن میں سکے، مٹی کے برتن اور مورتیاں شامل ہیں۔ یہ جگہ یودھیاخاندان کے دور کی بتائی جاتی ہے، جو اس علاقے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کو ثابت کرتی ہے۔
منی چڑیا گھر
خاندان کے ساتھ تفریح کے خواہش مند افراد کے لیے بھیوانی منی چڑیاگھرایک بہترین مقام ہے۔۱۹۸۲ءمیںقائم ہونے والا یہ چڑیاگھر تقریباً ۱۱؍ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں شیر، تیندوا، مگرمچھ،دریائی گھوڑا، ہرن، لومڑی اور متعدد اقسام کے پرندے موجود ہیں۔ بچوں کے لیے کھیل کے میدان، بیٹھنے کی جگہیں اور سرسبز راستے بھی بنائے گئے ہیں۔
توشام کی پہاڑیاں
بھیوانی ضلع کا سب سے دلچسپ قدرتی اور تاریخی مقام توشام کی پہاڑیاں ہیں۔یہ پہاڑیاں اراؤلی سلسلے کا حصہ سمجھی جاتی ہیں اور ان کی تاریخ ہزاروں برسوںپر محیط ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہاں قدیم کان کنی، دھات پگھلانے کے مراکز اور قدیم انسانی آبادیوں کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔
توشام پہاڑی پر چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی کا مشہور ’توشام راک انسکرپشن‘بھی موجود ہے، جو اس علاقے کی قدامت کا اہم ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ پہاڑی کے اوپر قدیم قلعےکی فصیلوں کے کھنڈر بھی دیکھے جا سکتے ہیں جنہیں بعض مورخین پرتھوی راج چوہان کے دور سے جوڑتے ہیں۔ یہاں موجود قدرتی غار، سلفر والے مقدس کنڈ اور بلند چٹانیں سیاحوں اور ٹریکنگ کے شوقین افراد کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔
چودھری سریندر سنگھ پارک
شام کے وقت سکون سے بیٹھنے اور ٹہلنے کے لیے یہ شہر کا سب سے بہترین پارک ہے۔یہاں وسیع و عریض سبزہ زار، رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں اور دلکش فوارے نصب ہیں۔ پارک میں بچوں کے کھیلنے کے لیے جھولے اور کھلی جگہ موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک بہترین فیملی پکنک اسپاٹ بن جاتا ہے۔
ہڈا پارک
ہڈا پارک مقامی باشندوں کے لیے سیر و تفریح کا اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں لوگ یہاں چہل قدمی، ورزش اور خاندانی تفریح کے لیے آتے ہیں۔