سہیادری کے پہاڑی سلسلے میں تقریباً ۲؍ہزارفٹ کی بلندی پرواقع یہ قلعہ دیگر قلعوں جیسی شہرت نہیں رکھتا، لیکن اس کا پُرسکون ماحول اسے اہم بناتا ہے۔
پہاڑ پر واقع ایک غار نظر آرہا ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح جارہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر ہندوستان کا وہ خطہ ہے جہاں سہیادری کے پہاڑی سلسلوںمیں ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی تاریخی قلعہ آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ بھورگیری قلعہ، جسے بھوراپ گڑھ بھی کہا جاتا ہے، ضلع پونے میں بھیماشنکر کے قریب واقع ایک تاریخی پہاڑی قلعہ ہےجو سہیادری کے پہاڑی سلسلے میں تقریباً ۲؍ہزارفٹ کی بلندی پر قائم ہے۔ یہ قلعہ اگرچہ مہاراشٹر کے دیگر مشہور قلعوں جیسا شہرت نہیں رکھتا، لیکن اس کا پُرسکون ماحول، گھنے جنگلات اور تاریخی اہمیت اسے ایک منفرد سیاحتی مقام بناتے ہیں۔
تاریخی پس منظر
بھورگیری قلعے کے بارے میں تحریری تاریخی دستاویزات بہت کم ہیں، تاہم اس کا محلِ وقوع یہ بتاتا ہے کہ یہ قلعہ کوکن ساحل کو پونے کے اندرونی علاقے سے جوڑنے والے قدیم تجارتی راستے پر نگرانی کے مقصد سے تعمیر کیا گیا تھا۔بتایاجاتا ہےکہ یہ قلعہ یادو سلطنت کے دورمیں تعمیر ہوا تھا۔بعض مورخین کے مطابق یہ نویں صدی میں بھیماشنکرکی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا۔
بھور گیری، بھیماشنکر اور کھانڈس کا یہ علاقہ قدیم تجارتی راستہ تھا۔ اس زمانے میں کلیان بندرگاہ پر اترنے والا سامان اسی راستے سے کھیڑ راج گرو نگر کی طرف آتا تھا۔ یوں یہ قلعہ تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی اور راستے کی حفاظت کا اہم مرکز تھا۔
محل وقوع
بھورگیری قلعہ ضلع پونے میں بھیماشنکرکے قریب واقع ہے اور پونےسے اس کا فاصلہ تقریباً ۹۵؍کلومیٹر ہے۔ قریب ترین شہر راج گرو نگر (کھیڑ) ہے اور یہ قلعہ راج گرو نگر سے تقریباً ۴۵؍کلومیٹر مغرب میں بھیماشنکر کی پہاڑی سے الگ ایک چھوٹی پہاڑی پر واقع ہے۔ قلعے کی پہاڑی کے دونوں جانب بھیما ندی اور اس کی ایک چھوٹی شاخ بہتی ہے۔
قلعے کی ساخت اور تعمیر
بھورگیری قلعہ جس پہاڑی پر واقع ہے وہ زیادہ بلند نہیں، اسی لیےاس تک پہنچنانسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔ قلعے کے آثار اب کھنڈرات کی صورت میں موجود ہیں، مگر ان باقیات کو دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ کبھی یہاں ایک مضبوط فصیل اور داخلی دروازہ موجود تھا۔
قلعے کے احاطے میں چند پرانے پتھریلے ڈھانچے، پانی کے ذخیرے اور قدرتی غاریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
ٹریکنگ اور مہم جوئی
بھورگیری قلعہ مہم جو سیاحوں اور ٹریکنگ کے شوقین افراد کے لیے ایک پسندیدہ منزل بن چکا ہے۔ گاؤں سے قلعے کی چوٹی تک پہنچنےمیں عام طور پر ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگتاہے۔ راستہ زیادہ دشوار نہیں، مگر بعض جگہوں پر چڑھائی اور پتھریلے راستے ٹریکنگ کو دلچسپ بنا دیتے ہیں۔اس سفر کے دوران سیاحوں کو جنگل کی خاموشی، پرندوں کی آوازیں اور ٹھنڈی ہوا کا احساس ایک الگ ہی سکون فراہم کرتا ہے۔ برسات کے موسم میں یہاں بے شمار چھوٹے بڑے آبشار نمودار ہوتے ہیں اور پہاڑی راستوں پر پانی کی دھاریں بہنے لگتی ہیں۔ اسی لیے مانسون کے مہینوں میں یہ مقام خاص طور پر ٹریکنگ اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلئے بہترین سمجھا جاتا ہے۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
ریل کےذریعہ :اگر آپ ریل کے ذریعے سفر کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ممبئی سے پونےتک ٹرین سے جاسکتے ہیں۔پونے پہنچنے کے بعد بس یا ٹیکسی کے ذریعے راجگرونگر (کھیڈ)جائیں اور وہاں سے مقامی گاڑی کے ذریعے بھورگیری گاؤں پہنچا جا سکتا ہے۔
سڑک کےراستے :ممبئی سے براہِ راست گاڑی یا موٹر سائیکل کے ذریعے جانا سب سے آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے۔یہ راستہ ممبئی سے پنویل،کھپولی،تلے گاؤں،مانچار،راجگرو نگر (کھید) ہوتے ہوئے بھورگیری گائوں تک پہنچتا ہے۔یہ سفر۱۷۰؍سے ۱۹۰؍ کلومیٹر کے درمیان ہے اورعام طور پر۴؍سے۵؍گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔