Inquilab Logo Happiest Places to Work

داتیوارے قلعہ: ساحلی تجارت کی نگرانی کرنے والا پرتگالی قلعہ

Updated: June 11, 2026, 10:17 AM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai

داتیوارے قلعہ عرف ہیرا ڈونگر مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کا ایک چھوٹا مگر تاریخی ساحلی قلعہ ویترنا ندی کے کنارے ایک چھوٹی پہاڑی پر واقع ہے۔

Dativare Fort Can Be Seen From A Distance.Photo:INN
داتیوارے قلعہ کودور سے دیکھا جاسکتا ہے-تصویر:آئی این این
داتیوارے قلعہ عرف ہیرا ڈونگر مہاراشٹرکےپالگھر ضلع کا ایک چھوٹامگر تاریخی ساحلی قلعہ ہے۔یہ قلعہ ممبئی کے شمال میں ویترنا ندی کے کنارے ایک چھوٹی پہاڑی پر واقع ہے اور ارنالہ قلعے تک جانے والے راستے پر ایک اہم چوکی تھا۔
محل وقوع
پالگھر ضلع میں واقع داتیوارے گاؤں۔ ممبئی سےتقریباً ۱۰۷؍ کلومیٹر دور سفالے ریلوے اسٹیشن کے قریب ہے۔یہ قلعہ سطح سمندر سےتقریباً ۳۰۰؍فٹ کی اونچائی پر واقع ہے۔یہ سمندری قلعہ، پتھر سےبنا ہوا ہے جو اب کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے، صرف کچھ دیواریں اور برج باقی ہیں۔قلعے تک پہنچنے کے لیے داتیوارے گاؤں سے تقریباً ۳۰؍منٹ کی آسان چڑھائی ہے۔
تاریخی پس منظر
مانا جاتا ہے کہ اس قلعے کو ابتدائی طور پر ۱۵۴۸ءمیںپرتگالیوں نے ایک فوجی چوکی یا برج کے طور پر تعمیر کیا تھا۔اس کا مقصد بحری تجارتی راستوں کی نگرانی کرنا اور دشمن کے جہازوں کو روکنا تھا۔ ۱۷۳۹ءمیں، پیشوا باجی راؤ اول کے بھائی چیما جی اپاکی وسئی مہم کے دوران، مراٹھافوج نےاس قلعے پر قبضہ کر لیا۔ ارنالا قلعہ کو فتح کرنے کیلئے مراٹھافوج اسی داتیوارے بندرگاہ کے راستے اتری تھی، جس کی وجہ سے اس قلعے نے مراٹھوں کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں یہ قلعہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کنٹرول میں چلا گیا۔
قلعے کی ساخت
یہ قلعہ ایک نیم دائرہ دیوار اور ایک بڑے برج پر مشتمل ہے۔اس برج کی اونچائی تقریباً ۱۵؍سے ۲۰؍فٹ ہے۔ اس کی تعمیر میں پتھر، مٹی، چونا، شنکھ کے چھلکےاور چاول کے چھلکے کا روایتی آمیزہ استعمال کیا گیاہے۔یہ قلعہ ایسی جگہ بنایا گیا تھا جہاں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والی توپوں کے ذریعے سمندری راستے سے آنے والے دشمن کے جہازوں کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکے۔
قابل دید مقامات
موجودہ دور میں یہ قلعہ کافی حد تک کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے،لیکن تاریخ اور ٹریکنگ کے شوقین افراد کے لیے اب بھی یہاں کئی چیزیں موجود ہیں۔اب بھی یہاںپرتگیزی دور کے برج اور قلعے کی بیرونی دیواروں کے باقیات دیکھے جاسکتے ہیں۔پہاڑی کے اوپر سےدریائے ویترنا، بحرعرب اور دور واقع ارنالا قلعے کا انتہائی دلفریب نظارہ دکھائی دیتا ہے۔قلعے کے قریب ہی۳؍چھوٹی پہاڑیاں ہیں جہاں ایک ادھورا غار اور قدرتی گڑھے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 
 
 
 
موجودہ حالت
موجودہ دور میں اس قلعے کی دیکھ بھال نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔ پورے قلعے کو دیکھنے کیلئے محض ۱۰؍سے ۲۰؍منٹ کا وقت کافی ہوتا ہے۔اگر آپ ایک بہت بڑا اور عالی شان قلعہ دیکھنے کی امید سے جا رہے ہیں تو شاید مایوسی ہو، لیکن اگر آپ کو قدیم سمندری تجارتی راستوں کی تاریخ، جغرافیائی مقامات اور پرسکون ساحلی مناظرپسند ہیں، تو یہ ایک بہترین جگہ ہے۔پہاڑی سےویترنا ندی، ارنالہ قلعہ اور ساحلی علاقے کا خوبصورت نظارہ ملتا ہے۔قلعے کے قریب قدیم بندرگاہ کے آثار ملتے ہیں جہاں سے کوکن اور اندرون ملک تجارت ہوتی تھی۔ 
 
 
یہاں کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے لوکل ٹرین کے ذریعے سفالےریلوے اسٹیشن پہنچیں۔سفالےاسٹیشن سے’داتیوارےگاؤں کا فاصلہ تقریباً ۱۶؍ کلومیٹر ہے، جہاں جانے کے لیے سرکاری بسیں اور پرائیویٹ آٹو رکشہ مل جاتے ہیں۔داتیوارےگاؤں سے قلعے کے داخلی دروازے تک پہنچنے کے لیے ایک محفوظ اور چوڑا راستہ بنا ہوا ہے، جس پر پیدل چل کر تقریباً ۳۰؍منٹ میں اوپر پہنچا جا سکتا ہے۔گاؤں سے قلعے تک کا راستہ آسان ہے، گریڈ’ایزی‘ہے۔ مانسون میں راستہ پھسلن والا ہو جاتا ہے، اس لیے مناسب جوتے ضروری ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK