سہیا در ی کے سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، ٹھنڈی ہواؤں اور بادلوں میںلپٹے دلکش مناظر کے درمیان واقع یہ آبشارلاکھوں سیاحوں کوراغب کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 1:40 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
سہیا در ی کے سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، ٹھنڈی ہواؤں اور بادلوں میںلپٹے دلکش مناظر کے درمیان واقع یہ آبشارلاکھوں سیاحوں کوراغب کرتا ہے۔
مہاراشٹر کے ضلع سندھودرگ میں واقع امبولی آبشارریاست کے خوبصورت ترین قدرتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ سہیا در ی کے سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، ٹھنڈی ہواؤں اور بادلوں میں لپٹے دلکش مناظر کے درمیان واقع یہ آبشار ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔ امبولی ہل اسٹیشن کو’مہاراشٹر کا چیراپونجی‘بھی کہاجاتا ہے کیونکہ یہاں مانسون کے دوران غیر معمولی بارش ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں بے شمار جھرنے اور آبشار پوری وادی کو ایک جنت نظیر منظر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
تاریخی اہمیت
برطانوی دور میں امبولی کی اہمیت ایک تجارتی راستے کے طور پر تھی جو وینگورلا بندرگاہ کو بیلگاوی سے جوڑتا تھا۔ بعد میں انگریز افسران نے یہاں کے خوشگوار موسم اور قدرتی حسن کو دیکھتے ہوئے اسے ہل اسٹیشن کے طور پر ترقی دی۔ آج بھی اس دور کی کئی نشانیاں علاقے میں موجود ہیں، جو اس کے تاریخی پس منظر کی یاد دلاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سومیشور آبشار: ناسک کی وادیوں میں دودھ جیسا آبشار
مانسون میں دلکشی
امبولی آبشار، امبولی گاؤں سے تقریباً۳؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ آبشار سڑک کے کنارے ہونے کی وجہ سے سیاحوں کے لیے نہایت آسانی سے قابل رسائی ہے۔جون سے ستمبر کے درمیان جب بارش اپنے عروج پر ہوتی ہے تو پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی پوری طاقت کے ساتھ نیچے گرتا ہے اور دور دور تک اس کی گونج سنائی دیتی ہے۔ پانی کی بوندوں سے اٹھنے والی ہلکی دھند، گھنے جنگلات اور ٹھنڈی ہوائیں اس مقام کو ایک خوابناک منظر میں بدل دیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بارش کے موسم میں یہاں سیاحوں، فوٹوگرافروں اور فطرت کے دلدادہ افراد کی بڑی تعداد پہنچتی ہے۔
جنگلی حیات کا تنوع
امبولی سطح سمندرسےتقریباً ۶۹۰؍میٹرکی بلندی پر واقع ہے اور یہ مغربی گھاٹ (ویسٹرن گھاٹس) کا ایک نہایت اہم ماحولیاتی علاقہ سمجھاجاتا ہے۔ یونیسکو کی جانب سے عالمی حیاتیاتی تنوع کے اہم خطوں میں شمار ہونے والے مغربی گھاٹ کی وجہ سے اس پورے علاقےمیں نباتات اور حیوانات کی بے مثال دولت پائی جاتی ہے۔ یہاں ۲۰۰؍سےزیادہ اقسام کے پرندے، ۱۵۰؍سےزائد اقسام کی تتلیاں، نایاب مینڈک، سانپ اور دیگر جنگلی حیات موجود ہیں۔ امبولی بش فراگ اور مالابار گلائیڈنگ فراگ جیسی نایاب انواع اسی خطے کی شناخت ہیں، جس کے باعث یہ مقام قدرتی تحقیق کرنے والوں کے لیے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جین جون لیک ویترناآبشار:اپر ویترنا کے قریب دلکش مقام
پکنک کیلئے بہترین مقام
امبولی آبشار کے آس پاس کئی دوسرےقدرتی طور پرکشش رکھنے والے مقامات بھی موجود ہیں۔ نانگرتا آبشاراپنی بلند چٹانوں اورزور دار بہاؤ کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔ اس کے علاوہ کاولے ساد ویو پوائنٹ سےسہیا در ی کی وسیع وادیوں اور بادلوں میں ڈوبے پہاڑوں کا نظارہ دل موہ لیتا ہے۔ ہیرنیا کیشی مندر بھی یہاں کی ایک اہم مذہبی اور تاریخی جگہ ہے، جہاں ایک غار سے دریائے ہیرنیا کیشی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مقامات امبولی کے سفر کو مزید یادگار بنا دیتے ہیں۔
امبولی آبشار کے قریب چھوٹے چھوٹے مقامی بازار بھی لگتے ہیں جہاں گرم گرم پیاز کے بھجیے، بھنی ہوئی مکئی، مقامی مالونی پکوان اور ادرک والی چائے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیرمال قلعہ: ناسک کے پہاڑوں میں چھپا فراموش شدہ تاریخی ورثہ
یہاں کیسے پہنچیں؟
امبولی پہنچنا بھی نسبتاً آسان ہے۔ قریب ترین ریلوے اسٹیشن ساونت واڑی روڈ ہے، جو تقریباً ۳۷؍کلومیٹر دورہے، جبکہ گوا کا ڈابولیم ہوائی اڈہ تقریباً ۱۰۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ممبئی، پونے، کولہاپور، بیلگاوی اور گوا سے سڑک کے ذریعے یہاں آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ امبولی گھاٹ کا گھومتا ہوا راستہ، بادلوں میں لپٹے پہاڑ، گھنےجنگلات اور راستے میں دکھائی دینے والے بے شمار چھوٹے جھرنے خود سفر کو بھی ایک خوبصورت تجربہ بنا دیتے ہیں۔
یاد رہے: یہ محض رہنمائی کا کالم ہے، آمدورفت اور قیمت وغیرہ کی حتمی تفصیل قارئین خود حاصل کرکے اطمینان کرلیں۔ کون سا پوائنٹ کتنا محفوظ ہے اس پر بھی توجہ دے لیں کیونکہ یہ بہت ضروری ہے۔