Inquilab Logo Happiest Places to Work

سومیشور آبشار: ناسک کی وادیوں میں دودھ جیسا آبشار

Updated: July 16, 2026, 2:38 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

یہ جگہ نہ صرف فطرت کے حسن سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ شہر کی مصروف زندگی سے چند لمحوں کی راحت بھی عطا کرتی ہے۔

In the picture below, milky white water can be seen flowing in the Someshwar waterfall. Photo: INN
زیر نظر تصویر میں سومیشور آبشار میں دودھ جیسا سفید پانی بہتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

شہرناسک صرف انگور کے باغات اور تاریخی مقامات ہی کے لیے مشہور نہیں بلکہ یہاں قدرت نےاپنی بے مثال کاریگری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی قدرتی حسن کی ایک دلکش مثال سومیشور آبشار ہے، جسے مقامی لوگ دودھ ساگرفال بھی کہتے ہیں۔ بارش کے موسم میں جب دریائے گوداوری کا پانی پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا ہے تو یہ آبشار دودھ کی سفید دھار کی طرح دکھائی دیتی ہے، اسی لیے اسے’دودھ ساگر‘یعنی دودھ کا سمندر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ آبشار گوا اور کرناٹک کی سرحد پر واقع مشہور دودھ ساگر آبشار جتنابلند نہیں، لیکن ناسک کا یہ دودھ ساگراپنی قدرتی خوبصورتی، آسان رسائی اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے سیاحوں میں بے حد مقبول ہے۔

محل وقوع

ناسک شہر سے تقریباً ۸؍سے ۱۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سومیشور گاؤں میں یہ آبشار دریائے گوداوری پر قائم ہے۔ یہاں بہنے والاپانی پتھریلی چٹانوں سے ٹکرا کر جھاگ بناتا ہے، جس سے دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دودھ کا ایک وسیع دریا بہہ رہا ہو۔ مانسون کے دوران جب پانی کا بہاؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے تو پورا منظر نہایت دلکش اور مسحور کن ہو جاتا ہے۔ سبز درختوں، چٹانی کناروں اور سفید جھاگ سے بھرا یہ نظارہ فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جین جون لیک ویترناآبشار:اپر ویترنا کے قریب دلکش مقام

مانسون میں دلکشی

اگرچہ یہ آبشار قدرتی ہے، تاہم اس کے آس پاس سیاحوں کی سہولت کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ بارش کے موسم میں مقامی انتظامیہ حفاظتی اقدامات بھی کرتی ہے کیونکہ پانی کا بہاؤ بہت تیزہو جاتا ہے۔ اس دوران سیاحوں کو پانی میں اترنے سے گریز کرنےکی ہدایت دی جاتی ہے۔ ہر سال کئی لوگ حفاظتی ہدایات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کے باعث حادثات بھی پیش آتے ہیں، اس لیے احتیاط انتہائی ضروری ہے۔

سومیشور آبشار فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے بھی ایک بہترین مقام ہے۔ صبح کے وقت سورج کی نرم کرنیں جب پانی کے سفیدجھاگ پر پڑتی ہیں تو منظر نہایت حسین دکھائی دیتا ہے۔ شام کےوقت بھی یہاں کا ماحول خوشگوار رہتا ہے اور ٹھنڈی ہوائیں سیاحوں کو دیر تک رکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ قدرتی مناظر کی عکاسی کرنے والے فوٹوگرافر اور سوشل میڈیا کے لیے خوبصورت تصاویر بنانے والے نوجوان بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔

پکنک کیلئے بہترین مقام

یہ مقام خاندانوں کے لیے بھی پسندیدہ پکنک اسپاٹ مانا جاتا ہے۔بارش کے موسم میں یہاں مقامی لوگوں کے علاوہ ممبئی، پونے، اورنگ آباد اور دیگر شہروں سے بھی بڑی تعداد میں سیاح پہنچتے ہیں۔ آس پاس چھوٹے ریستوران اور چائے کے اسٹال موجود ہیں جہاں مہاراشٹر کے روایتی اسنیکس، بھجیا، وڑا پاؤ، بھٹا اور گرم چائے سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ سومیشور آبشار حیاتیاتی تنوع کے اعتبارسےبھی اہم ہے۔ مانسون میں اس علاقے کی نباتات بھرپور انداز میں نکھر آتی ہیں۔ درخت، جھاڑیاں اور مختلف اقسام کے جنگلی پودے پورے علاقے کو سرسبز چادر اوڑھا دیتے ہیں۔ پرندوں کی مختلف اقسام بھی یہاں دیکھی جا سکتی ہیں، جس کی وجہ سے برڈ واچنگ کے شوقین افراد بھی اس مقام کا رخ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیرمال قلعہ: ناسک کے پہاڑوں میں چھپا فراموش شدہ تاریخی ورثہ

یہاں کیسے پہنچیں؟

یہاں پہنچنانہایت آسان ہے۔ ناسک روڈ ریلوے اسٹیشن سے ٹیکسی، آٹو رکشا اور مقامی بسوں کے ذریعے تقریباً ۲۰؍سے ۲۵؍ منٹ میں سومیشور پہنچا جا سکتا ہے۔ ممبئی سے سڑک کے ذریعے تقریباً ۴؍ گھنٹے جبکہ پونے سے ۴؍ تا ۶؍گھنٹے میں یہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ ناسک میں ہر بجٹ کے مطابق ہوٹل، ریزورٹ اور گیسٹ ہاؤس دستیاب ہیں، اس لیے قیام میں بھی کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

یاد رہے: یہ محض رہنمائی کا کالم ہے، آمدورفت اور قیمت وغیرہ کی حتمی تفصیل قارئین خود حاصل کرکے اطمینان کرلیں۔ کون سا پوائنٹ کتنا محفوظ ہے اس پر بھی توجہ دے لیں کیونکہ یہ بہت ضروری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK