گالنا پہاڑی سلسلے میں واقع یہ قلعہ تاریخ اور مہم جوئی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک منفرد منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 1:36 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
گالنا پہاڑی سلسلے میں واقع یہ قلعہ تاریخ اور مہم جوئی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک منفرد منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مہاراشٹرکے ضلع ناسک میں واقع ڈیرمال قلعہ ان تاریخی پہاڑی قلعوں میںشمار ہوتا ہے جو اپنی قدامت، قدرتی حسن اور پُراسرار فضا کے باوجود عام سیاحوں کی نگاہوں سے کسی حد تک اوجھل رہے ہیں۔ گالنا پہاڑی سلسلے میں واقع یہ قلعہ تاریخ اور مہم جوئی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک منفرد منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس کے بیشتر حصے آج کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن اس کے آثار اب بھی ماضی کی عظمت اور دکن کے عسکری فنِ تعمیر کی داستان سناتے ہیں۔
محل وقوع
ڈیرمال قلعہ مہاراشٹر کے ضلع ناسک کی ستانہ (بگلان) تحصیل میںواقع ہے۔ یہ گالناپہاڑی سلسلے کا حصہ ہے، جہاں پِسولہ، کانکرالا اورگالنا جیسے دیگر تاریخی قلعے بھی موجود ہیں۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی تقریباً ۳۷۰۰؍فٹ بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں سے آس پاس کے وسیع میدانوں اور پہاڑی سلسلوں کا دلکش منظر دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہیش بابو کے ڈسپلن سے راجامولی بے حد متاثر
تاریخی پس منظر
ڈیرمال قلعے کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں بہت زیادہ مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں، لیکن ماہرین کاخیال ہے کہ یہ قلعہ دکن کی ان فوجی چوکیوں میں شامل تھا جن کا استعمال مختلف ادوار میں یادو حکمرانوں، بہمنی سلطنت، مغلوں اور بعد میں مراٹھوں نے کیا۔ گالنا کا پورا خطہ تجارتی اور فوجی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا تھا، اس لیے ان پہاڑی قلعوں کی تعمیر دفاعی مقاصد کے تحت کی گئی تھی۔
مراٹھا دور میں بھی اس خطے کے قلعوں کو خاص اہمیت حاصل رہی، کیونکہ یہ شمالی مہاراشٹر اور گجرات کے درمیان آنے جانے والے راستوں کی نگرانی کے لیے موزوں مقام تھے۔ اگرچہ ڈیرمال قلعہ کسی بڑی جنگ یا تاریخی واقعے کے لیے مشہور نہیں، تاہم اس کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک اہم فوجی مرکز بناتی تھی۔
تعمیراتی خصوصیات
اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ قلعے کی بیشتر عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں، لیکن چند آثار آج بھی موجود ہیں جو اس کی سابقہ اہمیت کا پتہ دیتے ہیں۔قلعے پر ایک چھوٹا سا دروازہ نسبتاً بہتر حالت میں موجود ہے، جو قدیم فنِ تعمیر کی جھلک پیش کرتا ہے۔
اس کے علاوہ پتھروں کو تراش کر بنائے گئے پانی کے ذخیرے یا حوض آج بھی موجود ہیں، جن میںسال بھر پانی رہتا ہے۔ یہ پانی کے ذخائر اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم دور میں قلعے کے مکینوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: امبا بروا وائلڈ لائف سینکچری: مہاراشٹر کے جنگلات میں چھپا خزانہ
قدرتی حسن اور ٹریکنگ
ڈیرمال قلعہ فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے بھی ایک بہترین مقام ہے۔ برسات کے موسم میں یہاں کی پہاڑیاں ہریالی سے ڈھک جاتی ہیں اور بادلوں کے درمیان قلعے کے کھنڈرات ایک خواب ناک منظر پیش کرتے ہیں۔چوٹی سے گالنا پہاڑی سلسلے کے دوسرے قلعوں کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہ تمام قلعے ایک دفاعی نظام کے طور پر کام کرتے تھے۔ٹریکنگ کے شوقین افراد کے لیے یہ مقام اب بھی نسبتاً غیر تجارتی اور پُرسکون ماحول فراہم کرتا ہے، جو اسے مہاراشٹر کے معروف قلعوں سے مختلف بناتا ہے۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
ڈیرمال قلعے کا نزدیک ترین قصبہ نام پور ہے، جو ناسک شہر سےتقریباً ۱۱۰؍کلومیٹر دورہے۔ قلعے کے دامن میں واقع بنیادی گاؤں ٹنگھاری ہے، جو نام پور سے تقریباً بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ایک دوسرا راستہ بلپوری گاؤں سے بھی جاتا ہے۔ چونکہ قلعے تک جانے والا راستہ مکمل طور پر نشان زدہ نہیں ہے، اس لیے مقامی رہنما کی مدد لینا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر ڈیڑھ سے۲؍ گھنٹے کی پیدل چڑھائی کے بعد قلعے کی چوٹی تک پہنچا جا سکتا ہے۔