اورنگ آباد سے محض ۱۵؍ کلومیٹر دور اس قلعے کو اس انداز سے بنایا گیا تھا کہ اسے فتح کر پانا بہت ہی مشکل ہوا کرتا تھا، اس کیلئے کئی خصوصیات شامل کی گئی تھیں۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 3:45 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
اورنگ آباد سے محض ۱۵؍ کلومیٹر دور اس قلعے کو اس انداز سے بنایا گیا تھا کہ اسے فتح کر پانا بہت ہی مشکل ہوا کرتا تھا، اس کیلئے کئی خصوصیات شامل کی گئی تھیں۔
دولت آباد کا قلعہ اورنگ آباد می واقع ایک ایسا تاریخی قلعہ ہے جسے برصغیر کے مضبوط ترین اور فوجی اعتبار سے سب سے زیادہ محفوظ قلعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ قلعہ اورنگ آباد (موجودہ چھترپتی سمبھاجی نگر)سے تقریباً۱۳؍ تا ۱۶؍کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
دولت آباد کا قلعہ صرف ایک فوجی قلعہ نہیں تھا بلکہ کئی صدیوں تک دکن کی سیاست، تجارت اور اقتدار کا مرکز بھی رہا۔ اس کی تاریخ بارہویں صدی سے شروع ہوتی ہے اور مغلوں، بہمنی سلاطین، نظام شاہیوں اور مراٹھوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: داتیوارے قلعہ: ساحلی تجارت کی نگرانی کرنے والا پرتگالی قلعہ
تاریخی پس منظر
مورخین کے مطابق اس قلعے کی بنیاد تقریباً۱۱۸۷ءمیںیادو خاندان کے حکمران بھلّام پنجم نے رکھی تھی۔ یادو حکمرانوں نے دیوگیری کو اپنی راجدھانی بنایا اور جلد ہی یہ دکن کے اہم ترین شہروں میں شمار ہونے لگا۔ اس زمانے میں دیوگیری شمال اور جنوب ہند کے درمیان تجارتی راستوں پر واقع ہونے کے باعث خوشحال اور مالدار شہر بن چکا تھا۔ یادو سلطنت کے دور میں قلعے کی ابتدائی فصیلیں اور دفاعی انتظامات قائم کیے گئے۔ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے ان میں مزید توسیع کی، جس کے نتیجے میں یہ قلعہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد عسکری شاہکار بن گیا۔
علاؤالدین خلجی کی یلغار
۱۲۹۶ءمیں علائوالدین خلجی نے دیوگیری پر حملہ کیا۔ اس وقت یادو حکمران رام چندر تھے۔ اس حملے کے بعد یادو حکمرانوں کو دہلی سلطنت کی بالادستی قبول کرنی پڑی۔ بعد ازاں ۱۳۰۸ءمیں ایک اور فوجی مہم کے نتیجے میںیہ مکمل طور پر دہلی سلطنت کے زیرِ اقتدار آگیا۔
یہ بھی پڑھئے: داتے گڑھ قلعہ: سہیادری کی چوٹی پر ایستادہ تاریخ کا نگہبان
قابل دید مقامات
دولت آباد کی تاریخ کا سب سے مشہور باب اس وقت شروع ہوا جب محمد بن تغلق نے ۱۳۲۷ءمیںدیوگیری کا نام تبدیل کرکے ’دولت آباد‘ رکھا اور دہلی سلطنت کا دارالحکومت دہلی سے یہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مقصد سلطنت کے شمالی اور جنوبی حصوں پر یکساں کنٹرول قائم کرنا تھا۔تغلق سلطنت کے زوال کے بعد دولت آباد مختلف دکنی سلطنتوں کے زیرِ اقتدار رہا۔ بہمنی سلطنت نے اسے ایک اہم فوجی مرکزکے طور پر استعمال کیا۔ بعد ازاں احمد نگر کی نظام شاہی سلطنت نے بھی اس قلعے کو خصوصی اہمیت دی اور اس میں کئی نئی عمارتیں اور دفاعی تعمیرات شامل کیں۔ قلعے کی موجودہ فصیلوں اور دفاعی حصوں کا بڑا حصہ اسی دور کی یادگار سمجھا جاتا ہے۔
ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام
دولت آباد کا قلعہ اپنی شاندار دفاعی حکمتِ عملی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ برطانوی اور ہندوستانی مورخین نے اسے قرونِ وسطیٰ کے سب سے محفوظ قلعوں میں شمار کیا ہے۔یہ قلعہ تقریباً ۲۰۰؍میٹر بلند مخروطی پہاڑی پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یادو حکمرانوں نے پہاڑی کے اطراف کے حصوں کو تراش کر تقریباً عمودی چٹانوں میں تبدیل کر دیا تھا تاکہ دشمن آسانی سے اوپر نہ چڑھ سکے۔قلعے کی نمایاں دفاعی خصوصیات میںگہری خندقیں ،پیچیدہ اور بھول بھلیاں نما راستے، جھوٹے دروازے،خفیہ سرنگیں،نوکیلے آہنی دروازے جو جنگی ہاتھیوں کو روکنے کیلئے بنائے گئے تھے،بلند فصیلیں اور برج اور ایک وقت میں صرف چند افراد کے گزرنے کے قابل تنگ راستے شامل ہیں۔ مورخین کا کہنا ہے کہ دشمن اگر بیرونی دروازے عبور بھی کر لیتا تو اندرونی راستوں میں بھٹک جاتا۔ اسی لیے یہ قلعہ طویل عرصے تک تقریباً ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا رہا۔
یہ بھی پڑھئے: کیلوا بیچ: ممبئی کے شور سے دور سکون کی ایک نرم و نازک دنیا
یہاں کیسے پہنچیں؟
یہ اورنگ آباد سے محض ۱۵؍کلومیٹر دور ہے اس لئے زیادہ تر افراد ٹرین سے جانے کیلئے اورنگ آباد ریلوے اسٹیشن کا ہی انتخاب کرتے ہیں حالاکہ دولت آباد کا بھی ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن موجود ہے۔
سڑک کے ذریعہ یہاں تک کا فاصلہ تقریباً۳۵۰؍کلومیٹر ہے جسے ۶؍تا ۷؍گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔