اپریل تا جون ۸ء۷؍ فیصد شرح نمو کو اپوزیشن نے کھوکھلے اعدادوشمار قرار دیا، بغلیں بجانے پرحکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، کھرگے نے کہا: ’’لائٹ کیمرہ مگر کوئی ایکشن نہیں۔‘‘
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 10:34 AM IST | Agency | New Delhi
اپریل تا جون ۸ء۷؍ فیصد شرح نمو کو اپوزیشن نے کھوکھلے اعدادوشمار قرار دیا، بغلیں بجانے پرحکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، کھرگے نے کہا: ’’لائٹ کیمرہ مگر کوئی ایکشن نہیں۔‘‘
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی ’اپریل تا جون‘ میں ایران جنگ اور عالمی اتھل پتھل کے باوجود ہندوستان کی شرح نمو آر بی آئی کی امیدوں سے بھی آگے بڑھ کر ۷ء۸؍ فیصد رہنے پر جہاں مودی سرکار بغلیں بجاتے نہیں تھک رہی ہے، وہیں اپوزیشن نے انہیں ’’کھوکھلے اعدادوشمار‘‘ اور ’’ زمینی حقیقت سے کوسوں‘‘دور قرار دیا ہے۔ ملکارجن کھرگے نے اسے بھی مودی سرکار کے دکھاوا کا حصہ قرار دیتے ہوئے طنز کیا ہے کہ ’’لائٹ کیمرہ مگرکوئی ایکشن نہیں۔‘‘ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ مرکز عام لوگوں کو درپیش معاشی مشکلات پر توجہ دینے کے بجائے ’’کھوکھلے اعداد و شمار‘‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کیخلاف ایف آئی آر پر کانگریس سخت برہم، ملک گیر مظاہرہ
کھرگے نے بے عملی کا تماشہ قرار دیا
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نےاسےمودی سرکار کی بے عملی کا تماشہ قرار دیا۔انگریزی میں کئے گئے پوسٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی جی، آپ کہہ رہے ہیں کہ ملک جی ڈی پی کی شرح نمو پر جشن منا رہا ہے۔ آپ کو یہ آسائش حاصل ہو سکتی ہے، لیکن عام آدمی غیر معمولی بے روزگاری، ناقابل برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات سے دوچار ہے۔ انہوں نے مودی سرکار کے ہی اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری۵۰؍ سال کی بلند ترین سطح پر ہے،۴۰؍فیصد گریجویٹ نوجوان بے روزگار ہیں اور۱۵؍سے۲۹؍سال کی عمر کے ہر ۶؍میں سے ایک نوجوان بے روزگار ہے۔ کانگریس صدر نے خردہ مہنگائی کے ۱۹؍ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جانے اور ، شکر، پیاز، ٹماٹر، دال، خوردنی تیل، چاول، دودھ اور باورچی خانہ کی دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں میں اضافہ کا بھی حوالہ دیا۔
پون کھیڑا نے کہاـ:کاغذی شیر کی کاغذی ترقی
کانگریس لیڈر پون کھیڑا جو اپنے تلخ اور کاٹ دار بیانوں کیلئے مشہور ہیں نے جی ڈی پی سے متعلق دعوؤں کو ’’کاغذی شیر کی کاغذی ترقی‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے نومبر۲۵ءکی آئی ایم ایف کی ایک تشخیص کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان کے فراہم کردہ اعدادوشمار کو طریقہ کار اور کوریج کی خامیوں کی وجہ سے ’سی‘ درجہ میں رکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امیت شاہ کی تقاریب سے مسلم افسران کو دور رکھنے کا الزام، مہوا موئترا برہم
کانگریس جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے بھی جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو ’’اعداد و شمار کی شعبدہ بازی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے جی ڈی پی کے حساب کا طریقہ بار بار تبدیل کرکے حقیقی معاشی صورتحال چھپانے کی کوشش کی ہے۔
اعدادوشمار حقائق سے کوسوں دور: سلمان سوز
کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں پارٹی لیڈر اور ماہر اقتصادیات سلمان سوز نے کہا کہ ملک کے عوام ان اعداد و شمار پر یقین نہیں کرتے۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ اگر معیشت اتنی مضبوط ہے تو اس کے اثرات زمین پر کیوں نظر نہیں آرہے؟ خاندانوں کو خرچ کرنےکیلئے قرض کیوں لینا پڑتا ہے؟ نجی سرمایہ کاری کیوں جمود کا شکار ہے؟ جی ڈی پی میں خالص ایف ڈی آئی صفر کیوں ہے؟ نوجوانوں کی بے روزگاری۱۶؍ فیصد کیوں ہے؟ سلمان سوز نے پریس کانفرنس میں حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔