یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایئرلائنز، انشورنس کمپنیوں اور روس کے اہم ہوائی اڈوں کا استعمال کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ روسی فضائی حدود میں بڑھتی ڈرون سرگرمی کے باعث پروازوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 3:34 PM IST | Kyiv
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایئرلائنز، انشورنس کمپنیوں اور روس کے اہم ہوائی اڈوں کا استعمال کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ روسی فضائی حدود میں بڑھتی ڈرون سرگرمی کے باعث پروازوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرینی ڈرونز کی بڑھتی سرگرمی کے باعث روسی فضائی حدود ’’مکمل طور پر خطرناک‘‘ ہوتی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین شہری طیاروں کو نشانہ نہیں بناتا، تاہم روسی آسمان میں ڈرونز کی موجودگی کو فضائی سفر کے لیے خطرے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ زیلنسکی نے ایئرلائنز، انشورنس کمپنیوں اور ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ سمیت روس کے اہم ہوائی اڈوں کا استعمال کرنے والی کمپنیوں سے خطرات کا ازسرنو جائزہ لینے کو کہا۔ ان کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روسی فضائی حدود عملی طور پر بند ہونے کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مشرقی یروشلم کے ۴۵؍ ہزار سے زائد فلسطینی طلبہ پر اسرائیلی نصاب مسلط کرنیکا فیصلہ
یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی حکام فضائی خطرات کے بارے میں لوگوں کو مناسب طور پر آگاہ نہیں کررہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین اپنے شراکت داروں کی درخواست پر سفارتی مذاکرات کے لیے مخصوص اوقات اور مخصوص سمتوں میں ڈرون حملے عارضی طور پر روک سکتا ہے۔ زیلنسکی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یوکرین نے روس کے اندر طویل فاصلے تک ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان حملوں میں فوجی تنصیبات، تیل و گیس کے ڈھانچے اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی یوکرین کے شہروں پر فضائی حملے تیز کردیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایس سی او اجلاس : ایران پر حملوں کی مذمت
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے زیلنسکی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جاتے۔ تاہم انہوں نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے ٹھوس مذاکرات کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ یہ انتباہ ایسے دن سامنے آیا جب روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں کیف اور اس کے اطراف کم از کم ۱۲؍ افراد ہلاک ہوئے۔ روسی فضائی حملوں اور یوکرینی جوابی ڈرون کارروائیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فضائی جنگ مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔