• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

گوالیارشہر میں جابجا تاریخی عمارتیں ہیں

Updated: November 08, 2023, 10:40 AM IST | Inquilab Desk | Mumbai

ہر عمارت کی ایک کہانی ہے۔ مندر کے ساتھ مساجد بھی ہیں، صوفیہ اور بزرگوں کی نشانیاں ہیں، آستانے اور مزار بھی ہیں۔

Jay Vilas Palace was built to accommodate royal guests. Photo: INN
جے ولاس پیلس شاہی مہمانوں کے قیام کیلئے بنایاگیا تھا۔ تصویر:آئی این این

گوالیار مدھیہ پردیش کا تاریخی شہر ہے جہاں بہت سی تاریخی عمارتیں ہیں۔ اس کے دامن میں عظمت رفتہ کی نشانیاں ہیں۔ اس کا حال بھی شاندار ہے ، آج بھی اس شہر میں  چاروں طرف ہریالی ہے۔ شادابی ہے۔ بتاتے ہیں کہ ۸ ؍ویں صدی عیسوی میں اس شہر کو بادشاہ سورج سین نے بسایا تھا ، اس کی بنیاد رکھی تھی۔ شہرمیں قدم رکھیں گے توبہت سے تاریخی مقامات اور عمارتیں نظر آئیں گے۔ ان میں سے کچھ کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ 
جے ولاس پیلس 
 گوالیار کے جے ولاس پیلس یا جے ولاس محل کی دور دور تک شہرت ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کاترجمان یہ محل شاہی مہمانوں کیلئے بنایا گیا تھا۔ اس میں بادشاہ اور  راجا مہاراجا ہی ٹھہرتے تھے۔ اس محل میں مہاراجا جیا جی راؤ سندھیا نے سب سے پہلے کنگ ایڈورڈ ہفتم کا استقبال کیا تھا۔ فی الحال یہ سندھیا خاندان کا شاہی گھر ہے۔ کہتے ہیں کہ جے ولاس محل کا قالین بھی قابل ذکر ہے۔ اسے تقریباً ۱۲؍ سال میں مکمل کیا گیا تھا۔ اپنے وزن کے اعتبار  سے اسے دنیا کا سب سے بڑاقالین سمجھا جاتا ہے۔ جے ولاس محل انیسویں صدی  میں قائم ہو ا۔ اسے برطانوی دورحکومت میں گوالیار کی شاہی ریاست کے حکمراں مہاراجا جیا جی راؤ سندھیا نے ۱۸۷۴ء میں بنوایا تھا۔ 
 گوالیار کا قلعہ
یہ قلعہ شمالی اور جنوبی ہندوستان میں واقع اہم قلعوں میں سے ایک  ہے، پہاڑی قلعہ ہے۔ اس سیاحتی مقام کی وجہ سے گوالیار کو ہندوستان کی سیاحت میں تسلیم کیا گیا اور اسے ایک مقام دیا گیا۔ بتاتےہیں کہ جہانگیر نے اس قلعے میں شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانیؒ) کو قید کر دیا تھا۔ ان دو مقامات کے علاوہ گوالیار میں  بہت سی تاریخی عمارتیں ہیں۔  
 گوالیار شہر اتنا تاریخی کیوں؟
گوالیارشہر پر وقفےوقفے سے مختلف  مذاہب کے ماننے والوں نے حکومت کی ہے، اسی لئے یہ شہر مختلف تہذیبوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ تاریخی عمارتوں میں ایران کا طرز تعمیر جھلکتا ہے۔یہ عمارتیں قدیم ہندوستان کی  یاد دلاتی ہیں۔ ہر حصے اور ہر گوشے میں کچھ نہ کچھ قابل ذکر ہے۔ تمام حکمرانوں نے اسے اپنے انداز سے سجایا سنوار ا ہے۔ خاص بات یہ ہےکہ کسی کے بھی تہذیبی ورثے کو کسی نے تبدیل نہیں کیا بلکہ اسے باقی رکھا  اوراس کی حفاظت بھی کی۔ پھر اپنی تہذیب کی ترجمانی کرنے والی عمارتیں تعمیر کیں جس سے یہ شہر بہت خاص ہوگیاہے۔ 
مختلف خاندانوں اور بادشاہوں کی حکومتیں 
 گوالیار  پر مختلف خاندانوں ، بادشاہوں  نیز راجاؤں اور مہاراجاؤں نے  حکومت کی ہے۔ بتاتے ہیں کہ التمش نے گوالیار کے قلعے پر قبضہ کیا تھا ۔ اس زمانے میں اس  کا شمار ناقابل تسخیر قلعوں میں ہوتا  تھا۔ اس کے باوجود التمش نے کا میابی حاصل کی اور اس کے  بعد اس شہر پراس   نے حکومت کی ۔ بعدازاں گوالیار پرطویل عرصے تک مسلم حکمراں قابض رہے۔ تومر قبیلے کے بانی راجاویر سنگھ بھی یہاں  کے حکمراں رہے۔ ایک زمانے تک گوالیار سندھیا خاندان کا  تھا، یہاں ان کا طوطی بولتا تھا۔ یہی وجہ ہےکہ گوالیار کی تاریخی عمارتوں پرتما م تہذیبوں کے نشانات ملتے ہیں۔  
عبادت گاہوں پر بھی اثر 
 شہر کی عبادت گاہوں پر بھی اس کا پورا اثر ہے۔ یہاں قدیم مندر بھی ہیں۔ تاریخی مسجد وں کی بھی تعداد کم نہیں ہے۔ صوفیہ کی نشانیاں کی، جابجا بزرگوں کے آستانے اور مزار ہیں۔  
تان سین بھی شہرت کی وجہ 
گوالیار عظیم موسیقار تان سین کی  وجہ سے بھی مشہور ہے ۔ یہ انکا جائے پیدائش ہے۔  ان کی یاد میں ہر سال اکتوبر کے مہینے میں ’میوزک فیسٹیول‘ منایا جاتاہے جس میں ملک بھرسے بڑی تعداد میں فنکار شریک ہوتے ہیںاور اپنے فن کا مظاہرہ کرتےہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK