Inquilab Logo Happiest Places to Work

چلئے، قدیم اور تاریخی شہر کولکاتا کا حال دیکھتے ہیں

Updated: October 18, 2023, 10:11 AM IST | Inquilab Desk | Mumbai

یہ قدم قدم پر چونکاتا ہے ، دعوت نظارہ دیتا ہے ۔تفریحی مقامات میں’علی پور چڑیا‘ اور’ پر نسیپ گھاٹ‘ خاص ہیں۔

A view of the historical Prinsep Ghat. Photo: PTI
تاریخی پرنسیپ گھاٹ کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی

ایک زمانے میں  انگریزوں نے کلکتہ کو اپنی توجہ کامرکز بنایا تھا۔ ہندوستان کےتمام شہروں میں سب سے زیادہ اہمیت اسی کو دی تھی ۔ بتاتے ہیں کہ وہ پوری دنیا کی سیر کرتے تھے جہاں کوئی مقام منفرد ، نایاب فن پارہ اور منفرد طرز تعمیر ملتا تھا، انہیں کلکتہ لے آتے تھے۔ اس طرح اس شہر کو سجاتے سنوارتے تھے ، اس میں چار چاند لگاتے تھے، اس کی رونق بڑھاتے تھے۔ آج بھی یہاں انگریزوں کے زمانے کی یادگاریں ہیں۔ قدیم اور تاریخی عمارتوں میں مختلف طرز تعمیر جھلکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس شہر کے باشندے اپنی تہذیب و ثقافت کو دل وجان سے عزیز رکھتےہیں ۔انہیں اپنے پکوان پر بھی ناز ہے۔ ان کے میلے ٹھیلے اور تہوار منانے کا انداز جد ا ہے۔ یہ دل کھول کر تفریح کرتےہیں۔ خوشی کےہر موقع کو بہت خاص بناتے ہیں۔ اس میں  ذرا بھی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ آپ دیکھئے کہ ملک کے اکثرحصے کی سڑکوں سے سائیکل رکشا غائب ہوگیا ہے تو دوسری طرف کلکتہ کولکاتا ہوگیا مگر اس شہر کی سڑکوں پر آج بھی ہاتھ والے رکشے جابجا نظر آتے ہیں۔ یہ رکشے اس شہر کی شناخت ہیں۔
 کلکتہ کے دامن میں بہت کچھ تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں  کہ اب کولکاتا تہی دامن ہے۔ آج بھی ایسے ایسے نوادرہیں کہ لوگ اس پر فریفتہ ہوجاتے ہیں ۔ان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں۔ اپنے سفرناموں میں اس کا ذکر کرتےہیں۔ نئے دور کے سیاح یہاں کے مناظر کو اپنے کیمروں میں بھی قید کرتے ہیں ۔ ویڈیوز بناتے ہیں ، تصاویر بھی کھینچتے ہیں۔ 
آپ بھی اس شہر کا رخ کرسکتےہیں ، اس کی تہذیب و ثقافت سے واقف ہوسکتےہیں۔ اس کے سیاحتی مقامات کو غور سے دیکھ سکتے ہیں ۔ جدید عمارتوں کے درمیان قدیم اور تاریخی عمارتوں کو دیکھ کر ان کے فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح نئے دور کی جدید گاڑیوں کے درمیان ہاتھ رکشا چلنے کے منظر کو اپنے کیمرے میں قید کرسکتےہیں۔ 
غالب نے نوجوانی میں اس شہر کا رخ کیا تھا اور اس پر کہہ دیا تھا : کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشین... 
اس شہر نےبہت کچھ کھویا ،بہت کچھ پایا 
کلکتہ سے کولکاتا تک کے سفر میں اس شہر نے اپنا بہت کچھ کھو یا ہےاور بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے لیکن حاصل کم کیا ہے ، کھویا زیادہ ہے۔ یہاں اس کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے۔بس اتنا جان لیجئے کہ ایک زمانے میں یہ ملک کا سرفہرست شہر تھا۔ انگریزوں کے دور میں اہم شہر تھا۔ ان کی کوششوں سے اس کا شمار دنیا کے صاف ستھرے شہروں میں ہوتا تھا۔ اس کی پابندی سے صفائی کی جاتی تھی۔ اب اس طرح کی صفائی کا انتظام نہیں   ہے لیکن اس کو منفرد بنانے والی اور بھی چیزیں اس شہر کا حصہ بن گئی ہیں۔ کولکاتا شہر کےا طراف کے دیہاتوں کا حسن آج بھی باقی ہے۔ دور دور تک پھیلے دھان کے کھیتوں کا جواب نہیں۔ ندیوں اور تالابوں کی کثرت ہےجہاں مچھلیوں  کا شکار پابندی سے کیا جاتا ہے۔ فطر ت کے دیوانے اس کے سحر میں کھو جاتےہیں۔ اس مختصر کالم میں کولکاتا شہر کے ایک ایک مقام کا ذکر نہیں  کیا جاسکتا۔ پھر بھی آپ کی سہولت کیلئے صرف۲؍ اہم سیاحتی مقامات کا سرسری ذکر کیا جاتا ہے جن سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ آج بھی کولکاتا گھومنے پھرنے کیلئے کتنا خاص ہے؟
تاریخی علی پور چڑیاگھر 
علی پور چڑیا گھر کا شمار ملک کے قدیم ترین چڑیاگھروں میں ہوتا ہے۔ ۲۴؍ستمبر۱۸۷۵ء کو اسے عوام کیلئے کھولاگیا۔ اب یہ کولکاتا آنے والوں سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے ۔بتاتے ہیں کہ ہرسال ۳۰؍ لاکھ سیاح اس چڑیا گھر کودیکھنے آتے ہیں اور یہاں مختلف نسل کے جانوروں کو قریب سے دیکھتے ہیں ۔ان کی تصویریں اپنے کیمرے میں قیدکرتےہیں ۔ رقبے کے اعتبار سے یہ ملک کا سب سے بڑا چڑیا گھر ہے ۔ ۴۶؍ ایکٹر پر پھیلا ہو اہے۔ شہر کے مصروف ترین علاقے میں   واقع اس چڑیا گھر میں چرند ،پرند اور درند بہت سکون سے رہتے ہیں ، انہیں رہنے کیلئے فطری ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ لا ک ڈاؤن کے دوران چڑیا گھر بند کیاگیا تو انتظامیہ نے ایک ایپ بنایا تھا جس سے ذریعہ بچوں کا دل بہلانے کیلئے انہیں  چرند ، پرنداور درند کو دکھا یا جاتا تھا۔ اب بھی یہ ایپ موجود ہے۔ کولکاتا جانے سے پہلے آپ بھی اس ایپ سے استفادہ کرسکتےہیں۔ 
 پرنسیپ گھاٹ
 پرنسیپ گھاٹ ہگلی ندی کے ساحل پر واقع ہے۔ ۱۸۴۱ء میں انگریزوں کےد ور حکومت میں قائم کیا گیا ہے۔ اس کی بھی تاریخی اہمیت ہے۔  ایسے ہی سیکڑوں مقامات آپ کی دید کے منتظر ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK