Inquilab Logo Happiest Places to Work

پریمیم کھپت میں اضافے کے باعث ہندوستانیوں نے غیر ملکی سفر پر ۴۵ء۱ لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے: کوٹک رپورٹ

Updated: May 26, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

رپورٹ میں ہندوستانیوں کے گھریلو اخراجات میں خوراک کے زمرے میں طویل مدتی کمی نوٹس کی گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں، ۲۰۰۰-۱۹۹۹ میں گھریلو اخراجات کا ۵۹ فیصد خوراک پر خرچ ہوتا تھا جو ۲۳-۲۰۲۲ء میں کم ہوکر ۴۶ فیصد رہ گیا ہے۔ شہری علاقوں میں، اسی عرصے کے دوران یہ حصہ ۴۸ فیصد سے کم ہو کر ۳۹ فیصد رہ گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

کوٹک مہندرا میوچوئل فنڈ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں کھپت کے رجحانات میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ رجحانات بتاتے ہیں کہ ہندوستانی دلچسپ تجربات، پریمیم مصنوعات اور صوابدیدی خریداری پر زیادہ خرچ کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی گھرانوں نے مالی سال ۲۰۲۶ء میں فروری تک غیر ملکی سفر پر تقریباً ۴۵ء۱ لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، راشن اور روزمرہ کی بنیادی اشیاء پر ہونے والے اخراجات پر مبنی روایتی اشاریے اب شہری اور دیہی گھرانوں کے رویے کی مکمل وضاحت نہیں کرتے کیونکہ اب بڑھتے ہوئے اخراجات، لائیو انٹرٹینمنٹ (براہِ راست تفریحی پروگراموں میں شرکت)، پریمیم اسمارٹ فونز، ڈجیٹل سبسکرپشنز اور بیرونِ ملک سفر کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۶ء میں عالمی الیکٹرک کار فروخت ۲۳؍ ملین تک پہنچنے کا امکان: آئی ای اے رپورٹ

غیر ملکی سفر، بیرونی اخراجات کا سب سے بڑا زمرہ بن گیا

رپورٹ کے مطابق، مالی سال ۲۰۲۶ء میں فروری تک بیرونِ ملک سفر تقریباً ایک لاکھ ۴۵ ہزار کروڑ روپے کے ساتھ بیرونی اخراجات کا سب سے بڑا زمرہ بن کر ابھرا ہے۔ ایکویٹی اور ڈیٹ انسٹرومنٹس میں بیرونِ ملک سرمایہ کاری میں بھی گزشتہ تین برسوں کے دوران ۳ء۷ گنا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی سفر کو گھرانوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات کے مضبوط ترین اشاروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ مالی سال ۲۳-۲۰۲۲ء کے بعد بیرونی سفر پر اخراجات میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ رپورٹ نے اس رجحان کو ان خدشات سے جوڑا جو اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستانیوں کی جانب سے بیرونِ ملک بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث غیر ملکی زرِ مبادلہ کے بڑھتے ہوئے اخراج کے حوالے سے ظاہر کئے تھے۔

کنسرٹ اکانومی اور لائیو ایونٹس کی زبردست مقبولیت و ترقی 

کوٹک میوچوئل فنڈ نے ملک کی لائیو انٹرٹینمنٹ معیشت میں زبردست ترقی کی اطلاع دی ہے۔ ملک میں لائیو ایونٹس کی تعداد ۲۰۲۲ء میں ۱۹ ہزار تھی جو ۲۰۲۵ء میں ۳۴ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ۲۰۲۴ء کے دوران کئی بڑے شہروں میں لائیو ایونٹس میں ۶۸۲ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ یہ رجحان بڑے میٹرو شہروں سے باہر تفریحی اخراجات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی بہت مہنگا ثابت ہو رہا ہے ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ انسان سستے ہیں

رپورٹ کے مطابق، ایک بین الاقوامی میوزک کنسرٹ کیلئے صرف ۵ء۱ لاکھ ٹکٹ دستیاب ہونے کے باوجود تقریباً ۳ء۱ کروڑ لوگوں کی طرف سے مانگ دیکھی گئی۔ صرف احمد آباد میں منعقد ہونے والے ۳ کنسرٹس کیلئے ۳۲۲ کروڑ روپے کی ٹکٹیں فروخت ہوئیں۔ ملک کی لائیو ایونٹس انڈسٹری کی قدر ۲۰۸۶۱ کروڑ روپے تک پہنچ گئی اور اس میں ۱۵ فیصد سالانہ کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

خوراک پر اخراجات میں کمی

رپورٹ کے مطابق، ہندوستانیوں کے گھریلو اخراجات میں خوراک کے زمرے میں طویل مدتی کمی نوٹس کی گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں، ۲۰۰۰-۱۹۹۹ میں گھریلو اخراجات کا ۵۹ فیصد خوراک پر خرچ ہوتا تھا جو ۲۳-۲۰۲۲ء میں کم ہوکر ۴۶ فیصد رہ گیا ہے۔ شہری علاقوں میں، اسی عرصے کے دوران یہ حصہ ۴۸ فیصد سے کم ہو کر ۳۹ فیصد رہ گیا ہے۔

اس عرصے میں اناج پر ہونے والے اخراجات میں بھی خاص طور پر شدید کمی دیکھی گئی۔ دیہی علاقوں میں اناج پر ہونے والے اخراجات ۲۲ فیصد سے کم ہو کر ۵ فیصد، جبکہ شہری علاقوں میں اناج کے اخراجات ۱۲ فیصد سے کم ہو کر ۴ فیصد رہ گئے ہیں۔ دوسری طرف، پروسیسڈ فوڈ، مشروبات، تعلیم، کرایہ، موبائل و الیکٹرانک آلات اور ٹرانسپورٹ جیسے زمروں نے گھریلو بجٹ میں بڑا حصہ حاصل کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شدید گرمی کی لہر کا اثر: کولر، اے سی، ٹھنڈے مشروبات، آئس کریم کی فروخت میں ۴۰ فیصد کا زبردست اضافہ

پریمیم مصنوعات کی خریداری اور مالیاتی دباؤ میں ایک ساتھ اضافہ

رپورٹ بتاتی ہے کہ ۳۰ ہزار روپے سے زائد قیمت والے پریمیم اسمارٹ فونز ۲۰۲۵ء میں فروخت ہونے والے کل فونز کا ۲۶ فیصد تھے، جبکہ ۲۰۲۰ء میں ان کا حصہ ۲۰ فیصد تھا۔ پریمیم آلات نے ۹ء۵ فیصد کی سی اے جی آر (CAGR) شرحِ نمو ریکارڈ کی، جبکہ عام مارکیٹ میں اسمارٹ فون کی فروخت میں ۲ء۱ فیصد کی کمی ہوئی۔ سماعتی آلات کی سی اے جی آر نمو ۵۲ فیصد رہی۔ اس دوران او ٹی ٹی (OTT) سبسکرپشنز میں ۴۰ فیصد اضافہ ہوا اور آئی فون اور دیگر پریمیم الیکٹرانک مصنوعات بنانے والی کمپنی ایپل کی ہندوستان سے ہونے والی آمدنی میں ۴۷ فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

کوٹک میوچوئل فنڈ کی رپورٹ میں اخراجات کے رجحانات میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ مالیاتی سال ۲۰۲۰ء اور مالیاتی سال ۲۰۲۵ء کے درمیان شہری امیر طبقے کی آمدنی کے ذرائع میں تقریباً ۱۸ فیصد سی اے جی آر کی شرح سے اضافہ ہوا، جبکہ شہری متوسط و کم آمدنی والے طبقے میں یہ اضافہ تقریباً ۶ فیصد رہا۔ اس کے ساتھ ہی، زیر مطالعہ ۷ برسوں میں سے ۵ برسوں کے دوران گھرانوں پر قرضوں کی واپسی کا بوجھ آمدنی میں اضافے کے مقابلے زیادہ تیزی سے بڑھا۔ مالیاتی سال ۲۰۲۶ء کے پہلے ۹ مہینوں میں گھرانوں کی خالص مالیاتی بچت مالی سال ۲۰۲۱ء میں قومی جی ڈی پی کا ۲ء۱۱ فیصد ہوا کرتی تھی جو اب گر کر ۳ء۵ فیصد رہ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK