آئی پی ایل کے آخری لیگ میچ میں کولکاتا نائٹ رائیٹڈرز اور دہلی کیپیٹلز کو کامیابی حاصل کرنی ہوگی تب ہی وہ پلے آف میں پہنچ سکتے ہیں
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 3:20 PM IST | Kolkata
آئی پی ایل کے آخری لیگ میچ میں کولکاتا نائٹ رائیٹڈرز اور دہلی کیپیٹلز کو کامیابی حاصل کرنی ہوگی تب ہی وہ پلے آف میں پہنچ سکتے ہیں
کولکاتا نائٹ رائیڈرز اور دہلی کیپیٹلز اتوار کو یہاںآئی پی ایل کے موجودہ سیزن کے آخری لیگ میچ میں جب آمنے سامنے ہوں گے تو انہیں پلے آف کی اپنی امید برقرار رکھنے کیلئے ہر حال میں جیت درج کرنی ہوگی۔موجودہ صورتحال کے مطابق چھٹے نمبر پر موجود کولکاتا اور آٹھویں نمبر پر چل رہی دہلی کی ٹیم اگر مگر کے متبادل سے اب بھی پلے آف کی آخری پوزیشن حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اتوار کو مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ میچ محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے۔پلے آف میں جگہ بنانے کی دوڑ میں فی الحال سب سے آگے چل رہی پنجاب کنگز سنیچر کو لکھنؤ سپر جائنٹس سے ٹکرائے گی۔ اگر پنجاب کنگز جیت جاتی ہے تو اس کے ۱۵؍ پوائنٹس ہو جائیں گے۔ اس سے دہلی کی پلے آف کی امیدیں پوری طرح ختم ہو جائیں گی کیونکہ اس کی ٹیم زیادہ سے زیادہ ۱۴؍ پوائنٹس ہی حاصل کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ایم ایس دھونی کا ہر آئی پی ایل سیزن کھیلنے کا سلسلہ ٹوٹ گیا
کولکاتا کے ابھی ۱۳؍ پوائنٹس ہیں اور اس کی ٹیم دہلی پر جیت حاصل کر کے ۱۵؍ پوائنٹس تک پہنچ سکتی ہے لیکن پنجاب نیٹ رن ریٹ کے معاملے میں کافی آگے ہے۔اگر اعداد و شمار کی بات کریں تو پنجاب اگر لکھنؤ کو صرف ایک رن سے بھی ہرا دیتا ہے، تو پھرکولکاتا کو دہلی کو کم از کم ۵۲؍رنوں سے ہرانا ہوگا۔ یہی نہیں کولکاتا کو اس سے پہلے اتوار کو دوپہر میں ہونے والے میچ میں ممبئی انڈینس کی راجستھان رائلز کے خلاف جیت کیلئے بھی دعا کرنی ہوگی۔راجستھان کے ابھی ۱۴؍پوائنٹس ہیں اور وہ اس میچ میں جیت حاصل کر کے ۱۶؍ پوائنٹس کے ساتھ پلے آف میں اپنی جگہ پکی کر سکتا ہے۔دونوں ٹیمیں ان مساوات پر غور کرنے کے بجائے اپنا بہترین مظاہرہ کرنے پر توجہ دیں گی اور ان چیزوں پر کام کریں گی جو ان کے کنٹرول میں ہیں۔کے کے آر کی ٹیم اس میچ میں اپنے سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز انگکرش رگھوونشی کے بغیر کھیلے گی، جنہوں نے اس سیزن میں ۵؍ نصف سنچریوں کے ساتھ ۴۲۲؍رن بنائے ہیں۔ وہیںدہلی کیپیٹلز نے اس سیزن میں کچھ اہم مواقع گنوائے ہیں جس کا اسے خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ اس کی بلے بازی کافی حد تک کے ایل راہل پر منحصر رہی ہے، جنہوں نے ۱۳؍ اننگز میں ۵۳۳؍ رن بنائے ہیں۔