علی فضل، دیویندو شرما،پنکج ترپاٹھی جیسے مانوس کردار روی کشن کے نئے کردار کے ساتھ اپنے انداز میں دیکھنے کو ملتے ہیں،یہ فلم مایوس نہیں کرتی۔
فلم’مرزاپور:دی مووی‘کےایک منظر میںعلی فضل کوپورے ایکشن میں دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این
مرزا پور:دی مووی(Mirzapur: The Movie)
اسٹارکاسٹ: پنکج ترپاٹھی، علی فضل ، دیویندو شرما، روی کشن، انگشا بسواس، ہرشیتا گوڑ،سونل چوہان،شیبا چڈھا،جتیندر کمار
ڈائریکٹر:گرمیت سنگھ
رائٹر:پونیت کرشنا
پروڈیوسر:فرحان اختر،رتیش سدھوانی، قاسم جگمگیا،وشال رامچندانی
موسیقار:اشیش کھنڈال،جنید کمار، دھانڈا نیولی والا
سنیماٹو گرافر:سنجے کپور
ایڈیٹر:منن اشون مہتا
کاسٹنگ:انمول آہوجا
پروڈکشن ڈیزائن:ابھیجیت گائوںکر،سونم سنگھ
ریٹنگ: ****
یہ بھی پڑھئے: ارچنا پورن سنگھ کے بیٹے آریہمن سیٹھی نے زندگی کے مشکل تجربات کا انکشاف کیا
او ٹی ٹی پر اپنی دھاک جمانے والے مشہور ترین ویب سیریز ’مرزا پور‘ کو اب بڑے پردے پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیںکہ اپنے مانوس اور مقبول کرداروں، روی کشن کی نئی انٹری، مضبوط سیکنڈ ہاف اور کلائمیکس کے زبردست موڑ کے ذریعے یہ فلم سنیما گھروں میں بھی اپنی دھاک اور اثر کو کم نہیں ہونے دیتی۔جن ناظرین نے اس سیریز کو او ٹی ٹی پر غیر معمولی مقبولیت دلائی، انہیں فلم مایوس نہیںکرتی، جبکہ وہ شائقین جو پہلی مرتبہ بڑے پردے پر مرزا پور کی دنیا سے روبرو ہو رہے ہیں، ان کے لیے یہ ایک مکمل ماس انٹرٹینر ثابت ہو سکتی ہے۔
فلم کی کہانی
کہانی وہیں سے آگے بڑھتی ہے جہاں مرزا پور کی گدی کے لیے اقتدار اور انتقام کا کھیل جاری ہے۔ کالین بھیا (پنکج ترپاٹھی)، گڈو پنڈت (علی فضل)، ببلوپنڈت (جتندر کمار) اور منا بھیا (دیویندو شرما) کے درمیان پرانے حساب کتاب ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ اسی دوران جیسلمیرسے منشیات کی دنیا کا ایک خطرناک کھلاڑی ببّن یادو (روی کشن) مرزا پور میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی نظریں سیدھی گدی پرہیں اور اس کے آتے ہی اقتدار کی جنگ ایک نئے موڑ پر پہنچ جاتی ہے۔ بینا ترپاٹھی (رسیکا دگل) اور شرد شکلا (انجم شرما) بھی اپنے اپنے انداز میں چالیں چل رہے ہیں۔
اب معاملہ صرف گدی بچانے کا نہیں بلکہ مرزا پور پر حکمرانی قائم کرنے کا ہے۔ آخر اس گدی پر کس کا قبضہ ہوگا اور مرزا پور کا اصل بادشاہ کون بنے گا؟ اس سوال کا جواب جاننے کیلئے فلم دیکھنی ہوگی۔
ہدایت کاری
’مرزا پور: دی مووی‘ کے تعلق سےشائقین کے درمیان پہلے ہی دو طرح کی رائےموجود تھی۔کچھ لوگ اس میں نئے پن کے ساتھ سیریزسےجڑی پرانی یادوں کا لطف اٹھانے کے خواہش مند تھے، جبکہ بعض کے ذہن میںیہ سوال تھا کہ ۳؍سیزن کی طویل کہانی کے بعدآخر فلم میں نیا کیا باقی رہ گیا ہے۔ فلم کے فرسٹ ہاف میں جب کہانی کسی خاص حیران کن موڑ کے بغیر آگے بڑھتی ہے تو یہ سوال کسی حد تک درست محسوس ہوتاہے۔تاہم کرداروں اور کہانی کی بنیاد قائم کرنے کے بعد جیسے ہی فلم سیکنڈ ہاف میں داخل ہوتی ہے، اصل لطف شروع ہو جاتا ہے۔
فلم میں اگرچہ حیران کر دینےوالے لمحات کی تعداد زیادہ نہیں، لیکن نئے ٹریک اور نئے فنکاروں کی آمد کہانی کو باندھے رکھتی ہے۔ ڈارک کامیڈی اورچست مکالمے اب بھی اپنا اثر برقرار رکھتے ہیں۔ کئی ایسے غیر متوقع اور دلچسپ لمحات سامنے آتے ہیں جو ناظرین کو محظوظ کرتےہیں۔خاص طور پر کالین بھیا، جے پی یادو اور منا بھیا سے متعلق ایک طویل سیکوئنس خاصا مزاحیہ بن پڑا ہے اور ناظرین کو خوب ہنساتا ہے۔سیکنڈ ہاف میں شامل کار چیز سیکوئنس بھی تناؤ اور دلچسپ نوک جھونک کے عمدہ امتزاج کی وجہ سے توجہ مبذول کرواتا ہے۔ البتہ مرزا پور کی دنیا اور اس کے مزاج کو دیکھتے ہوئے ایکشن کو مزید بڑے پیمانے اور شدت کے ساتھ پیش کیا جا سکتا تھا۔
اداکاری
اداکاری کے معاملے میں بھی فلم کی متنوع اور عجیب و غریب کرداروں پر مشتمل کاسٹنگ کام کرتی ہے۔ چھوٹے سے چھوٹا کردار بھی اپنے حصے میں توجہ حاصل کرتا ہے۔ علی فضل اپنی مضبوط جسامت اور مؤثر اداکاری سے یاد رہتے ہیں، جبکہ پنکج ترپاٹھی کالین بھیا کے مخصوص انداز، رعب اور خوف کو پوری طرح برقرار رکھتے ہیں۔
ببلو ترپاٹھی کے کردار میں جتندرکمار اچھی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، اگرچہ بعض مقامات پر وکرانت میسی کی یاد ضرور آتی ہے۔ دوسری طرف منا بھیا کے کردار میں دیویندو شرما نے اپنے اینٹی ہیرو والے مخصوص انداز اور سوئیگ کو برقرار رکھا ہے۔ ان کا مکالمہ ’جیسلمیر ہم کو نہیں دیکھا ہے‘ اور فلم کے کئی مناظر یاد رہ جاتے ہیں۔ خواہ کیک والا منظر ہو یا جے پی یادو کے ساتھ ان کا سیکوئنس، دونوں ہی دلچسپ انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ ’مرزا پور‘کی دنیا اور اس کے کرداروں کے مداح ہیں تو یہ فلم یقیناً آپ کے لیے ہے۔ منا بھیا کا مخصوص سوئیگ، روی کشن کی نئی انٹری، طاقتور مکالمے،دیسی ماحول اور ایکشن سے بھرپور مناظر اس فلم کو دیکھنے کی وجوہات فراہم کرتے ہیں۔